انا للہ و إنا إلیہ راجعون
سنہ چورانوے تک (جو ہمارا لڑکپن کا زمانہ تھا) ڈاکٹر نسیم نکہت صاحبہ جب جب لکھنؤ کے عالمی مشاعرے میں تشریف لائیں ہم نے ان پر بہت زیادہ ہُوٹنگ کی حالانکہ اُن دنوں وہ ان محفلوں میں شرکت کرنے والی سب سے اعلٰی شاعرہ ہوا کرتی تھیں، پھر سنہ نناوے میں جب وہ دوحہ قطر کے عالمی مشاعرے میں آئیں تو ہم تھوڑے بہت ” سُدھر ” چکے تھے
مشاعرے کے بعد دوسرے دن ہمارا انڈیا کا آخری سفر تھا جس میں جون ایلیا، حضرت قاسمی مرحوم، شہزاد احمد صاحب، بشیر بدر صاحب، زبیر رضوی، منور رانا، مخمور سعیدی، حضرت والی آسی مرحوم وغیرہ ہمارے ساتھ تھے، جہاز میں ڈاکٹر صاحبہ کی نشست ہمارے ساتھ ہی تھی اس لیے دورانِ سفر وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا، کچھ کھٹی میٹھی گفتگو بھی ہوئی مثلاً جب ان کے ایک شعر پر میں نے کڑی تنقید کی تو انہوں نے ناگواری کا اظہار کیا تھا اور وہ شعر یہ تھا
وہ تھکا ہارا تھا بستر پہ آتے ہی سو گیا
چوڑیاں ہاتھوں میں بے مقصد کھنکتی رہ گئیں
کراچی ائیرپورٹ پر لینڈنگ سے پہلے جب طیارے کے عملے کی طرف سے اپنے تاثرات لکھنے کے لیے ایک سلِپ دی گئی اور اس پر جو سخت سست الفاظ میں ان کی سروس پر مَیں نے تنقید کرنے کے بعد انہیں سنایا تو انہوں نے فلک شگاف قہقہ لگاتے ہوئے میرے خیالات کی تائید کی تھی (آہ! کیسی خوبصورت ہنسی تھی زندگی سے بھرپور) کراچی کے ائیرپورٹ پر چودہ گھنٹے ہم سب نے ایک ساتھ ہی وقت گزارا اور جب بچھڑے تو انہوں نے وعدہ لیا تھا کہ جب بھی لکھنؤ آؤگے مجھ سے ضرور ملو گے! بہت سارا وقت گزر گیا لیکن اب بھی ایسا لگتا ہے جیسے کل کی بات ہو
ابھی ان کی وفات کا سن کر سب کچھ یاد آ گیا اور دل بوجھل بوجھل سا محسوس ہونے لگا ہے
اللہ غریق رحمت کرے اور ان کی سئیات کو حسنات میں بدل دے
(ابوالحسن علی ندوی)
دو سال قبل کی تحریر