اللہ کی رحمت پر بھروسہ کر لیا جائے ، اس کے فضل سے مایوسی نہ ہونے دی جائے تو خوف نہیں رہتا – کوئی رات ایسی نہیں آئی جو ختم نہ ہوئی ہو – کوئی غلطی ایسی نہیں جو معاف نہ کی جا سکے -کوئی انسان ایسا نہیں جس پر رحمت کے دروازے بند ہوں، رحم کرنے والے کا کام ہی یہی ہے کہ رحم کرے – رحم اس فضل کو کہتے ہیں جو انسانوں پر ان کی خامیوں کے باوجود کیا جائے – اور یہ رحم ہوتا ہی رہتا ہے-
(کتاب: دل دریا سمندر )
واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ

اللہ کی رحمت پر بھروسہ کر لیا جائے ، اس کے فضل سے …
Comments
One response to “اللہ کی رحمت پر بھروسہ کر لیا جائے ، اس کے فضل سے …”
-
An’amta Jutt
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔