!! اللہ جب کسی کو بلند کرنا چاہتا ہے !!
زندگی میں ایک عجیب مرحلہ ایسا آتا ہے جب انسان کو لگتا ہے کہ سب کچھ اس کے خلاف ہو گیا ہے۔ وہ لوگ جن سے سب سے زیادہ امید ہوتی ہے، وہی فاصلے بنا لیتے ہیں۔ عزیز، رشتہ دار اور دوست اچانک اجنبی ہو جاتے ہیں۔ جن کے ساتھ انسان نے خواب دیکھے ہوتے ہیں، وہی اس کے راستے میں دیوار بن جاتے ہیں۔
اس وقت انسان سمجھتا ہے کہ شاید اس کی دنیا ختم ہو رہی ہے۔ مگر حقیقت اکثر اس کے برعکس ہوتی ہے۔ کبھی کبھی اللہ انسان کو لوگوں سے نہیں، بلکہ لوگوں کی توقعات سے آزاد کر رہا ہوتا ہے۔
جب تک انسان اپنے قریبی لوگوں کے سہارے پر کھڑا رہتا ہے، اس کی نظر انہی پر رہتی ہے۔ مگر جب وہ سہارے ٹوٹتے ہیں تو انسان مجبور ہو کر اللہ کی طرف دیکھتا ہے۔ وہ وہیں سے طاقت مانگتا ہے جہاں سے اصل طاقت آتی ہے۔
تاریخ اس حقیقت سے بھری پڑی ہے۔
حضرت Yusuf (prophet) کی زندگی اس کی واضح مثال ہے۔ اپنے ہی بھائیوں نے انہیں کنویں میں پھینک دیا۔ وہی بھائی جو خون کے رشتے تھے، وہی ان کے دشمن بن گئے۔ بظاہر یہ ایک ظلم تھا، ایک سانحہ تھا۔ مگر حقیقت میں وہی کنواں ایک ایسے سفر کی ابتدا تھا جو انہیں مصر کے اقتدار تک لے گیا۔
اگر وہ کنویں میں نہ پھینکے جاتے تو شاید وہ وہاں تک نہ پہنچتے جہاں اللہ نے انہیں پہنچانا تھا۔
زندگی کا اصول بڑا سخت مگر سچا ہے:
کبھی کبھی اللہ انسان کو اوپر اٹھانے سے پہلے اسے تنہا کر دیتا ہے۔ وہ اس کے آس پاس کے سہارے ہٹا دیتا ہے، تاکہ انسان صرف ایک ہی سہارے کو پہچان لے۔
جو لوگ اس مرحلے کو سمجھ جاتے ہیں، وہ ٹوٹتے نہیں بلکہ مضبوط ہو جاتے ہیں۔ اور جو نہیں سمجھتے، وہ شکایتوں میں اپنی زندگی ضائع کر دیتے ہیں۔
یاد رکھو،
کبھی کبھی تمہارے خلاف ہونے والے لوگ دراصل تمہیں روک نہیں رہے ہوتے، بلکہ غیر محسوس طریقے سے تمہیں اس راستے پر دھکیل رہے ہوتے ہیں جہاں تمہیں پہنچنا ہے۔
اور جب اللہ کسی کو بلند کرنا چاہے تو پھر کنواں بھی راستہ بن جاتا ہے۔
تحریر ارشدحسین
Source