اس واسطے دامن چاک کیا شاید یہ جنوں کام آ جائے
دیوانہ سمجھ کر ہی ان کے ہونٹوں پہ مرا نام آ جائے
میں خوش ہوں اگر گلشن کے لیے کچھ میرا لہو کام آ جائے
لیکن مجھ کو ڈر ہے اس کا گلچیں پہ نہ الزام آ جائے
اے کاش ہماری قسمت میں ایسی بھی کوئی شام آ جائے
اک چاند فلک پر نکلا ہو، اک چاند سرِ بام آ جائے
مے خانہ سلامت رہ جائے اس کی تو کسی کو فکر نہیں
مے خوار ہیں بس اس خواہش میں ساقی پہ کچھ الزام آ جائے
… More
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔