اساطیر سے متعلق بورخیس کی ایک کتاب The book of imaginary beings مجھے اتنی دلچسپ معلوم ہوئی کہ پڑھنا شروع کیا اور بالاخر ترجمہ کر ڈالا۔ اب ترجمے کی نوعیت کیسی ہے یہ توجب کتابی صورت میں آئے گی (پتہ نہیں کب آئے گی ) تب کی بات ہے۔ فی الحال اس کتاب کے چند جانوروں سے لطف کشید کیجئے۔
چھ ٹانگوں والااینٹی لوپس
یہ کہا جاتا ہے کہ اوڈِن کابھورے رنگ والاگھوڑا سلیپنر (Sleipnir)، جو زمین ، ہوا اور نیچے جہنم کے خطوں کے پاس سفر کرتا ہے، آٹھ ٹانگوں کے ساتھ دیاجاتا ہے (شائد ناکام بنانے کے لئے) ۔ ایک سائبرین اساطیر چھ ٹانگوں والے اینٹی لوپس کی خاصیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس طرح کی بندش کے ساتھ ان کو پکڑنا تقریباًمشکل اور ناممکن تھا۔ تنک پوج (Tunk-poj)، ایک الوہی شکاری مقدس درخت کی لکڑی سے برف پر پھسلنے والے خاص جوتے بناتا ہے جو متواتر چرمراتے ہیں اور ایک کتے کے بھونکنے کی آواز اس پر ظاہر ہوچکی تھی۔ چرمرانے کے ساتھ ساتھ وہ جوتے کسی تیرمانند تیز رفتار ہیں۔ ان کو سنبھالنے اور چکر لینے اور رکنے کے لئے، اس نے ضروری محسوس کیا کہ ان پھسلنے والے جوتوں کو روکنے کے لئے ایک اور جادوئی درخت کی لکڑ ی سے کچھ میخیں بنائی جائیں۔ جنت کے اوپر سے تنک پوج نے اینٹیلوپ کا شکار کیا۔ وہ درندہ تھک کر زمین پر گر پڑا اور تنک پوج نے اس کی ٹانگوں کی سب سے پچھلی جوڑی کو کاٹ دیا۔
نک پو ج نے کہا’آدمی‘ ننھا پیدا ہوتا ہے اور ہر دن کے ساتھ کمزور ہوتا جاتا ہے۔ کیسے وہ اس چھ پائوں والے اینٹی لوپس کا شکار کرتا اور میں نے خود بمشکل اس کا شکار کیا ہے؟۔
اس دن سے ، انٹی لوپس چوپائے بن گئے۔
=-=-=-=-=-=-=-==-=
باہامت
نک پو ج نے کہا’آدمی‘ ننھا پیدا ہوتا ہے اور ہر دن کے ساتھ کمزور ہوتا جاتا ہے۔ کیسے وہ اس چھ پائوں والے اینٹی لوپس کا شکار کرتا اور میں نے خود بمشکل اس کا شکار کیا ہے؟۔
اس دن سے ، انٹی لوپس چوپائے بن گئے۔
=-=-=-=-=-=-=-==-=
باہامت
بیہیموت کی شہر ت عرب کے ویرانوں تک پہنچ گئی تھی، وہاں کے لوگوں نے اس کے تصور کو تبدیل کردیا۔ ایک دریائی گھوڑے یا ہاتھی سے انہوں نے اسے ایک مچھلی میں تبدیل کردیا ، جو سمندر کی گہرائیوں میں تیرتی ہے۔مچھلی کو انہوں نے بیل سے بدل دیااور بیل کے اوپر ایک سرخ پہاڑاور پہاڑ پر ایک فرشتہ اور فرشتے کے اوپر چھ جہنم اور جہنموں کے اوپر دنیا اور دنیا کے اوپر سات جنتیں۔ ایک مسلم روایت سے پتہ چلتا ہے:
خدا نے دنیا بنائی، لیکن دنیا کی کوئی بنیاد نہیں تھی تو دنیا کے نیچے اس نے ایک فرشتہ بنایا۔ لیکن فرشتے کی کوئی بنیاد نہیں تھی تو فرشتے کے قدموں کے نیچے اس نے یاقوت کا پہاڑ بنایا۔ لیکن پہاڑ کی کوئی بنیاد نہیں تھی تو اس نے ایک بیل بنایا اور اسے چار ہزار آنکھیں ، نتھنے، منہ، اور زبانیں عطا کریں۔ لیکن بیل کی کوئی بنیاد نہیں تھی تو بیل کے نیچے اس نے ایک مچھلی بنائی جس کانام باہا مت ہےاور مچھلی کے نیچے اس نے پانی ا ورپانی کے نیچے اندھیرارکھ دیا اور اس سے آگے انسان کا علم پہنچ نہیں سکتا۔ دوسرے یہ کہتے ہیں کہ پانی کے اوپر زمین کی اپنی بنیاد ہے؛ پانی، پہاڑ پر۔پہاڑ، بیل کے سر کے اوپر۔بیل ریت کے بستر پر۔ ریت باہامت پر۔ باہامت گرم ریت پر۔ گرم ریت دھند پر۔ دھند کے بیچ کیا ہے وہ نامعلوم ہے۔ باہات اتنا شاندارہے کہ انسانی آنکھ اس کا جلوہ برداشت نہیں کرسکتیں ۔ دنیا کے تمام سمندر، مچھلی کے ایک نتھنے پر رکھے ہوئے جیسے ایک رائی کا دانہ صحرا میں پڑا ہو۔ الف لیلہ کی چار سو چھیانویں رات میں ہمیں بتایا گیا کہ عیسیٰ پر عطا ہوئی اور انہیں کہا گیا کہ باہامت کو دیکھیں، رحمت کا نزول جب جاری ہوا، عیسیٰ بے ہوش ہوکر زمین پر گر گئے، اور تین دن اور راتیں گزرچکی تھیں جب ان کی حسیات واپس لوٹیں۔ یہ کتھا آگے بڑھتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ یہ غیر پیمائشی مچھلی دراصل سمندر ہے؛ اور سمندر کے نیچے، ہوا کی دراڑ ہے؛ اور ہوا کے نیچے آگ اور آگ کے نیچے ایک ناگ ہے نام اس کا فلک ہے جس کے منہ میں چھہ جہنم ہیں۔پہاڑ کا خیال بیل کو آرام پہنچانے کے لئے ہے، اور بیل باہامت پر، اور باہامت ہر چیز پر، ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک مثال ہے جو خدا کی موجودگی کاکا ئناتی ثبوت ہے۔ یہ ثبوت جراح کرتا ہے کہ ہر سبب کا ایک پہلا سبب ہوتا ہے، اور اس طرح، لامحدودیت میں آگے بڑھنے سے بچنے کے لئے ایک پہلا سبب ضروری ہے۔
خدا نے دنیا بنائی، لیکن دنیا کی کوئی بنیاد نہیں تھی تو دنیا کے نیچے اس نے ایک فرشتہ بنایا۔ لیکن فرشتے کی کوئی بنیاد نہیں تھی تو فرشتے کے قدموں کے نیچے اس نے یاقوت کا پہاڑ بنایا۔ لیکن پہاڑ کی کوئی بنیاد نہیں تھی تو اس نے ایک بیل بنایا اور اسے چار ہزار آنکھیں ، نتھنے، منہ، اور زبانیں عطا کریں۔ لیکن بیل کی کوئی بنیاد نہیں تھی تو بیل کے نیچے اس نے ایک مچھلی بنائی جس کانام باہا مت ہےاور مچھلی کے نیچے اس نے پانی ا ورپانی کے نیچے اندھیرارکھ دیا اور اس سے آگے انسان کا علم پہنچ نہیں سکتا۔ دوسرے یہ کہتے ہیں کہ پانی کے اوپر زمین کی اپنی بنیاد ہے؛ پانی، پہاڑ پر۔پہاڑ، بیل کے سر کے اوپر۔بیل ریت کے بستر پر۔ ریت باہامت پر۔ باہامت گرم ریت پر۔ گرم ریت دھند پر۔ دھند کے بیچ کیا ہے وہ نامعلوم ہے۔ باہات اتنا شاندارہے کہ انسانی آنکھ اس کا جلوہ برداشت نہیں کرسکتیں ۔ دنیا کے تمام سمندر، مچھلی کے ایک نتھنے پر رکھے ہوئے جیسے ایک رائی کا دانہ صحرا میں پڑا ہو۔ الف لیلہ کی چار سو چھیانویں رات میں ہمیں بتایا گیا کہ عیسیٰ پر عطا ہوئی اور انہیں کہا گیا کہ باہامت کو دیکھیں، رحمت کا نزول جب جاری ہوا، عیسیٰ بے ہوش ہوکر زمین پر گر گئے، اور تین دن اور راتیں گزرچکی تھیں جب ان کی حسیات واپس لوٹیں۔ یہ کتھا آگے بڑھتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ یہ غیر پیمائشی مچھلی دراصل سمندر ہے؛ اور سمندر کے نیچے، ہوا کی دراڑ ہے؛ اور ہوا کے نیچے آگ اور آگ کے نیچے ایک ناگ ہے نام اس کا فلک ہے جس کے منہ میں چھہ جہنم ہیں۔پہاڑ کا خیال بیل کو آرام پہنچانے کے لئے ہے، اور بیل باہامت پر، اور باہامت ہر چیز پر، ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک مثال ہے جو خدا کی موجودگی کاکا ئناتی ثبوت ہے۔ یہ ثبوت جراح کرتا ہے کہ ہر سبب کا ایک پہلا سبب ہوتا ہے، اور اس طرح، لامحدودیت میں آگے بڑھنے سے بچنے کے لئے ایک پہلا سبب ضروری ہے۔
=-=-=-=-=-=-=-==-=
ایک جانور جسے کافکا نے تصور کیا
ایک جانور جسے کافکا نے تصور کیا
وہ ایک لمبی دم والاجانور ہے، جو کسی لومڑی کی دم کی طرح کئی گز لمبی ہے۔ میں اکثر اپنے ہاتھوں کو اس کی دم پر پھیرنے سے باز رکھتا ہوں، لیکن یہ ناممکن ہے، یہ جانور مسلسل حرکت کرتا ہے، اس کی دم کبھی ادھر کبھی اُدھر مسلسل حرکت میں رہتی ہے۔ یہ جانور کینگرو سے مشابہت رکھتا ہے، لیکن چہرے سے ویسا بالکل نہیں ہے، اس کا چہرہ سپاٹ ہے کسی انسان کی طرح چھوٹا اور گول ہے ۔صرف اس کے دانت ہی کسی قسم کے اظہار کی قوت رکھتے ہیں، چاہے وہ پوشیدہ ہوں یا بند۔ کبھی کبھار مجھے لگتا ہے کہ یہ جانور مجھے پالتو بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے علاوہ اور کیا مقصد ہوسکتا ہے کیونکہ جب بھی میں اس کی دم پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں وہ اسے چھپا لیتا ہے، اور پھر آرام سے میر ے پرسکون ہونے کا انتظار کرتا ہے جب تک کہ میں دوبارہ آزمائش میں نہ پڑجائوں، اور وہ ایک بار پھر اچھل کر دور ہوجائے؟
=-=-=-=-=-=-=-==-=
ایک ہاتھی جس نے بدھا کی پیدائش کی پیشن گوئی کی
=-=-=-=-=-=-=-==-=
ایک ہاتھی جس نے بدھا کی پیدائش کی پیشن گوئی کی
عیسائی دور سے پانچ صدیاں قبل نیپال کی رانی مایاایک خواب دیکھتی ہے ۔جس میں ایک سفید ہاتھی جو سنہرے پہاڑ پر رہتا تھا، اس کے جسم میں داخل ہوجاتا ہے۔ دخول کرجانے والایہ آدرشی درندہ چھ دانتوں سے لیس ہوتا ہے۔ بادشاہ کے نجومی یہ پیشن گوئی کرتے ہیں کہ رانی ایک بیٹے کو جنم دے گی جو دنیا پر حکومت کرے گا یا انسانیت کو بچائے گا۔ جتنا ہمیں علم ہے اس کے مطابق آخر الذکر پیشن گوئی درست ثابت ہوئی۔
ہندوستان میں ہاتھی ایک گھریلو جانور ہے۔ سفید رنگ عاجزی کی علامت ہے اور چھ کا عدد مقدس ہے، خلا کے چھ طول و عرض کے مطابق یعنی اوپر کی طرف ، نیچے کی طرف، آگے ، پیچھے دائیں اور بائیں۔
=-=-=-=-=-=-=-==-=
گرودا
ہندوستان میں ہاتھی ایک گھریلو جانور ہے۔ سفید رنگ عاجزی کی علامت ہے اور چھ کا عدد مقدس ہے، خلا کے چھ طول و عرض کے مطابق یعنی اوپر کی طرف ، نیچے کی طرف، آگے ، پیچھے دائیں اور بائیں۔
=-=-=-=-=-=-=-==-=
گرودا
وشنو، تری دیو کا دوسرا دیوتا جو تمام ہندو دیوتائوں پر حکومت کرتا ہے، وہ یا تو ایک ناگ پر سوا ری کرتا ہے جو سمندروں کو بھرسکتا ہے یا گرودا کی پشت پر ۔ واضح طور پروشنو کو چار نیلے اورسفید بازووں ، جبکہ ہر ہاتھ میں ایک ترشول، سیپی، دائرہ اور کنول کے پھول کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔گرودا آدھا گدھ اور آدھا انسان ہے، پنکھ ، چونچ اور پنجے گدھ کے ، اورٹانگیں انسانوں کی مانند ہوتی ہیں ۔ اس کا چہرہ سفید ، پنکھ چمکدار سرخ اور جسم سنہرا ہوتا ہے۔ گرودا کی اشکال ، کانسی یا پتھر سے تراش کر انڈیا کے مندروں میں اُس کی پوجا کی جاتی تھی۔ ایک گوالیار میں تلاش کرلیا گیا،جسے عیسائیت کے زمانےسے سوسال قبل ایک یونانی ہیلیوڈورس(Heliodorus)نے تعمیر کیاتھا ۔ جو وشنو کا بھگت بن گیا تھا۔
گرودا پورانا میںجو ہندوعلم کی روایات میںبہت سے پرُانوں میں سے ایک ہے ۔ گرودا کائنات کی شروعات کو تفضیل سے بیان کرتا ہوا وشنو کے شمسی جوہر، مسلک کے رسم و رواج، سورج اور چاند کی نسل کے بادشاہوں کے شجرہ نسب ، رامائن کے پلاٹ اور بہت معمولی موضوعات جیسے سطروں کا ہنر، قواعدِ زبان اور ادویات کے ذکر پر ختم ہوجاتا ہے۔
ساتویں صدی کا ایک ناٹک سانپوں کی مسرت کہلایا جس کی گرفتاری میں ایک بادشاہ کا ہاتھ ہوتا ہے، گرودا ہر دن ایک سانپ کھاتا ہے (غالباً چھتری والاکوبرا)حتیٰ کہ ایک بودھ شہزادہ اُسے اعتدال کی اہمیت سکھاتا ہے۔ آخری حصے میںشرمسار گرود ابہت سے سانپوں کی نسلوں کی ہڈیوں سے واپس انہیں زندہ کردیتا ہے۔ ایگلنگ (Eggeling)کے مطابق یہ کہانی بودھ ازم پر شائد براہمن طنز ہے۔
نمبارکاجو ایک جوگی تھاجس کا زمانہ غیر متعین ہے، لکھتا ہے کہ گرودا کی روح ، اُس کے تاج، بالیوں اوربانسری کی طرح ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے۔
گرودا پورانا میںجو ہندوعلم کی روایات میںبہت سے پرُانوں میں سے ایک ہے ۔ گرودا کائنات کی شروعات کو تفضیل سے بیان کرتا ہوا وشنو کے شمسی جوہر، مسلک کے رسم و رواج، سورج اور چاند کی نسل کے بادشاہوں کے شجرہ نسب ، رامائن کے پلاٹ اور بہت معمولی موضوعات جیسے سطروں کا ہنر، قواعدِ زبان اور ادویات کے ذکر پر ختم ہوجاتا ہے۔
ساتویں صدی کا ایک ناٹک سانپوں کی مسرت کہلایا جس کی گرفتاری میں ایک بادشاہ کا ہاتھ ہوتا ہے، گرودا ہر دن ایک سانپ کھاتا ہے (غالباً چھتری والاکوبرا)حتیٰ کہ ایک بودھ شہزادہ اُسے اعتدال کی اہمیت سکھاتا ہے۔ آخری حصے میںشرمسار گرود ابہت سے سانپوں کی نسلوں کی ہڈیوں سے واپس انہیں زندہ کردیتا ہے۔ ایگلنگ (Eggeling)کے مطابق یہ کہانی بودھ ازم پر شائد براہمن طنز ہے۔
نمبارکاجو ایک جوگی تھاجس کا زمانہ غیر متعین ہے، لکھتا ہے کہ گرودا کی روح ، اُس کے تاج، بالیوں اوربانسری کی طرح ہمیشہ کے لئے محفوظ ہے۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2759264574304058

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔