اردو زبان و ادب کی ممتاز ترین شاعرہ رابعہ پنہاںؔ …


اردو زبان و ادب کی ممتاز ترین شاعرہ رابعہ پنہاںؔ کا یومِ وفات
09؍اکتوبر 1972
نام پنہاں سپہر آرا خاتون اور تخلص رابع پنہاں تھا۔ 07؍اگست 1906ء کو سہارن پور اتر پردیش میں پیدا ہوئیں۔ رابعہ پنہاں کے والد مولوی عبدالاحد کا تعلق بریلی کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے سے تھا اور ملازمت کے سلسلے میں الہ آباد میں رہتے تھے۔ رابعہ نے وہیں گھر پر ہی اپنے والد سے اردو اور فارسی کی ساتھ انگریزی کی تعلیم حاصل کی۔ 1928ء میں صوفی صغیر، پرنسپل اسلامیہ کالج الہ آباد، سے شادی ہوئی۔ ان کے ساتھ کچھ عرصہ دہلی میں بھی گذارا۔
رابعہ کی شعر گوئی کا آغاز 1921ء میں ہوا۔ شروع میں انھوں نے ماجدؔ الہ آبادی سے اصلاح سخن لی اس کے بعد سیماب اکبر آبادی کی شاگردی میں آگئیں۔ رابعہ پنہاں کا شمار ممتاز شاعرات میں ہوتا تھا۔ ان کی سگی بہنیں بلقیس جمال اور غزالہ بریلوی بھی اپنے وقت کی خوش گو شاعرات تھیں۔ تینوں بہنوں کا کلام اپنے عہد کے مقتدر ادبی رسائل اور اخبارات میں شائع ہوتا تھا۔
رابعہ پنہاںؔ 09؍اکتوبر 1972ء کو کراچی سندھ میں انتقال کر گئیں۔
منتخب کلام
—-
سینہ ہے ایک یاس کا صحرا لیے ہوئے
دل رنگ گلستان تمنا لئے ہوئے
ہے آہ درد و سوز کی دنیا لیے ہوئے
طوفان اشک خون ہے گریہ لئے ہوئے
اک کشتۂ فراق کی تربت پہ نوحہ گر
داغ جگر میں شمع تمنا لئے ہوئے
میں اک طرف ہوں شکل خزاں پائمال یاس
اک سمت وہ بہار کا جلوہ لئے ہوئے
جانا سنبھل کے اے دل بیتاب بزم میں
ہے چشم ناز محشر غم زا لئے ہوئے
سوزاں نہ یہ چمن ہو مرے نور آہ سے
او گلشن جمال کا جلوہ لئے ہوئے
مجنوں سے تو حقیقت صحرائے نجد پوچھ
ہے ذرہ ذرہ جلوۂ لیلیٰ لئے ہوئے
عشق جنوں نواز رہا بزم ناز میں
اک اضطراب و شوق کی دنیا لئے ہوئے
میری تو ہر نگاہ ہے وقف عبودیت
وہ ہر ادا میں حسن کلیسا لئے ہوئے
مرہم سے بے نیاز ہے پنہاںؔ یہ زخم دل
کیا کیا فسوں ہے چشم دل آرا لئے ہوئے
—
سکوت شب کی ہے جلوہ فروشی
ہے موجودات پر چھائی خموشی
فضائے شام کو نیند آ رہی ہے
مناظر پر سیاہی چھا رہی ہے
ہے بدلا رنگ دن کے شور و شر کا
ہوا تاریکیوں کا دور دورا
رکا ہنگامہ ہائے دن کا محشر
بڑھا شب کا سکوں بر دوش منظر
ہے آخر روز روشن کی کہانی
ہوئی تاریک برد آسمانی
گیا راحت کدے میں مہر تاباں
ہوئے انوار آتش بار پنہاں
ہے تاریکی پیام خواب نوشیں
خموشی ہے نوید رنگ تسکیں
فضائے غرب ہے پیغام راحت
افق کی خامشی الہام راحت
ہے رنگینی فضا کی کیف عشرت
شفق کی سرخیاں سامان فرحت
ہواؤں میں بھرے ہیں نغمۂ شب
ہے راحت زا رباب زخمۂ شب
ہوا روشن نگار شب کا جلوہ
ہیں تنویریں فلک پر کار فرما
ستاروں کی تبسم باریوں میں
کواکب کی منور دھاریوں میں
سطور کہکشاں کی لغزشوں میں
ثریا کی مجلا تابشوں میں
فضائے سیم آرائے فلک میں
افق کی روشن و زریں جھلک میں
ضیا افروز ہے ماہ درخشاں
لبوں کی تابشیں ہیں خندہ افشاں
فضائے آسمانی رہگزر ہے
مسافر رات کا گرم سفر ہے
سیاہی شب کی ہے ہم راز و ہم دم
سکوت شام ہے دم ساز و محرم
ہے تنہائی سے رسم آشنائی
خیال ماسوا سے بے نیازی
سفر کی کیفیت مد نظر ہے
کہ تخئیل سفر لطف سفر ہے
خبر ہی کچھ نہیں حد سفر کی
نہ کچھ پرواہ طول رہگزر کی
خموش و مطمئن ہے جادہ پیما
جبیں پر استقامت جلوہ فرما
سکوت شب میں جو یوں سرگراں ہے
مہ کامل تری منزل کہاں ہے
تری رہبر افق کی خامشی ہے
انیس و ہم سفر اک چاندنی ہے
کمال زیست تیری جستجو ہے
یہ طرز سعی حد آبرو ہے
سبق آموز تیری داستاں ہے
تجھے حاصل کمال کامراں ہے
تری سعی عمل لا انتہا ہے
ابد تک اس سفر کا سلسلہ ہے
………………………