احمد ندیم قاسمی
قطرہ مانگے جو کوئی تُو اُسے دریا دے دے
مُجھ کو کچھ اور نہ دے، اپنی تمنا دے دے
وہ جو آسوُدگی چاھیں انہیں آسوُدہ کر
بے قراری کی لطافت مجھے تنہا دے دے
میں اس اعزاز کے لائق تو نہیں ھوں لیکن
مجھ کو ھمسائیگیء گنبد خضراء دے دے
غم تو اِس دور کی تقدیر میں لکھے ھیں مگر
مُجھ کو ھر غم سے نمٹ لینے کا یارا دے دے
تب سمیٹوں میں ترے ابرِ کرم کے موتی
میرے دامن کو جو تو وسعتِ صحرا دے دے
تیری رحمت کا یہ اعجاز نہیں تو کیا ھے
قدم اُٹھیں تو زمانہ مجھے رَستا دے دے
جب بھی تھک جائے محبّت کی مسافت میں ندیم
تب تِرا حُسن بڑھے اور سنبھالا دے دے

احمد ندیم قاسمی قطرہ مانگے جو کوئی تُو اُسے دریا د…
Comments
25 responses to “احمد ندیم قاسمی قطرہ مانگے جو کوئی تُو اُسے دریا د…”
-
SUBHAN ALLAH
-
MashaAllah. Excellent by ANQ
-
Subhan Allah
-
ماشاء اللہ ،
-
Legendary poet from Khushab district.RIP,aameen
-
Bahut khoob
-
سبحان اللّٰہ سبحان اللّٰہ
-
Allah pak Ahmed nadeem qasmi sb ko jannat mai ala moqam ata farmaye
-
Masha Allah bht khoob
-
Nice
-
SubhanaAllah
-
Subhanallah. Bohut khoob
-
سبحان اللہ
-
کہا کہنے قاسمی صاحب کے بہت خوب ۔
-
bohat aala kalam
-
سبحان اللہ
-
Nice
-
تیری رحمت کا یہ اعجاز نہیں تو کیا ہے
قدم جب اٹھیں تو زمانہ راستہ دے دے -

-
Kamaaaaaaal dilaawez????????????
-
کچھ نہیں مانگتا شاھوں سی یہ شیدا تیرا میری منزل توھے فقط نقش قف پا تیرا
-
Subhan Allha
-
Kamaaal
-
Zabardast
-
Umdaa
جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔