احمد راہی کی وفات Sep 02, 2002 نامور شاعر احمد را…


احمد راہی کی وفات
Sep 02, 2002

نامور شاعر احمد راہی کی 13ویں برسی آج منائی گی

احمد راہی اعلی پائے کے مصنف ومکالمہ نویس اور نغمہ نگار تھے انھیں بیک وقت ارد و اور پنجابی پر دسترس حاصل تھی ۔
نام غلام احمداور تخلص راہی تھا
فلم ’’پاکیزہ‘‘ میں ملکہ ترنم نورجہاں کی مسحورکن آواز میں گایا ہوا یہ گیت ’’ تم تو کہتے تھے بہار آئے گی لوٹ آئونگا ‘‘ پھر فلم ’’باجی‘‘ کا یہ نغمہ ’’ بات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے‘‘ ہدایتکار مسعود پرویز کی فلم ’’ ہیر رانجھا‘‘ میں ان کا نغمہ ’’ سن ونجلی دی مٹھری تان وے‘‘ میں ’’ہو ہو‘‘ کی تکرار نے مصرعے کے وزن کو عمدہ ترین بنایا ۔ احمد راہی 12نومبر 1923ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔
اصل نام غلام احمد تھا۔ ابتدائی امرتسر میں ہی حاصل کی ۔1940میں میٹرک کرنے کے بعد ایم اے او کالج میں داخلہ لیا مگر تعلیم مکمل نہ کرسکے۔ پاکستان بننے کے بعد ایڈیٹر کی حیثیت سے ناول ’’سویرا‘‘ کی ذمے داری سنبھال لی۔ ان کے پنجابی شاعری کلام پر مشتمل کتاب ’’ترنجن‘‘ کا انگریزی ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی پبلشر نے شائع کیا۔ یہ شاعر، نغمہ نگار ، رائٹر دو ستمبر 2002ء میں لاہور میں وفات پا گیا۔

پنجابی ادب میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ ان کا نظموں کا مجموعہ ’ترنجن‘ ہے جو سن انیس سو باون میں شائع ہوا۔ اس وقت تک پنجابی کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ نازک احساسات اور جذبات کے اظہار کے لیے یہ زبان موزوں نہیں ہے لیکن احمد راہی ترنجن کے ذریعے اس تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب رہے۔

ترنجن کی نظموں میں تقسیم ہند کے وقت ہونے والے ہندومسلم فسادات میں عورتوں کے ساتھ جنسی زیادتی کو بڑے شاعرانہ طریقے سے پیش کیا گیا ہے:

ناں کوئی سہریاں والا آیا
تے ناں ویراں ڈولی ٹوری
جس دے ہتھ جد ی بانہہ آئی
لے گیا زور و زوری

(نہ کوئی سہرے والا آیا، نہ بھائیوں نے ڈولی اٹھائی، جس کے ہاتھ جو لگی وہ اسے زبردستی لے گیا)