“اب میں اس سوال کا جواب دوں گا کہ میں نے لکھنا کس طرح سیکھا۔
میں نے تاثرات براہ راست زندگی سے بھی حاصل کیے اور کتابوں سے بھی۔ پہلی قسم کے تاثرات کا مقابلہ خام مواد سے کیا جا سکتا ہے اور دوسری قسم کے تاثرات کا آدھی بنی ہوئی چیزوں سے۔ بات کو صاف طور سے سمجھانے کے لیے ایک اَن گھڑی مثال یہ دی جا سکتی ہے کہ پہلے معاملے میں تو میں ایک بیل دیکھ رہا تھا اور دوسرے معاملے میں اس کی خوبصورت بادامی کھال۔ میں غیرملکی ادب اور خاص طور سے فرانسیسی ادب کا بڑا احسان مند ہوں۔
میرے داد بڑے سخت دل کے اور کنجوس تھے لیکن میں نے انہیں کبھی اس طرح نہیں دیکھا تھا اور نہ اس طرح سمجھا تھا جیسا بالزاک کا ناول “بوژینی گراں دے“ پڑھنے کے بعد دیکھا اور سمجھا۔ بوژینی کا باپ بڈھا گراں دے بھی کنجوس، سخت دل اور عام طور پر میرے دادا کی طرح کا ہے۔ لیکن وہ اتنا ذہین اور دلچسپ نہیں ہے۔ میں اپنے بڈے روسی دادا کو پسند نہیں کرتا تھا لیکن جب میں نے ان کا مقابلہ اس فرانسیسی سے کیا تو ان کا قد و قامت بڑھتا نظر آیا۔ اس کی وجہ سے میں اپنا رویہ نہیں بدلا لیکن یہ بات میرے لیے ایک دریافت کا حکم رکھتی تھی کہ ایک تحریر میری جان پہچان کے کسی آدمی کے بارے میں مجھے وہ باتیں بتا سکتی تھی جو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں اور نہ اُن پر غور کیا تھا۔“
میکسم گورکی
بشکریہ
https://www.facebook.com/1876886402541884/posts/2150441028519752

جواب دیں
تبصرہ کرنے سے پہلے آپ کا لاگ ان ہونا ضروری ہے۔