’’ابا، یہ سو روپے رکھ لیں۔ پنشن مل جائے تو رکشہ کر کے گھر آ جائیے گا۔ مجھے دفتر سے دیر ہو رہی ہے۔‘‘
بیٹے نے باپ کو گاڑی سے اتارا، نوٹ اس کے ہاتھ میں تھمایا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔
افضل سڑک کنارے کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ گاڑی موڑ مڑ کر نظروں سے اوجھل ہو گئی تو اس نے مٹھی کھولی، سو روپے کا نوٹ سیدھا کیا اور پنشن کے کاغذات بغل میں دبا کر قطار کے آخری سرے پر جا کھڑا ہوا۔
قطار لمبی تھی۔ دھوپ تیز تھی۔ اور وہاں کھڑے تقریباً سبھی بوڑھے کسی نہ کسی کے باپ تھے۔
کسی کی کمر جھکی ہوئی تھی، کسی کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ ایک بوڑھا بار بار اپنی جیب سے عینک نکالتا اور کاغذات پر لکھی تحریریں پڑھنے کی کوشش کرتا۔ دوسرا چھڑی پر ٹھوڑی رکھے زمین کو دیکھ رہا تھا۔
افضل نے بھی گھڑی دیکھی۔
اسے گھر پہنچ کر دوائی کھانی تھی۔
قطار سرکتی رہی، دھوپ چڑھتی رہی۔
کچھ دیر بعد اس کے پیروں میں درد ہونے لگا۔ اس نے ایک بار دیوار کا سہارا لینے کی کوشش کی، مگر قطار آگے بڑھ گئی۔ وہ بھی دوسروں کے ساتھ دو قدم آگے ہو لیا۔
پھر اچانک اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا۔
وہ لڑکھڑایا اور سڑک کے کنارے بیٹھ گیا۔
کسی نے پلٹ کر دیکھا، کسی نے اپنے پاؤں بچا کر راستہ بدل لیا۔
افضل نے زمین پر ہاتھ رکھا۔ ہتھیلی میں مٹی لگ گئی۔
اور اسے یاد آیا کہ عارف جب بچپن میں گرتا تھا تو وہ اسے زمین سے اٹھانے سے پہلے اس کے کپڑے جھاڑا کرتا تھا، جیسے بچے کو چوٹ لگنے سے زیادہ تکلیف کپڑوں کے میلے ہونے کی ہو۔
’’میرے شیر کو کس نے گرایا؟‘‘ وہ ہنستے ہوئے پوچھتا۔
عارف روتے روتے ہنس پڑتا۔
آج افضل کی قمیص مٹی سے اٹی ہوئی تھی۔
اس نے گرد جھاڑنے کی کوشش کی، مگر ہاتھ کانپ رہا تھا۔
پھر اس کی نظر اپنی مٹھی میں دبے سو روپے کے نوٹ پر پڑی۔
صبح بیٹے نے کتنی جلدی میں یہ نوٹ دیا تھا۔
شاید واقعی دفتر میں دیر ہو رہی تھی۔
افضل نے خود کو سمجھایا۔
اس کا بیٹا برا نہیں تھا۔ بچپن میں وہی بیٹا بخار کی راتوں میں اس کے سینے سے لگ کر سویا کرتا تھا۔ اسکول میں کوئی بات ہو جاتی تو گھر آتے ہی سب سے پہلے باپ کو بتاتا تھا۔ اس کی پڑھائی کے لیے افضل نے کتنی بار اپنی ضرورتیں مؤخر کی تھیں، اسے اب حساب یاد نہیں تھا۔
بس اتنا یاد تھا کہ بیٹے کی ہر ضرورت اسے اپنی ضرورت سے پہلے دکھائی دیتی تھی۔
آج بھی اسے عارف سے کوئی رقم نہیں چاہیے تھی۔
پنشن اس کی اپنی تھی۔ دوائی کے پیسے بھی تھے۔ گھر میں کھانے کو بھی موجود تھا۔
صرف صبح گاڑی سے اترتے وقت وہ ایک لمحے کے لیے چاہتا تھا کہ عارف کہتا:
’’ابا، میں آپ کے ساتھ اندر چلتا ہوں۔‘‘
بس ایک لمحہ۔
اس نے آنکھوں پر ہاتھ پھیرا۔ پسینہ انگلیوں سے ہوتا ہوا کلائی تک آ گیا۔ آنکھوں میں نمی تھی یا پسینہ، وہ خود بھی فیصلہ نہ کر سکا۔
کچھ دیر بعد اس نے دیوار کا سہارا لے کر خود کو اٹھایا اور دوبارہ قطار میں کھڑا ہو گیا۔
ابھی اس کی باری نہیں آئی تھی۔
پنشن ملتے ملتے دوپہر گزر گئی۔
افضل نے رقم گنی، کاغذات سنبھالے اور پوسٹ آفس سے باہر نکل آیا۔
سڑک پر رکشے گزر رہے تھے۔
ایک رکشہ اس کے سامنے آ کر رکا۔
’’بابا جی، کہاں جانا ہے؟‘‘
افضل نے محلے کا نام بتایا۔
رکشے والے نے کرایہ بتایا تو اس نے جیب سے سو روپے کا نوٹ نکالا۔ نوٹ پر صبح سے پڑی شکنیں اب اور گہری ہو چکی تھیں۔
اس نے نوٹ کو دیکھا، پھر رکشے والے کو۔
’’نہیں بیٹا، پیدل چلا جاؤں گا۔‘‘
رکشے والا اسے دیکھتا رہا۔
’’بابا جی، دھوپ بہت ہے۔ بیٹھ جائیں۔‘‘
افضل نے سر ہلایا۔
’’بس، گھر قریب ہی ہے۔‘‘
گھر قریب نہیں تھا۔
مگر کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں آدمی پاؤں سے نہیں، اپنے اندر طے کرتا ہے۔
وہ چل پڑا۔
راستے میں ایک دکان کے باہر پانی کا کولر رکھا تھا۔ اس نے گلاس بھر کر پانی پیا اور دکاندار کو دعا دی۔ پھر آہستہ آہستہ گھر کی طرف چلتا رہا۔
جیب میں سو روپے کا نوٹ رکھا تھا۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ وہ اسے بچا کر کیا ثابت کرنا چاہتا ہے۔
شاید کچھ بھی نہیں۔
شاید صرف یہ کہ آج بھی اس کے پاس اتنا اختیار باقی ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے دیے ہوئے پیسے خرچ نہ کرنے کا فیصلہ کر سکے۔
گھر پہنچا تو بہو نے دروازہ کھولا۔
’’ابا جی! اتنی دھوپ میں پیدل آئے ہیں؟ عارف تو کہہ رہے تھے کہ آپ کو رکشے کے پیسے دے دیے ہیں۔‘‘
افضل نے مسکرا کر کہا:
’’ہاں، دیے تھے۔‘‘
’’پھر رکشہ کیوں نہیں کیا؟‘‘
وہ جوتے اتارنے کے لیے جھکا تو گھٹنوں میں درد کی ایک لہر اٹھی۔
’’بس بیٹی، دل کیا پیدل آنے کو۔‘‘
بہو نے کچھ کہنا چاہا، مگر اس کے چہرے کی تھکن دیکھ کر خاموش ہو گئی۔
افضل اپنے کمرے میں چلا گیا۔
پنشن کے پیسے الماری میں رکھے، وضو کیا اور بستر پر لیٹ گیا۔
شام کو عارف گھر آیا تو باپ سو رہا تھا۔
وہ کمرے میں جھانک کر واپس جانے لگا کہ اس کی نظر میز پر پڑے سو روپے کے نوٹ پر پڑی۔ افضل نے جیب خالی کرتے ہوئے اسے وہاں رکھ دیا تھا۔
عارف نے نوٹ اٹھایا۔
’’امی، ابا نے رکشہ نہیں کیا؟‘‘
بہو نے کہا، ’’نہیں، پیدل آئے ہیں۔ بہت تھکے ہوئے تھے۔‘‘
عارف نے نوٹ کو انگلیوں میں پلٹا۔
’’میں نے تو کہا تھا رکشہ کر لیجیے گا۔‘‘
بہو نے دھیرے سے جواب دیا:
’’کہا تو تھا۔ مگر آپ انہیں خود چھوڑنے کے بعد چلے بھی تو گئے تھے۔‘‘
عارف نے اس کی طرف دیکھا۔
’’دفتر میں میٹنگ تھی۔ پہلے ہی دیر ہو رہی تھی۔‘‘
’’میں نے کب کہا کہ آپ غلط تھے؟‘‘ بہو نے بات ختم کرتے ہوئے کہا، ’’آپ کے ابا ہیں۔ آپ بہتر جانتے ہیں۔‘‘
عارف نے نوٹ جیب میں رکھا اور کمرے میں چلا گیا۔
افضل کی آنکھ کھل چکی تھی۔
اس نے بیٹے کو اپنے سرہانے کھڑا دیکھا تو اٹھنے کی کوشش کی۔
’’سو جائیں ابا۔‘‘ عارف نے کہا۔
پھر کچھ دیر خاموش کھڑا رہا۔
’’ابا، آپ نے رکشہ کیوں نہیں کیا؟‘‘
افضل نے اپنے کمبل کی شکنیں درست کیں۔
’’ضرورت نہیں پڑی۔‘‘
’’لیکن میں نے آپ کو پیسے اسی لیے دیے تھے۔‘‘
افضل نے بیٹے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں شکایت نہیں تھی، صرف تھکن تھی۔
’’معلوم ہے، بیٹا۔‘‘
عارف نے نوٹ جیب سے نکالا۔
’’یہ آپ رکھ لیں۔‘‘
افضل نے اس کا ہاتھ روک دیا۔
’’رہنے دو۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
افضل نے چند لمحے بیٹے کو دیکھا، پھر نظریں پھیر لیں۔
’’ساری عمر تمہیں کہیں بھیجنے سے پہلے سوچتا تھا کہ راستہ لمبا تو نہیں، دھوپ تو نہیں، بھوک تو نہیں لگی۔ آج تم نے مجھے راستے پر اتارا تو میں نے سوچا، میرا بیٹا جلدی میں ہے۔‘‘
عارف کا ہاتھ وہیں رک گیا۔
افضل نے بات جاری رکھی۔
’’تم ٹھیک کہتے ہو، بیٹا۔ آدمی کو اپنا کام بھی کرنا چاہیے۔ بس… جب تم چھوٹے تھے نا، تمہیں اسکول چھوڑ کر واپس آتا تھا تو دروازے پر کچھ دیر کھڑا رہتا تھا۔ گھر خالی خالی لگتا تھا۔‘‘
وہ خاموش ہو گیا۔
عارف نے پہلی بار باپ کے ہاتھوں کو غور سے دیکھا۔ انگلیوں کی پوریں کھردری تھیں، ناخنوں کے کنارے زرد پڑ چکے تھے۔ انہی ہاتھوں نے اسے سائیکل چلانا سکھایا تھا، امتحانوں سے پہلے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا، اور اس دن بھی اس کا ہاتھ پکڑ کر چلنا سکھایا تھا جب وہ پہلی بار اسپتال سے گھر لوٹا تھا۔
عارف کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا۔
اس نے صرف اتنا کہا:
’’ابا، کل آپ کو کہیں جانا ہو تو مجھے بتا دیجیے گا۔‘‘
افضل نے سر ہلا دیا۔
عارف کمرے سے نکل گیا۔
باپ نے اسے آواز نہیں دی۔
اگلی صبح عارف دفتر جانے کے لیے نکلا تو افضل دروازے تک اسے چھوڑنے آیا۔
عارف نے گاڑی کا دروازہ کھولا، پھر اچانک رک گیا۔
’’ابا، آج میرے ساتھ چلیں گے؟‘‘
افضل نے حیرت سے پوچھا، ’’کہاں؟‘‘
’’پوسٹ آفس۔ آپ کے پنشن والے کاغذات میں ایک دستخط رہ گیا ہے نا؟ واپسی پر کروا لیں گے۔‘‘
افضل نے ایک لمحے کو بیٹے کا چہرہ دیکھا۔
’’تمہیں دفتر دیر نہیں ہوگی؟‘‘
عارف نے گاڑی کا دروازہ کھولے رکھا۔
’’ہو جائے گی تو ہو جائے گی۔‘‘
افضل نے جیب سے وہی سو روپے کا نوٹ نکالا۔ اسے سیدھا کیا اور بیٹے کی قمیص کی جیب میں رکھ دیا۔
’’رکھ لو۔ کام آ جائیں گے۔‘‘
عارف نے نوٹ نکالنا چاہا، مگر باپ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔
’’رہنے دو، بیٹا۔ باپ کی جیب سے بیٹے کی جیب میں پیسے جاتے اچھے لگتے ہیں۔‘‘
پھر وہ آہستہ سے گاڑی میں بیٹھ گیا۔
عارف نے دروازہ بند کیا اور گاڑی چلا دی۔
اس بار اس نے ریڈیو نہیں چلایا۔
راستے بھر دونوں خاموش رہے۔
پوسٹ آفس پہنچ کر عارف نے گاڑی پارک کی، باپ کا دروازہ کھولا اور اس کا بازو تھام لیا۔
افضل نے گاڑی سے اترتے ہوئے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
’’چلو، بیٹا۔‘‘
دونوں ساتھ چل پڑے۔
افضل کی چال اب بھی آہستہ تھی، مگر اس بار اسے اپنے پیچھے کسی کے چھوٹ جانے کا خوف نہیں تھا۔
بڑھاپے میں باپ کو سہارے کے لیے مضبوط بازو نہیں چاہیے ہوتے؛ کبھی کبھی صرف اتنا کافی ہوتا ہے کہ بیٹا اس کی رفتار سے چلنے لگے۔