”آنکھوں میں دھول جھونکنا“ | Khabrain Group Pakistan


عظیم نذیر
اردو کاایک محاورہ ”آنکھوں میں دھول جھونکنا“ لغت میں اس کے جو مطلب لکھے ہیں ان میں جھل‘ فریب‘ دھوکہ دینا‘ بیووقوف بنانا‘ اگلے کو اندھا سمجھ کر اپنا ناقص سودا بیچنے کی کوشش کرنا‘ بیچنے والے کو اندھا بنا کر مال سستا خریدنے کی کوشش کرنا۔ اصل بات پر پردہ ڈالنے کیلئے اگلے کی توجہ ادھر ادھر کرنے کی کوشش کرنا‘ کسی ناقص چیز کی قدروقیمت بڑھا دینا‘ کسی اچھی چیز کو نظر انداز کر دینا۔
ہمارے روز مرہ کے رویوں میں دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ایک ضروری عمل کے طور پر شامل ہوچکا ہے۔ ہر کوئی دوسرے کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اپنا مطلب پورا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ کلرک افسر کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے‘ افسر بڑے افسر کی اور بڑا افسر حکمرانوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے۔ پیر مرید کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے اور کبھی مرید پیر کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس کی لڑکی نکال کرلے جاتا ہے۔ دوست دوست کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے‘ بھائی بھائی کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے‘ دکاندار گاہک کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے‘ مالک ادائیگیوں کے وقت مزدور کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے جواب میں مزدور کام چوری کرکے مالک کی آنکھوں میں دھول جھونکتا ہے اسی طرح ہر جگہ ایک دوسرے کی آنکھوں میں دھول جھونکی جارہی ہے۔ اس دھول سے اپنی آنکھیں بچانے کیلئے اندرونی طور پر سب ایک دوسرے سے دور ہوچکے ہیں کوئی اپنے مطلب اور کام کے بغیر دوسرے سے ملاقات کرنے کو تیار ہی نہیں سچے دوستوں کی محفلیں اجڑ گئیں۔ جام خالی ہوگئے ساقی بھوکے مرنے لگے۔ حافظ شیرازی نے فارسی میں ایک نظم لکھی ہے۔پہلے ان کے چند اشعار کو پڑھتے ہیں۔
شہر خالی رستے خالی‘گلیاں خالی‘ خانہ خالی
جام خالی‘ میز خالی‘ ساغروپیمانہ خالی
شہر سے بلبلوں اور دوستوں کے قافلے چل دیئے
باغ خالی‘ شاخیںخالی‘ گھونسلے بھی خالی
کیا دنیا آگئی ہے کہ یار یار سے ڈرنے لگے
پیاسے غنچے اپنے ہی گلزار سے ڈرنے لگے
عاشق اب محبوب کے دیدار سے ڈرنے لگے
موسیقار اب اپنے ساز کے تار سے ڈرنے لگے
شہسوار اب رستہ ہموار سے ڈرنے لگے
دیکھنے کو چارہ گر بیمار سے ڈرنے لگے
جو شناسا تھے ہمارے وہ ہوگئے نا آشنا
نالہ وشوروغوغا کیا ہر درپہ دی میں نے صدا
خاک ویرانہ سے اپنا سر آلودہ کیا
پھر بھی ساکت پانیوں میں کچھ حرکت نہ ہوئی
خواب غفلت میں جو ڈوبے آنکھ ان کی نہ کھلی
جب ہر کوئی ہر کسی کی آنکھوں میں دھول جھونکے گا تو ایسی ہی صورتحال پیدا ہوگی جب ہر کوئی ہر کسی سے ڈرے گا تو ویرانی ہی مقدر بنے گی اور لوگ اپنے آشناﺅں سے دوری میں ہی اپنا بھلا سمجھیں گے ایسی صورتحال میں جتنی بھی کوشش کرلولوگ اعتبار کی طرف واپس نہیں لوٹتے اور دوریوں میں ہی اپنا بھلا سمجھتے ہیں کیونکہ جب آنکھوں سے دھول چھٹتی ہے تو ساتھ دیدے کی شرم میں لے جاتی ہے‘ شعور بکنے لگتا ہے اور جہالت سے بھی زیاد ہ خطرناک ہوجاتا ہے لوگ سوال اٹھانا بند کر دیتے ہیں اور سب کچھ جانتے بوجھتے جو سوال نہیں کرتے وہ منافق ہیں جو سوال اٹھا ہی نہیں سکتے وہ احمق اور جن کے ذہن میں سوال میں ہی نہیں ابھرتا وہ غلام دماغ ہیں اور ہر طرف اڑنے والی دھول نے پوری قوم کو ان تین درجوں میں تقسیم کر دیا ہے جس سے سرمایہ داروں اور حکمرانوں کو کھل کر من مانیاں کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور مذکورہ تینوں درجوں کے لوگ بروقت صرف اپنی قسمت کو کوس کر اپنے آپ کو مطمئن کرلیتے ہیں۔
اب تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں کہ کچھ خاص اوقات میں عوام کو مطمئن کرنے اور اپنی حکومتوں کو استحکام دینے کیلئے کیسے عوام کی آنکھوں میںدھول جھونکی گئی۔
ضیا ءالحق نے اسلامی نظام کی دھول جھونکی‘ ایک قتل کے لئے عوام کی آنکھوں میں عدالتی دھول جھونکی اور سب سے بڑھ کر ایک ڈھونگ الیکشن کرا کر جمہوریت کی دھول بھی آنکھوں میں جھول دی۔
اگلے دور میں بھٹو کے نظریات کو مارکر اس کے صرف نام کی دھول جھونکی گئی۔
پھر ایک ایسا دور آیا جس میں دھول جھونکنے کا کلچر ایک دفعہ پھر اپنی آب وتاب پر تھا اور قرض اتارو ملک سنواروں کی دھول جھونک دی گئی۔
پھر جمہوریت پر قبضہ جمانے ولے نے ایک بار پھر جعلی لیڈروں کو اقتدار سونپ کر ایک کٹھ پتلی جمہوریت کی بنیاد رکھی جس نے ایسے جعلی اعدادو شمار پیش کئے جن کا پتہ اگلے کئی سال بعد لگا۔
بینظیر بھٹو شہید ہوئیں تو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے اقوام متحدہ کی ٹیم بلوائی گئی۔
انڈس واٹر ٹریٹی پر حکمرانوں کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکی جاتی رہی اور اس عرصے میں بھارت نے پاکستان کا پانی روکنے کیلئے درجنوں ڈیم بناڈالے۔
پٹرول سستا ہوا تو پٹرول پمپ والے عام پٹرول ختم ہونے کی دھول اڑا کر مہنگا ہائی اوکٹین بیچتے رہے۔
پرائیویٹ ہسپتال والوںنے وبائی دنوں میں آنکھوں کے سب پردے ہی ہٹادیئے کیونکہ ان کی اپنی آنکھوں میں لالچ کی دھول بھرچکی ہے اور وہ مریضوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اربوں روپے جمع کررہے ہیں۔
اور اب بجٹ میں جس طرح آنکھوں میں دھول جھونکی گئی ہے اس کا مطلب یہی لگتا ہے کہ عوام اب بس دھول ہی کھائیںگے۔
لیڈر ساز فیکٹری میں ایک نیا لیڈر تیار ہوا لیکن سوچ سمجھ کر اسے اقتدارکی چو چادر اوڑھائی گئی جو اس کے سائز کے مطابق ہی نہیں ہے یہ لیڈر وہ چادر اوپر کرتا ہے تو نیچے مسئلہ ہوجاتا ہے اگر نیچے کرتا ہے تو اوپر سے مسئلہ ہوجاتا ہے اور یہ لیڈر دو سال میںاپنی یہ چادر ہی سنبھالنے میں لگا ہے۔ اس کے مشیر ہرروز اسے چادر سے دھیان ہٹانے کیلئے کوئی نیا طریقہ بتا دیتے ہیں اور وہ وہی بات عوام کی آنکھوں میں جھونک دیتا ہے جیسے کوئی دوا مسلسل استعمال کی جائے تو اس کا اثر ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح عوام موجودہ سیاست ‘موجودہ لیڈروں اور موجودہ طرز حکمرانی سے تنگ آکر آنکھیں ہی بند کرچکے ہیں وہ انتظار کر رہے ہیں کہ آنکھیں اس وقت کھولیں جب کوئی حقیقی انقلابی پارٹی معرض وجود میںآئے جو ان سے ہر بات پر جھوٹ نہ بولے۔22 کروڑ عوام میں سے صرف ڈیڑھ کروڑ افراد کا ووٹ ڈالنا مستقبل کے حکمران طبقے کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ لپنسن کا کہنا ہے۔
جب لوگ ہاتھوں سے ووٹ ڈالنا بند کر دیتے ہیں تو پھر وہ پیروں سے ووٹ ڈالنے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔
استاد مومن کا شعر ہے
جو نقاب اٹھی میری آنکھوں پر پردہ پڑ گیا
کچھ نہ سوجھا عالم اس پردہ نشین کا دیکھ کر
جیسے سب آتے اور کرتے جاتے ہیں اس صورتحال پر حیدر علی آتش کا شعر بہت موزوں ہوتا ہے۔
توڑ کر تارنگاہ کا سلسلہ جاتا رہا
خاک ڈال آنکھوں میں میری قافلہ جاتا رہا
ہر جگہ اور ہر سطح پر بس آنکھوں میں دھول ہی جھونکی جارہی ہے کیا ہی اچھا ہوتا قومی پھول، قومی جانور، قومی کھیل کی طرح آنکھوں میں دھول جھونکنا کو قومی محاورہ ہی بنادیا جاتا۔
(کالم نگارسینئر صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭….٭….٭




بشکریہ