آج میری بیٹی کو دفن کر دیا گیا ہے۔ قبرستان سے لوٹ…


آج میری بیٹی کو دفن کر دیا گیا ہے۔

قبرستان سے لوٹتے ہوئے لوگوں کے قدموں میں عجلت تھی۔ کسی کو گھر پہنچ کر نماز پڑھنی تھی، کسی کو کھانا کھانا تھا، کسی کو اگلے دن کی مصروفیات کا حساب لگانا تھا۔ چند عورتیں میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دے گئی تھیں۔ کچھ نے میرے آنسوؤں کو میری بدقسمتی کہا، اور کچھ کی نگاہوں میں ایسے سوال تھے جن کا جواب شاید میرے پاس بھی نہیں تھا۔

میں چھت کے اس چھوٹے سے کمرے میں بیٹھی ہوں جہاں میری بیٹی نے اپنی زندگی کے آخری دن گزارے تھے۔ سامنے اس کا خالی بستر ہے۔ تکیے کے نیچے سے اس کی ایک پرانی چوڑی جھانک رہی ہے۔ دیوار کے ساتھ اس کا بستہ رکھا ہے، جس میں چند کاپیاں ہیں۔ ان کاپیوں کے صفحے اب بھی سفید ہیں، جیسے کسی نے اس کی زندگی کی طرح ان پر بھی کوئی حرف لکھنے کی اجازت نہ دی ہو۔

آج میرے پاس نہ اسے سینے سے لگانے کا اختیار ہے، نہ اس کے لیے کسی سے لڑنے کی ہمت۔

اور سچ کہوں تو مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ میری بیٹی نے خود اپنی زندگی ختم کی، یا کسی نے اس کی زندگی چھین کر اسے خودکشی کا نام دے دیا۔ میں صرف اتنا جانتی ہوں کہ وہ اب واپس نہیں آئے گی۔

اس کے ساتھ میری دنیا بھی دفن ہو گئی ہے۔

میں فرحت سلطان ہوں۔ میرا تعلق چنیوٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔ میں یہ سب اس لیے لکھ رہی ہوں کہ میرے بعد لوگ میری بیٹی کے بارے میں اپنی اپنی کہانیاں نہ بنائیں۔ کوئی اسے بدکردار کہے، کوئی مجھے بدقسمت ماں قرار دے، کوئی میرے بھائیوں کو بے قصور سمجھے اور کوئی میرے شوہر کو ظالم ثابت کرنے لگے۔

میں چاہتی ہوں کہ میری کہانی ان سب سے پہلے آپ تک پہنچ جائے۔

خاص طور پر ان عورتوں تک، جو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے گھر کی خوشیوں کو اقتدار کی جنگ میں بدل دیتی ہیں، اور پھر جب بہت کچھ چھن جاتا ہے تو انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ جس چیز کو اپنی جیت سمجھ رہی تھیں، وہ دراصل ان کی زندگی کی سب سے بڑی ہار تھی۔

مگر میری بات سننے سے پہلے ایک بات یاد رکھیے گا۔

میری غلطیوں کا مطلب یہ نہیں کہ میری بیٹی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا جواز بھی میں ہی ہوں۔ اس کے ساتھ جو ہوا، اس کا ذمہ دار وہی ہے جس نے اس کی حرمت پامال کی۔ اور جس نے مظلوم کی بات سننے کے بجائے اسے مارا، دھمکایا یا خاموش کرایا، وہ بھی اپنے حصے کا جواب دہ ہے۔

میں اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنے بیٹھی ہوں، اپنی بیٹی کے مجرموں کو معاف کرنے نہیں۔

میری شادی فیصل آباد کے ایک متوسط مگر خوش حال گھرانے میں ہوئی تھی۔

میرے والد کے پاس زیادہ زمین نہیں تھی، مگر اتنی ضرور تھی کہ گھر کی عزت قائم رہتی۔ میرے سسر کے پاس اس سے زیادہ زمین تھی، چند جانور تھے، شہر میں ایک چھوٹا سا کاروبار بھی تھا۔ ان کے گھر میں آسودگی تھی، مگر اس آسودگی سے زیادہ خوب صورت چیز ان کا برتاؤ تھا۔

شادی کے بعد جب میں پہلی مرتبہ اپنے سسرال پہنچی تو میری ساس نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا تھا اور کہا تھا:

’’بیٹی، اب یہ گھر تمہارا بھی ہے۔ کسی چیز کی ضرورت ہو تو جھجکنا مت۔‘‘

میرے سسر مجھے اپنی بیٹیوں کی طرح عزت دیتے تھے۔ شوہر کسی معاملے میں میری رائے پوچھتا تو مجھے خوشی ہوتی۔ گھر میں کوئی تقریب ہوتی، کوئی چیز خریدنی ہوتی، کسی رشتے دار کے ہاں جانا ہوتا، تو مجھ سے بھی مشورہ کیا جاتا۔

مجھے کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔

لیکن شاید انسان کی سب سے بڑی محرومی وہ نہیں ہوتی جو اس کے پاس نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی وہ سب کچھ پا کر بھی اس چیز کے پیچھے بھاگنے لگتا ہے جس کی اسے ضرورت ہی نہیں ہوتی۔

میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔

ایک دن میکے گئی تو میری والدہ اور بھابھیوں کے درمیان بیٹھے بیٹھے بات نکلی۔ کسی کی نئی بہو آئی تھی، کسی کے گھر میں دیورانی جیٹھانی کا جھگڑا ہوا تھا۔ باتوں باتوں میں میری والدہ نے مجھے سمجھایا:

’’فرحت، ابھی تم اکیلی بہو ہو۔ آج تمہاری بات مانی جاتی ہے، تمہاری مرضی چلتی ہے۔ کل کو دوسری بہو آ جائے گی تو تمہاری حیثیت آدھی رہ جائے گی۔ عورت کو سسرال میں اپنی جگہ خود بنانی پڑتی ہے۔‘‘

میں نے ہنس کر کہا:

’’امّی، میرے ساتھ تو سب اچھے ہیں۔‘‘

وہ فوراً بولیں:

’’یہی تو وقت ہے اپنی جگہ مضبوط کرنے کا۔ آج تم اپنی اہمیت نہیں منواؤ گی تو کل کوئی تمہیں پوچھے گا بھی نہیں۔ یاد رکھنا، گھر میں صرف عزت سے کام نہیں چلتا، رعب بھی ہونا چاہیے۔‘‘

یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی۔

میں اس وقت یہ نہیں سمجھ سکی کہ عزت اور رعب میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا کسی کے دل میں جگہ بنانے اور اس کے دل میں خوف بٹھانے میں۔

میں نے چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی مرضی منوانا شروع کر دی۔ کبھی کھانے کے مینو پر اصرار، کبھی کسی تقریب کی تیاری پر اعتراض، کبھی ساس کے کسی فیصلے میں دخل اندازی۔ ابتدا میں سب میری بات مان لیتے۔ مجھے لگتا، میری ماں درست کہتی تھیں۔ میں گھر میں اپنی حیثیت قائم کر رہی تھی۔

پھر میرا دیور بیاہ کر گھر میں ایک نئی دلہن لے آیا۔

اس کا نام مریم تھا۔

وہ خاموش طبع، سادہ سی لڑکی تھی۔ نہ بہت بولتی تھی، نہ کسی سے مقابلہ کرتی تھی۔ ساس اس سے بھی پیار کرتیں، سسر اس کی ضروریات کا خیال رکھتے اور گھر کے فیصلوں میں اس سے بھی مشورہ لیا جانے لگا۔

شروع میں مجھے یہ سب معمول کے مطابق لگا۔

پھر ایک دن گھر میں ایک کمرے کی مرمت کا معاملہ اٹھا۔ میں نے ایک رائے دی، مریم نے دوسری۔ سسر نے دونوں کی بات سنی۔ ہم سے سوال کیے، خرچ کا حساب پوچھا، پھر ایک ایسی تجویز منظور کر لی جس میں مریم کی رائے کو زیادہ مناسب سمجھا گیا تھا۔

بات محض ایک کمرے کی تھی۔

مگر میرے لیے وہ کمرہ نہیں، میری حیثیت کا امتحان بن گیا تھا۔

اس رات میں نے میکے فون کیا۔

’’امّی، اب گھر میں میری بات کی وہ اہمیت نہیں رہی۔ ہر بات میں مریم کو بھی شامل کر لیتے ہیں۔‘‘

دوسری طرف سے جواب آیا:

’’میں نے پہلے ہی کہا تھا۔ تم نے اپنی جگہ مضبوط نہیں کی۔ اب وہ تمہارے برابر آ گئی ہے۔‘‘

برابر۔

یہ ایک لفظ تھا جس نے میرے اندر جانے کتنے زہر گھول دیے۔

مجھے یہ منظور نہ تھا کہ گھر میں میری دیورانی کو بھی وہی عزت ملے جو مجھے ملتی تھی۔ میں چاہتی تھی کہ وہ مجھ سے مشورہ لے، میری اجازت سے کام کرے، میری پسند کو اپنی پسند پر ترجیح دے۔ میں نے اس کے ہر کام میں نقص نکالنا شروع کر دیا۔

مریم اگر ساس کے لیے چائے بنا دیتی تو مجھے دکھائی دیتا کہ وہ خود کو زیادہ خدمت گزار ثابت کر رہی ہے۔ اگر سسر کسی کام کے لیے اسے آواز دیتے تو مجھے محسوس ہوتا کہ وہ مجھے نظر انداز کر رہے ہیں۔ اگر دیور اپنی بیوی کے ساتھ بازار چلا جاتا تو مجھے لگتا کہ میرے شوہر کو بھی اس کے سامنے میری اہمیت ثابت کرنی چاہیے۔

میں گھر میں عزت کے ساتھ رہ رہی تھی، مگر مجھے دوسروں سے زیادہ عزت چاہیے تھی۔

اور اس خواہش کا کوئی آخری کنارہ نہیں تھا۔

گھر کے ماحول میں تلخی بڑھنے لگی۔ ساس نے کئی مرتبہ مجھے سمجھایا۔ سسر نے بھی نرمی سے کہا کہ گھر محبت سے چلتے ہیں، مقابلے سے نہیں۔ مگر جب انسان اپنی غلطی کو اپنی انا کا نام دے چکا ہو تو نصیحت اسے اصلاح نہیں، توہین محسوس ہوتی ہے۔

ایک موقع ایسا بھی آیا جب میرے شوہر نے پہلی بار میرے سامنے سخت لہجے میں کہا:

’’فرحت، مریم تمہاری دشمن نہیں ہے۔ وہ بھی اس گھر کی بہو ہے۔ تم دونوں کو عزت مل رہی ہے تو اس میں برا کیا ہے؟‘‘

میں خاموش ہو گئی، مگر میرے اندر خاموشی نہیں اتری۔

میں نے میکے فون کیا تو وہاں سے پھر یہی سننے کو ملا کہ میرے سسرال والے مجھے آہستہ آہستہ پیچھے دھکیل رہے ہیں۔

مجھے اب ہر اچھے رویے میں بھی کوئی سازش دکھائی دینے لگی تھی۔

ایک دن جھگڑا اس حد تک بڑھ گیا کہ گھر کے سب لوگ میرے رویے کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ پہلی مرتبہ مجھے محسوس ہوا کہ جس گھر میں میری بات سنی جاتی تھی، وہاں اب میری بات سے لوگ بچنے لگے ہیں۔

میرے شوہر نے بہت کوشش کی کہ معاملات سنبھل جائیں۔

آخرکار میرے سسر نے فیصلہ کیا کہ ہمیں الگ گھر دے دیا جائے۔ میرے شوہر کے حصے کی زمین اور جانور بھی اس کے حوالے کر دیے گئے، تاکہ ہم اپنی زندگی سکون سے گزار سکیں۔

یہ فیصلہ دراصل میرے لیے ایک موقع تھا۔

میں چاہتی تو اپنے شوہر کے ساتھ نئے گھر میں ایک نئی زندگی شروع کر سکتی تھی۔ ماضی کی غلطیوں کو وہیں چھوڑ سکتی تھی۔ مریم کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا سکتی تھی۔ اپنے شوہر کی رفاقت اور اپنی آنے والی اولاد کے مستقبل کو اہمیت دے سکتی تھی۔

لیکن میں گھر سے تو الگ ہو گئی، اپنی ضد سے الگ نہ ہو سکی۔

میں شوہر سے کہتی رہی کہ ہمیں کم حصہ ملا ہے۔ میرے خیال میں سسر نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی تھی، حالاں کہ میں نے کبھی اس تقسیم کا غیر جانب دارانہ حساب سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی تھی۔

شوہر سمجھاتا:

’’فرحت، اب ہمیں اپنا گھر مل گیا ہے۔ ابو نے جو دیا ہے، اپنی خوشی سے دیا ہے۔ ہم محنت کریں گے تو مزید بھی بنا لیں گے۔ ہر بات کو جھگڑا بنانے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘

میں اسے سمجھاتی کہ وہ اپنے والدین کے سامنے اپنے حق کے لیے کھڑا نہیں ہو رہا۔

پھر ایک دن میں خود اپنے سسرال جا پہنچی۔ میں نے وہ باتیں بھی کہہ دیں جنہیں کہنے سے پہلے مجھے کم از کم ایک مرتبہ اپنے شوہر کی عزت کا خیال کر لینا چاہیے تھا۔

اس روز میرے سسر نے پہلی مرتبہ مجھے وہ جواب دیا جس کی سختی آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہے:

’’بیٹی، تمہیں عزت دی، گھر دیا، تمہاری ضروریات کا خیال رکھا۔ مگر عزت کا مطلب یہ نہیں کہ تم ہر بات منوانے کے لیے ہمارے گھر کا سکون برباد کر دو۔ تم اپنے شوہر کے ساتھ خوش رہو۔ ہمارے دروازے تمہارے لیے بند نہیں، لیکن اس طرح کے جھگڑے اب برداشت نہیں ہوں گے۔‘‘

مجھے ان کا لہجہ ناگوار گزرا۔

میں گھر واپس آئی تو شوہر سے لڑ پڑی۔ اس نے مجھے روکنے کی کوشش کی، میں نے اسے اپنے خاندان کا وفادار قرار دے کر اپنے خلاف کھڑا کر دیا۔

ہمارے درمیان فاصلے بڑھتے گئے۔

بالآخر وہ دن بھی آ گیا جب میں نے طلاق کا مطالبہ کر دیا۔

میرے شوہر نے کئی مرتبہ مجھے سمجھایا۔ اس نے کہا کہ اگر میں اپنے رویے پر غور کرنے کو تیار ہوں تو ہم سب کچھ نئے سرے سے شروع کر سکتے ہیں۔ مگر میں اپنے فیصلے کو اپنی انا کی فتح سمجھ بیٹھی تھی۔

میں نے سمجھا تھا کہ طلاق کے بعد میں آزاد ہو جاؤں گی۔

مجھے معلوم نہیں تھا کہ بعض دروازے بند کرتے وقت انسان کو ان کے پیچھے موجود پناہ گاہ کا اندازہ نہیں ہوتا۔

طلاق کے بعد عدالت کے ذریعے میں نے اپنی بیٹی کی پرورش اور اس کے نان نفقے کے معاملات طے کروائے۔ میری بیٹی کا نام عائشہ تھا۔

جب وہ میرے شوہر کے گھر میں پیدا ہوئی تھی تو اس کے دادا نے اسے گود میں اٹھا کر کہا تھا:

’’یہ تو ہمارے گھر کی رونق ہے۔‘‘

میری ساس اس کے لیے ننھے ننھے کپڑے سیتی تھیں۔ اس کے والد اسے گود میں لے کر صحن میں چکر لگاتے، کبھی اس کے لیے کھلونا لے آتے، کبھی بازار سے کوئی مٹھائی۔

عائشہ کے ننھے ہاتھ میرے شوہر کی انگلی پکڑ لیتے تو وہ دیر تک اسے دیکھتا رہتا۔

اس وقت مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایک دن میری بیٹی اسی محبت کو یاد کرتے ہوئے بڑی ہو گی جس سے میں نے خود اپنے آپ کو الگ کر لیا تھا۔

عائشہ میرے پاس تھی، مگر میں چاہ کر بھی اس کے لیے ماں اور باپ دونوں نہیں بن سکتی تھی۔

میں نے اس کی پرورش کی پوری کوشش کی۔ اس کے بال سنوارے، اس کے کپڑے دھوئے، بیمار ہوتی تو رات بھر جاگتی۔ مگر زندگی صرف محبت سے نہیں چلتی۔ اسے تحفظ، وسائل، اعتماد اور ایک ایسے ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے جہاں وہ اپنے دکھ بے خوف ہو کر بیان کر سکے۔

میں اسے وہ سب نہ دے سکی۔

شروع میں میکے والوں نے میرا ساتھ دیا۔ بھائی کہتے تھے کہ میں ان کے گھر میں رہ سکتی ہوں۔ بھابھیاں بھی بظاہر محبت سے پیش آتی تھیں۔ مجھے لگتا تھا کہ مشکل وقت گزر جائے گا۔

پھر وقت گزرا۔

میرے بھائیوں کی شادیاں ہوئیں۔ ان کے بچے بڑے ہونے لگے۔ گھر میں نئے اخراجات، نئی ترجیحات اور نئی ذمہ داریاں آ گئیں۔

میرے لیے جو جگہ کبھی اپنے گھر کے اندر تھی، وہ سمٹتے سمٹتے چھت پر بنے ایک چھوٹے سے کمرے تک رہ گئی۔

وہی کمرہ جہاں اب میں بیٹھی ہوں۔

بارش ہوتی تو چھت سے نمی اترتی۔ گرمیوں میں ٹین کی چھت تپنے لگتی۔ سردیوں میں رات کے وقت دیواریں یخ ہو جاتیں۔ عائشہ میرے ساتھ ایک ہی بستر پر سو جاتی۔ کبھی کہتی:

’’امی، ہمارے گھر میں بھی کبھی نیچے والا کمرہ ہو گا؟‘‘

میں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہتی:

’’ہاں بیٹا، ایک دن ضرور ہو گا۔‘‘

میں جانتی تھی کہ یہ وعدہ پورا کرنے کے لیے میرے پاس کوئی منصوبہ نہیں تھا۔

صرف ایک ماں کا دل تھا جو اپنی بیٹی کے سامنے اپنی بے بسی کو امید کا نام دے رہا تھا۔

میرے بھائیوں سے کوئی چیز مانگتی تو کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا۔ کبھی دوائی، کبھی کپڑے، کبھی عائشہ کی کوئی ضرورت۔ آہستہ آہستہ مجھے یہ محسوس ہونے لگا کہ میں ان کے گھر میں رہنے والی بہن نہیں، ایک اضافی ذمہ داری ہوں۔

میں نے ایک دن فیصلہ کیا کہ خود محنت کروں گی۔

میں لوگوں کے گھروں میں سلائی کرنے اور چھوٹے موٹے کام کرنے لگی۔ میرا مقصد کسی سے مقابلہ کرنا نہیں تھا۔ میں صرف اتنا چاہتی تھی کہ عائشہ کی بنیادی ضروریات کے لیے مجھے ہر مرتبہ کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔

مگر میرے بھائیوں کو میرا یہ قدم بھی پسند نہ آیا۔

انہوں نے کہا کہ میں گھر کی عزت خراب کر رہی ہوں۔ میں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ محنت کرنے میں کوئی برائی نہیں، مگر جواب میں سخت جملے سننے کو ملے۔ ایک مرتبہ مجھے مارا بھی گیا۔

میں اس رات عائشہ کو سینے سے لگائے بہت دیر تک روتی رہی۔

وہ میرے آنسو پونچھتے ہوئے بولی:

’’امی، آپ رویا نہ کریں۔ میں بڑی ہو کر آپ کو بہت پیسے دوں گی۔ پھر ہم اپنا گھر لے لیں گے۔‘‘

میں نے اسے چوم لیا۔

میری بیٹی ابھی بچی تھی، مگر اس نے میری پریشانیوں کو اپنے ننھے دل میں جگہ دینا شروع کر دی تھی۔

میں اسے تعلیم دلوانا چاہتی تھی۔ اس کے لیے کسی اچھے اسکول کا خواب دیکھتی تھی۔ مگر حالات، میری بے بسی اور گھر والوں کی عدم دلچسپی کے درمیان یہ خواب بھی آہستہ آہستہ دم توڑ گیا۔

عائشہ پڑھ نہ سکی۔

اس کے پاس نہ اسکول کی باقاعدہ تعلیم تھی، نہ کوئی ہنر، نہ ایسا مستقبل جسے دیکھ کر وہ اعتماد سے کہہ سکتی کہ ایک دن اپنی زندگی خود سنبھال لے گی۔

لیکن اس کی آنکھوں میں اب بھی خواب تھے۔

وہ کبھی میری سلائی کے کپڑوں سے گڑیا کے لیے لباس بناتی، کبھی کاغذ پر گھر کی تصویریں بناتی۔ اس کے ہر گھر میں دو کمرے ہوتے، ایک چھوٹا سا صحن اور دروازے کے باہر پھولوں کے گملے۔

میں پوچھتی:

’’اتنے سے گھر میں کیا ہو گا، عائشہ؟‘‘

وہ مسکرا کر کہتی:

’’امی، اس میں کوئی ہمیں ڈانٹے گا نہیں۔‘‘

اس کے جواب پر میں ہنسنے کی کوشش کرتی، مگر میرے اندر کوئی چیز ٹوٹ جاتی۔

میری بیٹی گھر کا خواب نہیں دیکھتی تھی۔

وہ ایک ایسی جگہ کا خواب دیکھتی تھی جہاں اسے خوف نہ ہو۔

اس واقعے سے پہلے بھی میں نے عائشہ میں تبدیلی محسوس کی تھی۔

وہ پہلے بات بات پر ہنس دیتی تھی۔ کبھی میرے پاس بیٹھ کر اپنے خیالات سناتی، کبھی کسی پرندے کو دیکھ کر خوش ہو جاتی۔ مگر رفتہ رفتہ اس نے خاموش رہنا شروع کر دیا۔

وہ اکثر اپنے کمرے میں بیٹھی رہتی۔ کوئی آواز دیتا تو چونک جاتی۔ کسی مرد کے قدموں کی آہٹ سنتی تو اس کے چہرے کا رنگ بدل جاتا۔

میں پوچھتی:

’’کیا ہوا ہے، بیٹا؟‘‘

وہ کہتی:

’’کچھ نہیں، امی۔‘‘

میں اس کے سر پر ہاتھ پھیر دیتی۔ مجھے لگتا شاید عمر کے اس حصے میں بچے کچھ حساس ہو جاتے ہیں۔

کاش میں اس کے انکار کے پیچھے چھپی ہوئی فریاد سن سکتی۔

کاش میں اس کے چہرے پر خوف کی وہ تحریر پڑھ سکتی جسے وہ الفاظ میں بیان نہیں کر پا رہی تھی۔

ایک دن وہ میرے پاس آئی۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس نے میرے ہاتھ پکڑ لیے۔

’’امی، مجھے یہاں سے لے چلیں۔‘‘

میں نے گھبرا کر پوچھا:

’’کہاں لے جاؤں، بیٹا؟ کیا ہوا ہے؟‘‘

وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ پھر اس نے وہ بات بتائی جس نے میرے وجود کی بنیادیں ہلا دیں۔

میرے بھائی کے بیٹے نے اس کی حرمت پامال کی تھی۔

اس کے الفاظ ٹوٹ رہے تھے۔ وہ بار بار کہتی تھی کہ اس نے منع کیا، اس نے مزاحمت کی، اس نے خود کو بچانے کی کوشش کی۔ مگر اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی میرا ذہن سن ہو چکا تھا۔

میں نے اسے سینے سے لگا لیا۔

وہ میرے کندھے پر سر رکھ کر روتی رہی۔

اور میں؟

میں اپنی بیٹی کے آنسو پونچھ رہی تھی، مگر مجھے یہ بھی معلوم تھا کہ جس گھر میں ہم رہتے ہیں، وہاں اس کی بات سننے والے کان شاید موجود نہیں۔

پھر بھی میں نے ہمت کی۔

میں اپنے بھائیوں کے پاس گئی۔ میں نے انہیں بتایا کہ ان کی بیٹی جیسی بھتیجی کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ وہ اپنے بیٹے سے پوچھیں، معاملے کی تحقیق کریں، میری بیٹی کو تحفظ دیں۔

مگر میری بات سننے کے بجائے ان کے چہرے بدل گئے۔

ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ عائشہ کے ساتھ کیا ہوا۔

ان کے لیے مسئلہ یہ تھا کہ میں نے ان کے بیٹے پر الزام کیسے لگا دیا۔

انہوں نے عائشہ کو جھوٹا کہا۔ مجھے بدنامی پھیلانے والی عورت قرار دیا۔ کہا کہ ہم جان بوجھ کر ان کے گھر کا سکون خراب کر رہی ہیں۔

میں نے پھر کہا کہ میری بیٹی سے کم از کم اس کا دکھ تو پوچھ لیں۔

جواب میں گالیاں ملیں۔

پھر ہاتھ اٹھے۔

اس دن میری بیٹی کو دوبارہ تکلیف پہنچی۔ پہلی مرتبہ اس شخص کے ہاتھوں جس نے اس کی مرضی پامال کی تھی، اور دوسری مرتبہ ان لوگوں کے رویے سے جن سے وہ انصاف کی امید رکھتی تھی۔

وہ میرے پیچھے چھپنے کی کوشش کر رہی تھی۔

میں اسے بچانا چاہتی تھی۔

مگر میں خود اپنے ہی گھر میں بے اختیار کھڑی تھی۔

میرے بھائیوں کی آوازیں بلند تھیں، ان کے بیٹے کی صفائی پیش کی جا رہی تھی، اور میری بیٹی کو مجرموں کی طرح کٹہرے میں کھڑا کیا جا رہا تھا۔

اس روز مجھے پہلی بار سمجھ آیا کہ کسی گھر میں رہنے کے لیے چھت مل جانا اور اس گھر میں محفوظ ہونا دو الگ باتیں ہیں۔

عائشہ کو چھت تو ملی ہوئی تھی۔

مگر اس کے پاس کوئی محفوظ جگہ نہیں تھی۔

اس واقعے کے بعد میری بیٹی بدل گئی۔

وہ پہلے بھی کم بولتی تھی، اب اس نے جیسے اپنے اندر ایک دروازہ بند کر لیا۔ کھانا سامنے رکھتی تو دیر تک اسے دیکھتی رہتی۔ رات کو نیند سے چونک کر اٹھ بیٹھتی۔ کبھی میرے گلے لگ کر روتی، کبھی بالکل خاموش ہو جاتی۔

ایک دن اس نے مجھ سے پوچھا:

’’امی، اگر کسی کے ساتھ برا ہو جائے تو کیا اس کی عزت ختم ہو جاتی ہے؟‘‘

میں نے فوراً کہا:

’’نہیں، بیٹا! ایسا کبھی نہیں ہوتا۔‘‘

اس نے میری طرف دیکھا۔

’’پھر سب مجھے ہی برا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘

میرے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔

میں اسے سمجھانا چاہتی تھی کہ اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی اس کا قصور نہیں۔ یہ کہ اس کا وجود پاک ہے، اس کی حرمت اپنی جگہ قائم ہے، اور کسی دوسرے کے جرم سے اس کی قدر کم نہیں ہوتی۔

لیکن اس کے اردگرد کی دنیا اسے مسلسل اس کے برعکس بتا رہی تھی۔

وہ دنیا جس میں مظلوم سے ثبوت مانگنے سے پہلے اس کے کردار پر سوال اٹھایا جاتا ہے۔ جہاں خاندان کی عزت بچانے کے نام پر ایک بچی کی فریاد دبا دی جاتی ہے۔ جہاں بعض لوگ جرم کرنے والے کو بچانے کے لیے اپنی ہی اولاد جیسی لڑکی کو جھوٹا قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے۔

میں نے عائشہ سے وعدہ کیا کہ میں اسے اس ماحول سے نکالوں گی۔

اس نے پوچھا:

’’کہاں لے جائیں گی، امی؟‘‘

میں خاموش ہو گئی۔

میرے پاس کوئی گھر نہیں تھا جہاں میں اسے لے جا سکتی۔ نہ اتنے پیسے تھے کہ کرائے پر الگ رہائش اختیار کر لیتی، نہ ایسا سہارا جس پر اعتماد کر کے اپنے بھائیوں کے خلاف کھڑی ہو سکتی۔

میرے پاس صرف ایک وعدہ تھا۔

اور میری بیٹی اب وعدوں پر یقین نہیں کرتی تھی۔

اگلے چند دنوں میں اس نے مجھ سے کئی بار مدد مانگی۔ کبھی کہتی کہ اسے یہاں سے لے چلوں، کبھی کہتی کہ وہ اب ان لوگوں کے سامنے نہیں جا سکتی۔ اس کی آواز میں ایک ایسی بے چارگی تھی جسے سن کر میرے دل میں چیخ اٹھتی تھی۔

میں چاہتی تھی کہ اس کا ہاتھ پکڑوں اور اسے کسی محفوظ جگہ لے جاؤں۔

میں چاہتی تھی کہ اس کے لیے انصاف مانگوں، ان لوگوں کے سامنے کھڑی ہو جاؤں جنہوں نے اسے تکلیف دی تھی، اور دنیا کو بتا دوں کہ میری بیٹی جھوٹی نہیں ہے۔

لیکن ہر مرتبہ میرے سامنے ایک ہی سوال آ کھڑا ہوتا:

اگر میں نے آواز اٹھائی تو ہم کہاں جائیں گے؟

یہ سوال مجھے اندر سے کھاتا رہا۔

میں نے اپنے حالات کو مجبوری کا نام دے کر خود کو خاموش رہنے کی اجازت دے دی۔

اور یہی میری زندگی کا وہ لمحہ تھا جسے میں اب اپنی سب سے بڑی کوتاہی سمجھتی ہوں۔

میں اپنی بیٹی کی فریاد سن رہی تھی، مگر اسے بچانے کے لیے وہ قدم نہ اٹھا سکی جو مجھے اٹھانا چاہیے تھا۔

مجھے اب بھی یہ معلوم نہیں کہ میری بیٹی کے آخری دنوں میں اس کے دل پر کیا گزرتی رہی۔ میں نہیں جانتی کہ اس کے ذہن میں کون سے خوف، کون سے سوال اور کتنی تنہائی جمع ہو چکی تھی۔

میں صرف یہ جانتی ہوں کہ ایک دن وہ میرے پاس سے اٹھی تو مجھے اس کے چہرے پر عجیب سی خاموشی دکھائی دی۔

میں نے پوچھا:

’’عائشہ، طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘

اس نے میری طرف دیکھا، میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور دھیرے سے کہا:

’’امی، آپ میرے ساتھ ہیں نا؟‘‘

میں نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔

’’ہاں، بیٹا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘

کاش میں اس سے پوچھ سکتی کہ اسے میرے ساتھ ہونے پر یقین کیوں نہیں رہا تھا۔

کاش میں اس کی خاموشی کو سمجھ سکتی۔

کاش میں اس رات اسے اپنے پاس لٹا کر صرف اس کے بالوں میں ہاتھ نہ پھیرتی، بلکہ اس کے دل میں چھپے خوف کو بھی سننے کی کوشش کرتی۔

پھر وہ دن آ گیا جس کے بعد میری زندگی میں کوئی صبح پہلے جیسی نہیں رہی۔

عائشہ اپنے کمرے میں بے جان ملی۔

گھر میں شور مچ گیا۔ لوگ جمع ہونے لگے۔ کسی نے کہا اس نے خود اپنی جان لے لی۔ کسی نے کہا حالات نے اسے اس نہج پر پہنچا دیا تھا۔ کچھ لوگوں نے وہی پرانے سوال اٹھائے جنہوں نے اسے پہلے ہی تنہا کر رکھا تھا۔

مگر میں آج بھی یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ اس کی موت کیسے ہوئی۔

اس معاملے کی حقیقت معلوم کرنا اور ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانا ضروری ہے، مگر میرے اردگرد کے حالات نے میری آواز کو خوف میں جکڑ رکھا ہے۔

میں نے اپنی بیٹی کو غسل کے لیے لے جاتے دیکھا۔

اس کے ہاتھ، جن سے وہ کبھی میرے چہرے پر آنسو پونچھا کرتی تھی، اب ساکت تھے۔ اس کی پیشانی پر وہی سکون تھا جسے میں اس کی زندگی میں تلاش کرتی رہی تھی، مگر کبھی اسے دے نہ سکی۔

میں اس کے قریب جھکی اور اس کے کان میں کہا:

’’عائشہ، مجھے معاف کر دینا۔‘‘

وہ جواب نہ دے سکی۔

اس کے بعد میں نے پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ انسان کی زندگی میں کچھ خاموشیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں دنیا کا کوئی شور توڑ نہیں سکتا۔

آج جب لوگ چلے گئے ہیں تو میں اپنے ماضی کے دروازے کھول کر بیٹھی ہوں۔

میرے سامنے دو گھر ہیں۔

ایک وہ گھر جسے میں نے اپنے شوہر کے ساتھ چھوڑا تھا، جہاں میرے لیے عزت تھی، ضروریات کا خیال رکھا جاتا تھا، میری بات سنی جاتی تھی، مگر میں دوسروں کو اپنے برابر دیکھنے پر آمادہ نہ تھی۔

دوسرا وہ گھر جہاں میں نے پناہ لی، مگر رفتہ رفتہ مجھے یہ احساس دلایا گیا کہ میری موجودگی دوسروں پر بوجھ ہے۔

میں یہ نہیں کہتی کہ میرا سسرال ہر لحاظ سے کامل تھا۔ وہاں بھی اختلافات تھے، ناراضگیاں تھیں، انسانی کمزوریاں تھیں۔ شاید اگر میں وہاں رہتی تو زندگی میں دوسرے مسائل بھی آتے۔ کوئی یہ ضمانت نہیں دے سکتا کہ میری بیٹی کی زندگی ہمیشہ آسان رہتی۔

لیکن اتنا ضرور جانتی ہوں کہ میرے پاس ایک ایسا خاندان تھا جہاں میری ضروریات کا خیال رکھا جاتا تھا، جہاں میرے لیے ایک گھر موجود تھا، جہاں میرے شوہر نے رشتہ بچانے کی کوشش کی تھی۔

اور میں نے اس رشتے کو ایک ایسے مقابلے کی نذر کر دیا جس میں جیتنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔

مجھے افسوس ہے کہ میں نے مریم کو اپنی بہن کی طرح قبول نہ کیا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنے شوہر کی بات کو اس کی محبت سمجھنے کے بجائے اپنی بے عزتی سمجھا۔ مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنے میکے کی ہر نصیحت کو درست اور اپنے سسرال کی ہر بات کو اپنے خلاف سازش سمجھا۔

اور سب سے بڑھ کر مجھے افسوس ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کے لیے ایسا محفوظ مستقبل تعمیر نہ کیا جہاں وہ اپنے دکھ کے ساتھ تنہا نہ رہتی۔

مگر میری ایک بات ضرور سنیے گا۔

میری بیٹی کے ساتھ جو جرم ہوا، اس کی ذمہ داری اس پر نہیں تھی۔ اور اس جرم کے خلاف میری آواز کا خاموش رہ جانا، میری مجبوری ہو سکتی ہے، مگر اس خاموشی کو درست نہیں کہا جا سکتا۔

مجھے اپنے ماضی کے فیصلوں پر پچھتاوا ہے، لیکن میری بیٹی کو جو نقصان پہنچایا گیا، اس کا قصوروار میں خود کو قرار دے کر اصل ذمہ داروں کو بری نہیں کر سکتی۔

میں نے غلط فیصلے کیے تھے۔ دوسروں نے بھی غلطیاں کیں، اور بعض نے ایسے کام کیے جن کی جواب دہی ہونی چاہیے۔

میں اب چاہتی ہوں کہ کوئی دوسری عائشہ اپنے گھر میں اس خوف کے ساتھ نہ جیے کہ اگر اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تو سب سے پہلے اسی سے سوال کیے جائیں گے۔

کوئی دوسری ماں اپنی بیٹی کی فریاد سن کر صرف اس لیے خاموش نہ ہو جائے کہ اس کے پاس جانے کے لیے کوئی دوسرا گھر نہیں۔

کوئی دوسری عورت اپنی اولاد کو خاندانی انا کی جنگ میں تنہا نہ چھوڑ دے۔

اور کوئی لڑکی یہ نہ سمجھے کہ اس کے ساتھ ہونے والے جرم نے اس کی عزت، اس کی قدر یا اس کے مستقبل کو ختم کر دیا ہے۔

میں آج اپنی زندگی کے اس موڑ پر کھڑی ہوں جہاں مجھے اپنے فیصلوں کا حساب دینا ہے۔ مگر میں اب بھی زندہ ہوں، اور جب تک زندہ ہوں، اپنی بیٹی کے لیے انصاف کی کوشش کر سکتی ہوں۔ شاید میں آج بھی ڈرتی ہوں۔ شاید میرے پاس وسائل کم ہیں۔ مگر میری بیٹی کی موت کے بعد میری خاموشی کسی اور کے لیے سزا نہیں بننی چاہیے۔

اگر میری یہ تحریر کسی ایسی عورت تک پہنچے جو اپنے گھر میں اختلافات کا سامنا کر رہی ہے تو میں اس سے صرف اتنا کہوں گی:

اپنی انا کو اپنی عزت مت سمجھنا۔ اپنے شریکِ حیات کی محبت کو اس وقت تک آزمائش میں مت ڈالنا جب تک رشتہ ٹوٹ نہ جائے۔ اگر اختلاف ہو تو بات کرو، مدد لو، اپنے حقوق سمجھو، اور جہاں ممکن ہو، اصلاح کی کوشش کرو۔

لیکن اگر تمہیں یا تمہاری اولاد کو تشدد، جنسی زیادتی یا کسی اور خطرے کا سامنا ہو تو صرف اس خوف سے خاموش مت رہنا کہ لوگ کیا کہیں گے یا تم کہاں جاؤ گی۔ محفوظ جگہ تلاش کرو، قابلِ اعتماد لوگوں سے رابطہ کرو، قانونی اور سماجی مدد لو۔ رشتہ بچانے سے زیادہ ضروری کسی انسان کی جان، عزت اور سلامتی ہے۔

طلاق ہر مسئلے کا حل نہیں، مگر ہر حال میں رشتہ قائم رکھنا بھی ضروری نہیں۔ اصل دانش یہ ہے کہ انسان ضد اور خوف کے بجائے سمجھ بوجھ سے فیصلہ کرے۔

آج مجھے اپنے شوہر کا گھر یاد آتا ہے۔

وہ صحن یاد آتا ہے جہاں شام کو میرے سسر چارپائی پر بیٹھا کرتے تھے۔ وہ آواز یاد آتی ہے جو باورچی خانے سے مجھے کھانے کے لیے بلاتی تھی۔ وہ کمرہ یاد آتا ہے جہاں میری بیٹی کبھی اپنے دادا کی گود میں بیٹھ کر ہنسا کرتی تھی۔

کبھی کبھی میں تصور کرتی ہوں کہ اگر میں وہاں رہ جاتی تو شاید عائشہ آج زندہ ہوتی، شاید وہ اسکول جاتی، شاید اس کے ہاتھ میں بستے کی جگہ کسی کتاب کا صفحہ ہوتا، شاید وہ کسی دن میرے لیے چائے بناتے ہوئے کہتی:

’’امی، آپ تھک گئی ہیں، اب میں سب سنبھال لوں گی۔‘‘

مگر یہ سب صرف شاید ہیں۔

ماضی واپس نہیں آتا۔ اور کسی کی موت کے بعد اس کی زندگی کے تمام ممکنہ راستے صرف تصور بن کر رہ جاتے ہیں۔

میں اپنی بیٹی کو واپس نہیں لا سکتی۔

لیکن شاید میں اپنی خاموشی کو ایک ایسی آواز میں بدل سکتی ہوں جو کسی دوسری ماں تک پہنچ جائے۔

شاید میری کہانی پڑھ کر کوئی عورت اپنی دیورانی سے مقابلہ کرنے کے بجائے اس کا ہاتھ تھام لے۔ کوئی شوہر اپنے گھر کے اختلافات کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے بات چیت سے حل کرے۔ کوئی خاندان اپنی بیٹی کی فریاد سن کر اسے جھوٹا کہنے کے بجائے اس کے تحفظ کے لیے کھڑا ہو جائے۔

اور شاید کوئی عائشہ اپنی ماں سے مدد مانگے تو اس کی ماں اسے یہ نہ کہے کہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ کھویا ہے۔

اپنا گھر، اپنا رشتہ، اپنی خود اعتمادی، اپنی بیٹی کا مستقبل۔

لیکن میری بیٹی کو کھونے کے بعد مجھے یہ سمجھ آیا ہے کہ انسان کی سب سے بڑی شکست کسی گھر سے نکل آنا نہیں ہوتی۔

سب سے بڑی شکست یہ ہے کہ آپ کے بچے کو آپ کی ضرورت ہو، وہ آپ کی طرف ہاتھ بڑھائے، اور آپ خوف کے باعث اس کا ہاتھ تھام نہ سکیں۔

عائشہ، میری بچی!

تم تو چلی گئیں، مگر تمہارا آخری سوال میرے اندر اب بھی زندہ ہے۔

’’امی، آپ میرے ساتھ ہیں نا؟‘‘

میں اس سوال کا جواب اب بھی دیتی ہوں۔

ہاں، میری جان۔

میں تمہارے ساتھ ہوں۔

کاش میں یہ بات تمہیں اس وقت اپنے عمل سے سمجھا سکتی، جب تمہیں میری سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

کاش تمہیں معلوم ہوتا کہ تمہاری عزت تمہارے ساتھ ہونے والے ظلم سے کم نہیں ہوئی تھی۔ تم کسی کی بدنامی نہیں تھیں۔ تم کسی خاندان کا بوجھ نہیں تھیں۔ تم میری بیٹی تھیں، ایک مکمل انسان، جسے جینے، پڑھنے، ہنسنے اور اپنے مستقبل کے خواب دیکھنے کا پورا حق تھا۔

اور کاش اس دنیا میں کوئی تمہیں یہ سب بتانے کے لیے موجود ہوتا، جب تم اپنے آپ کو سب سے زیادہ تنہا محسوس کر رہی تھیں۔

اللہ تمہاری مغفرت فرمائے، میری بچی۔

اور مجھے اتنی ہمت دے کہ میں تمہارے نام پر اپنی خاموشی ختم کر سکوں۔

آمین۔

نوٹ: اس افسانے کا مرکزی پیغام کسی عورت کو ہر حال میں سسرال میں رہنے یا طلاق سے گریز کرنے کی تلقین نہیں، بلکہ انا کی خاطر رشتے برباد کرنے سے بچنے، بچوں کی حفاظت کو مقدم رکھنے، اور ظلم کی صورت میں خاموشی کے بجائے محفوظ اور قانونی مدد حاصل کرنے کی اہمیت اجاگر کرنا ہے۔