آبرو کے نام پر قتل (آنر کِلِنگ) کے موضوع پر ہندی ن…

آبرو کے نام پر قتل (آنر کِلِنگ) کے موضوع پر ہندی نظم
شاعرہ: روپم مشر؛ مترجم: آفتاب احمد، کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک
                      ***
قربانیاں دینا ہمارے مذہب اور ثقافت کی شان ہے!
جیسے بکرے کی قربانی بقرید پر
بھینسے کی قربانی وِجے دَشمی پر
اور بیٹیوں کی قربانی بیٹوں پر!
اور بھی قربانیاں ہیں پر اتنا سب کچھ جاننا
ضروری نہیں میرے لئے میں لڑکی ہوں!
پیار میں پڑی لڑکی، بھائی کی عزّت کے لئے خطرہ ہے
اسے صحیح سَمے پر مار دینا ضروری ہوتا ہے!
خیر وہ خود مار دیتے ہیں، ماں روتی ہوئی کہتی ہے اب چھوڑ دو بیٹا
باپ کہتا ہے جان سے نہ مارو، حرامزادی کے ہاتھ پیر توڑ کر چھوڑ دو!
پر راجہ کو تو اپنی ساکھ پر بٹّہ لگانے والی پَرجا کو کُچل دینا ہے!
اور وہ کُچل دیتا ہے، پر پتہ نہیں اینٹ سے یا پتھر سے یا
بہن کے نازُک گلے پر بھائی کے وزنی پاؤں بھی اعزاز ہیں!
جو بھی ہو ہم نے تو یہی سُنا کہ شادی پڑی تھی
پر ہرجائی نے پھانسی لگا لی رات میں
بیچارے بھائی باپ کو رات میں ہی لے جاکر پھونکنا پڑا سئی ندی کے ساحل پر!
پر ہو گیا سب آرام سے! ارے کیسے نہیں ہوتا
پردھان سے لے کر داروغہ سب اپنی ہی ذات کے تھے!
آخر برادری کب کام آتی!
خبردار جو کسی نے آنر کِلِنگ کہا
ایسی لڑکیوں کو تو جنم لیتے ہی گلے پر پاؤں رکھ کر مار دینا چاہئے

بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2827773670786481