جو اس زمین پہ رہتے تھے آسمان سے لوگ کہاں گئے وہ مر…


جو اس زمین پہ رہتے تھے آسمان سے لوگ
کہاں گئے وہ مرے سارے مہربان سے لوگ
…
(سید شاہد عبّاس عابدی) شاہد کمال کا یومِ پیدائش
September 05, 1982
شاہد کمال کے اشعار
…
جنگ کا شور بھی کچھ دیر تو تھم سکتا ہے
پھر سے اک امن کی افواہ اڑا دی جائے
..
یہ کیسا دشت تحیر ہے یاں سے کوچ کرو
ہمارے پاؤں سے رفتار کھینچتا ہے کوئی
۔۔
جب ڈوب کے مرنا ہے تو کیا سوچ رہے ہو
ان جھیل سی آنکھوں میں اتر کیوں نہیں جاتے
۔۔
تو میرے ساتھ نہیں ہے تو سوچتا ہوں میں
کہ اب تو تجھ سے بچھڑنے کا کوئی ڈر بھی نہیں
۔۔۔
ان دنوں اپنی بھی وحشت کا عجب عالم ہے
گھر میں ہم دشت و بیابان اٹھا لائے ہیں
۔۔
شاخ مژگاں پہ مہکنے لگے زخموں کے گلاب
پچھلے موسم کی ملاقات کی بو زندہ ہے
۔۔
ہاں وضع احتیاط کا قائل نہیں ہوں میں
جو زخم ہے جگر میں چھپانے سے میں رہا
۔۔
ہوا کی ڈور میں ٹوٹے ہوئے تارے پروتی ہے
یہ تنہائی عجب لڑکی ہے سناٹے میں روتی ہے
۔۔
اک نئے طرز پہ آباد کریں گے اس کو
ہم ترے شہر کی پہچان اٹھا لائے ہیں
۔۔
اس عاجزی سے کیا اس نے میرے سر کا سوال
خود اپنے ہاتھ سے تلوار توڑ دی میں نے
۔۔
چشم خوش آب کی تمثیل میں رہنے والے
ہم پرندے ہیں اسی جھیل میں رہنے والے
۔۔۔
کس لئے کرتے ہو تم حرف ملامت سے گریز
ہم کہاں صحبت جبریل میں رہنے والے
۔۔
تیر مت دیکھ مرے زخم کو دیکھ
یار یار اپنا عدو میں گم ہے
۔۔
بریدہ سر کو سجا دے فصیل نیزہ پر
دریدہ جسم کو پھر عرصۂ قتال میں رکھ
…
ریت پر وہ پڑی ہے مشک کوئی
تیر بھی اور کمان سا کچھ ہے
…………………………..