افسانے
ایک اور چیز جس نے مجھے ماضی کے پچھتاووں سے نکلنے میں بہت مدد دی وہ ایک سطر تھی۔ …

ایک اور چیز جس نے مجھے ماضی کے پچھتاووں سے نکلنے میں بہت مدد دی وہ ایک سطر تھی۔ کہتے ہیں جب کسی تاریکی سے نکلنا ہو تو ایک سطر تھام لو۔ ایک لائن۔ ایک ڈائیلاگ۔ چند الفاظ۔پھر اس کو خود سے دہراتے رہو۔ میں نے بھی ایک سطر تھام لی اور اسے خود سے دہراتی رہی۔ اور وہ سطر یہ تھی کہ ”میرے ساتھ دوبارہ وہ نہیں ہوگا جو پہلے ہوا کیونکہ اب میں وہ شخص نہیں رہی۔“
دھیرے دھیرے اس منفی انسان کی آوازیں مدھم ہونے لگیں گی۔ یہ مکمل طور پہ آپ کی جان نہیں چھوڑے گا لیکن آپ اسے بنا کسی اذیت کے پس منظر میں دھکیلنے کے قابل ضرور ہو جائیں گے۔آپ کو بس ماضی سے سبق لینا ہے تاکہ مستقبل میں آپ وہ غلطیاں نہ دہرائیں۔ بلکہ نئی غلطیاں کریں۔ کیونکہ غلطیاں تو ہم سب نے ہر دور میں کرنی ہیں۔جب ہم قابل ذکر شے نہیں تھے‘ تب بھی۔ اور جب ہم قابلِ ذکر بن جاتے ہیں‘ تب بھی۔مگر اللہ تعالیٰ کو وہ خطاوار پسند ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھنے والے ہوں اور ان پہ نادم ہوں۔ نہ کہ ان کو بھلا کے ان سے نظریں چرانے والے ہوں۔
سو آج سے ایک سطر تھام لیں۔ضروری نہیں ہے کہ وہ سچ ہو۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس پہ یقین بھی ہو۔بس جب کبھی پچھتاوا ہو‘ اس سطر کو خود سے دہراتے رہیں۔
یہاں تک کہ وہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سچ بن جائے….
دھیرے دھیرے اس منفی انسان کی آوازیں مدھم ہونے لگیں گی۔ یہ مکمل طور پہ آپ کی جان نہیں چھوڑے گا لیکن آپ اسے بنا کسی اذیت کے پس منظر میں دھکیلنے کے قابل ضرور ہو جائیں گے۔آپ کو بس ماضی سے سبق لینا ہے تاکہ مستقبل میں آپ وہ غلطیاں نہ دہرائیں۔ بلکہ نئی غلطیاں کریں۔ کیونکہ غلطیاں تو ہم سب نے ہر دور میں کرنی ہیں۔جب ہم قابل ذکر شے نہیں تھے‘ تب بھی۔ اور جب ہم قابلِ ذکر بن جاتے ہیں‘ تب بھی۔مگر اللہ تعالیٰ کو وہ خطاوار پسند ہیں جو اپنی غلطیوں سے سیکھنے والے ہوں اور ان پہ نادم ہوں۔ نہ کہ ان کو بھلا کے ان سے نظریں چرانے والے ہوں۔
سو آج سے ایک سطر تھام لیں۔ضروری نہیں ہے کہ وہ سچ ہو۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کو اس پہ یقین بھی ہو۔بس جب کبھی پچھتاوا ہو‘ اس سطر کو خود سے دہراتے رہیں۔
یہاں تک کہ وہ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سچ بن جائے….
میں انمول
Source


