منتخب غزلیں
وارث کرمانی کی وفات October 29, 2012 کھوئے ہوئے ص…

وارث کرمانی کی وفات
October 29, 2012
October 29, 2012
کھوئے ہوئے صحرا تک اے باد- صبا جانا
وہ خاک- جنوں میری آنکھوں سے لگا جانا
اب تک کوئی چنگاری رہ رہ کے چمکتی ہے
اے قافلۂ فردا!! یہ راکھ اڑا جانا—-!!!
ہے دشت- تمنا میں اب شام کا سناٹا
ہاں، تیز قدم رکھتے اے اہل- وفا جانا
ہم نیند کی چادر میں لپٹے ہوئے چلتےہیں
اس بھیس میں اب ہم سے ملنا ہو تو آ جانا
آفاق کی سرحد پر سائے سے گریزاں ہیں
ان سوختہ جانوں کو اس پار نہ تھا جانا
تم دور سفر کر کے نزدیک سے لگتے ہو
اب پاس بہت آ کے ہم کو نہ جگا جانا
کیا اس سے شکایت ہو جس شوخ کی عادت ہو
کچھ بات دبا لینا، کچھ آنکھ چرا جانا
ہم ذکر- گل و بلبل کرتے ہوئے ڈرتے ہیں
اب سیکھ گیا ہے وہ ہر بات کا پا جانا


