منتخب غزلیں
کرو گے یاد تو ، ہر بات یاد آئے گی گزرتے وقت کی، ہ…
کرو گے یاد تو ، ہر بات یاد آئے گی
گزرتے وقت کی، ہر مَوج ٹھہر جائے گی
یہ چاند بیتے زمانوں کا ، آئینہ ہو گا
بھٹکتے اَبر میں ، چہرہ کوئی بنا ہو گا
اُداس راہ ، کوئی داستاں سنائے گی
کرو گے یاد تو ، ہر بات یاد آئے گی
برستا بھیگتا موسم ، دُھواں دُھواں ہو گا
پگھلتی شمعوں پہ ، دِل کا میرے گماں ہو گا
ہتھیلیوں کی حِنا ، یاد کچھ دِلائے گی
کرو گے یاد تو ، ہر بات یاد آئے گی
گلی کے موڑ پہ، سُونا سا کوئی دروازہ
ترستی آنکھوں سے، رَستہ کسی کا دیکھے گا
نگاہ دُور تلک ، جا کے لوٹ آئے گی
کرو گے یاد تو ، ہر بات یاد آئے گی
(بشر نواز)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی


