منتخب غزلیں

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں کیسے چہر…

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں

کیوں ترے درد کو دیں تہمتِ ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

موسمِ زرد میں اک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

اب کوئی کیا مرے قدموں کے نشاں ڈھونڈے گا
تیز آندھی میں تو خیمے بھی اکھڑ جاتے ہیں

شغلِ اربابِ ہنر پوچھتے کیا ہو کہ یہ لوگ
پتھروں میں بھی کبھی آئنے جڑ جاتے ہیں

سوچ کا آئنہ دھندلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ
چاند چہروں کے خد و خال بگڑ جاتے ہیں

شدتِ غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی
کچھ دیئے تند ہواؤں سے بھی لڑ جاتے ہیں

وہ بھی کیا لوگ ہیں محسنؔ جو وفا کی خاطر
خود تراشیدہ اصولوں پہ بھی اڑ جاتے ہیں

(محسن نقوی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/