منتخب غزلیں
ہم نے سوچا تھا کہ دنیا سے کنارہ کر لیں ہم نے دیکھا…

ہم نے سوچا تھا کہ دنیا سے کنارہ کر لیں
ہم نے دیکھا تو ہمی رونقِ دنیا نکلے
….
مشفق خواجہ کی پیدائش
December 19, 1935
اردو کے نامور محقق، ادیب اور شاعر مشفق خواجہ 19 دسمبر 1935ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ مشفق خواجہ کا اصل نام خواجہ عبدالحئی تھا-
21 فروری 2005ء کو اردو کے نامور محقق، ادیب اور شاعر مشفق خواجہ کراچی میں وفات پاگئے۔
……
نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا
مڑ کے دیکھوں تو نظر آتے ہیں منظر کیا کیا
کتنے چہروں پہ رہا عکس مری حیرت کا
مہرباں مجھ پہ ہوئے آئینہ پیکر کیا کیا
رہگذر دل کی نہ پل بھر کو بھی سنسان ہوئی
قافلے غم کے گذرتے رہے اکثر کیا کیا
پاؤں اٹھتے تھے اسی منزلِ وحشت کی طرف
راہ تکتے تھے جہاں راہ کے پتھر کیا کیا
اور اب حال ہے یہ خود سے جو ملتا ہوں کبھی
کھول دیتا ہوں شکایات کے دفتر کیا کیا
……………
منتخب اشعار
…………
دل ایک اور ہزار آزمائشیں غم کی
دیا جلا تو تھا لیکن ہوا کی زد پر تھا
—
بجھے ہوئے در و دیوار دیکھنے والو
اسے بھی دیکھو جو اک عمر یاں گزار گیا
—
مری نظر میں گئے موسموں کے رنگ بھی ہیں
جو آنے والے ہیں ان موسموں سے ڈرنا کیا
—
نظر چرا کے وہ گزرا قریب سے لیکن
نظر بچا کے مجھے دیکھتا بھی جاتا تھا
—
ہزار بار خود اپنے مکاں پہ دستک دی
اک احتمال میں جیسے کہ میں ہی اندر تھا
—
یہ حال ہے مرے دیوار و در کی وحشت کا
کہ میرے ہوتے ہوئے بھی مکان خالی ہے
—
یہ لمحہ لمحہ زندہ رہنے کی خواہش کا حاصل ہے
کہ لحظہ لحظہ اپنے آپ ہی میں مر رہا ہوں میں
—
کس توقع پہ کوئی چاہے وفاؤں کا صلہ
اس نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھلایا ہوگا
—
کتنے چہروں پہ رہے عکس مری حیرت کے
مہرباں مجھ پہ ہوئے آئینہ پیکر کیا کیا
—
کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا
وقت اک خواب رواں ہے سو گزر جائے گا
—
یہ کیا طلسم ہے میں اس کو دیکھ بھی نہ سکوں
کہ جس کے جلووں سے دامان چشم بھر جائے
—
کیوں خلوت غم میں رہتے ہو کیوں گوشہ نشیں بے کار ہوئے
آخر تمہیں صدمہ کیا پہنچا کیا سوچ کے خود آزار ہوئے
—
کچھ اس طرح سے تیرا غم دیئے جلاتا تھا
کہ خاک دل کا ہر اک ذرہ جگمگاتا تھا
—
مثالِ عکس کنجِ ذات سے باہر رہا ہوں میں
کہ آپ اپنے مقابل آئینہ بن کر رہا ہوں میں
—
اے مشفق ؔ من اس حال میں تم کس طرح بسر فرماؤ گے
انجان بنے چپ بیٹھو گے اور جان کے دھوکے کھاؤ گے
—
وہ کون ہے کہ جلاتا ہے دل میں شمعِ امید
پھر اپنے ہاتھ سے اس کو بجھا بھی دیتا ہے
—
ہم پہ تنہائی میں کچھ ایسے بھی لمحے آئے
بن گئے آپ کی تصویر ہمارے سائے
—
غم ہی لے دے کے مری دولت بیدار نہیں
یہ خوشی بھی ہے میسر کوئی غم خوار نہیں
………………………………….
ہم نے دیکھا تو ہمی رونقِ دنیا نکلے
….
مشفق خواجہ کی پیدائش
December 19, 1935
اردو کے نامور محقق، ادیب اور شاعر مشفق خواجہ 19 دسمبر 1935ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ مشفق خواجہ کا اصل نام خواجہ عبدالحئی تھا-
21 فروری 2005ء کو اردو کے نامور محقق، ادیب اور شاعر مشفق خواجہ کراچی میں وفات پاگئے۔
……
نقش گزرے ہوئے لمحوں کے ہیں دل پر کیا کیا
مڑ کے دیکھوں تو نظر آتے ہیں منظر کیا کیا
کتنے چہروں پہ رہا عکس مری حیرت کا
مہرباں مجھ پہ ہوئے آئینہ پیکر کیا کیا
رہگذر دل کی نہ پل بھر کو بھی سنسان ہوئی
قافلے غم کے گذرتے رہے اکثر کیا کیا
پاؤں اٹھتے تھے اسی منزلِ وحشت کی طرف
راہ تکتے تھے جہاں راہ کے پتھر کیا کیا
اور اب حال ہے یہ خود سے جو ملتا ہوں کبھی
کھول دیتا ہوں شکایات کے دفتر کیا کیا
……………
منتخب اشعار
…………
دل ایک اور ہزار آزمائشیں غم کی
دیا جلا تو تھا لیکن ہوا کی زد پر تھا
—
بجھے ہوئے در و دیوار دیکھنے والو
اسے بھی دیکھو جو اک عمر یاں گزار گیا
—
مری نظر میں گئے موسموں کے رنگ بھی ہیں
جو آنے والے ہیں ان موسموں سے ڈرنا کیا
—
نظر چرا کے وہ گزرا قریب سے لیکن
نظر بچا کے مجھے دیکھتا بھی جاتا تھا
—
ہزار بار خود اپنے مکاں پہ دستک دی
اک احتمال میں جیسے کہ میں ہی اندر تھا
—
یہ حال ہے مرے دیوار و در کی وحشت کا
کہ میرے ہوتے ہوئے بھی مکان خالی ہے
—
یہ لمحہ لمحہ زندہ رہنے کی خواہش کا حاصل ہے
کہ لحظہ لحظہ اپنے آپ ہی میں مر رہا ہوں میں
—
کس توقع پہ کوئی چاہے وفاؤں کا صلہ
اس نے کچھ سوچ سمجھ کر ہی بھلایا ہوگا
—
کتنے چہروں پہ رہے عکس مری حیرت کے
مہرباں مجھ پہ ہوئے آئینہ پیکر کیا کیا
—
کوئی دل تو نہیں ہے کہ ٹھہر جائے گا
وقت اک خواب رواں ہے سو گزر جائے گا
—
یہ کیا طلسم ہے میں اس کو دیکھ بھی نہ سکوں
کہ جس کے جلووں سے دامان چشم بھر جائے
—
کیوں خلوت غم میں رہتے ہو کیوں گوشہ نشیں بے کار ہوئے
آخر تمہیں صدمہ کیا پہنچا کیا سوچ کے خود آزار ہوئے
—
کچھ اس طرح سے تیرا غم دیئے جلاتا تھا
کہ خاک دل کا ہر اک ذرہ جگمگاتا تھا
—
مثالِ عکس کنجِ ذات سے باہر رہا ہوں میں
کہ آپ اپنے مقابل آئینہ بن کر رہا ہوں میں
—
اے مشفق ؔ من اس حال میں تم کس طرح بسر فرماؤ گے
انجان بنے چپ بیٹھو گے اور جان کے دھوکے کھاؤ گے
—
وہ کون ہے کہ جلاتا ہے دل میں شمعِ امید
پھر اپنے ہاتھ سے اس کو بجھا بھی دیتا ہے
—
ہم پہ تنہائی میں کچھ ایسے بھی لمحے آئے
بن گئے آپ کی تصویر ہمارے سائے
—
غم ہی لے دے کے مری دولت بیدار نہیں
یہ خوشی بھی ہے میسر کوئی غم خوار نہیں
………………………………….




