منتخب غزلیں
چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا کسی پہ کُھل…

چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا
کسی پہ کُھل نہیں پایا جو حال میرا تھا
…
ممتاز نقاد ‘ شاعر‘محقق اور استاد مغنی تبسم کا یوم وفات
Feb 15, 2012
(پیدائش: 13 جون، 1930ء- وفات: 15 فروری، 2012ء)
منتخب کلام
——
اب آکے کوئی رلادے تو روشنی آئے
بہت دنوں سے لہو جم رہا ہے آنکھوں میں
——
سونپ دی ہے اسے تنہائی بھی
اب مجھے اپنی ضرورت نہ رہی
——
پاس آتے ہوئے صحرا میں کہیں
دور جاتا ہوا دریا دیکھا
——
میں اپنے خوابوں کی دنیا میں کھویا رہا
کب رات ڈھلی کب چاند بجھا معلوم نہیں
——
منزل منزل تیرے کرم کے ڈیرے ہیں
تپتی دھوپ میں دشت رواں ہیں میرے بھی
——
اس بستی میں کتنے گھر ہیں مٹی کے
بادل ٹوٹ کے برسے گا تو دیکھیں گے
——
ایک اک یاد کو آہوں سے جلاتا جاؤں
کام سونپا ہے عجب اس نے مسیحائی کا
——
لوح اس کی ہے ، قلم اس کا ، مقدر میرا
ہاتھ میرے ہیں ، دعاؤں میں اثر اس کا ہے
اس کی راتیں مرے خوابوں کو جنم دیتی ہیں
جاگتی آنکھوں سے پیمانِ سحر اس کا ہے
——
——
اُڑتی ہے راکھ درد کے خیمے کے آس پاس
تنہائیوں کی آگ میں جلنے لگا ہے کچھ
——
کل میرے لفظوں میں میری جان رہے گی
دنیا جب دیکھے گی تو حیران رہے گی
——
لوح اس کی ہے ، قلم اس کا ، مقدر میرا
ہاتھ میرے ہیں دعاؤں میں اثر اس کا ہے
——
نالے تھے وہ جو شعر کے پیکر میں ڈھل گئے
شکوے لبوں پہ آئے تو حرفِ دعا ہوئے
ہلکی سی ایک موجِ تبسم لبوں پہ تھی
پوچھا جو ہم نے آپ کے وعدے وہ کیا ہوئے
——
زندگی تجھ سے پشیماں ہیں یہی سوچ کے ہم
اپنے وعدوں سے کسی روز مُکر جانا ہے
——
لہو کا کھیل تھا جوشِ بہار کیسا تھا
چمن میں دامنِ گل تار تار کیسا تھا
سرِ اُفق سے نظر لوٹ کر نہیں آئی
وہ جا چکا تھا مگر انتظار کیسا تھا
——
تیرا خیال خواب میں ڈھلنے لگا ہے کچھ
اب رنگ زندگی کا بدلنے لگا ہے کچھ
اُڑتی ہے راکھ درد کے خیمے کے آس پاس
تنہائیوں کی آگ میں جلنے لگا ہے کچھ
——
تپتے صحرا میں یہ خوشبو ساتھ کہاں سے آئی
ذکر زمانے کا تھا تیری بات کہاں سے آئی
جلتی دھوپ کے لشکر کے خیمے کس نے توڑ دیے
جھلمل کرتے تاروں کی بارات کہاں سے آئی
بیتے لمحے لوٹے بھی تو یاد بنے یا خواب
پرچھائیں تھی پرچھائیں پھر بات کہاں سے آئی
چاند ابھی تو نکلا ہی تھا کیسے ڈوب گیا
میرے آنگن میں یہ کالی رات کہاں سے آئی
——
کیا کوئی درد دل کے مقابل نہیں رہا
یا ایک دل بھی درد کے قابل نہیں رہا
ان کے لہو کی دہر میں ارزانیاں نہ پوچھ
جن کا گواہ دامن قاتل نہیں رہا
اپنی تلاش ہے ہمیں آنکھوں کے شہر میں
آئینہ جب سے اپنے مقابل نہیں رہا
سرگرمی حیات ہے بے مقصد حیات
سب رہ نورد شوق ہیں محمل نہیں رہا
اس کا خیال آتا ہے اپنے خیال سے
اب وہ بھی اپنی یاد میں شامل نہیں رہا
——
چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا
کسی پہ کھل نہیں پایا جو حال میرا تھا
ہر ایک پائے شکستہ میں تھی مری زنجیر
ہر ایک دست طلب میں سوال میرا تھا
میں ریزہ ریزہ بکھرتا چلا گیا خود ہی
کہ اپنے آپ سے بچنا محال میرا تھا
ہر ایک سمت سے سنگ صدا کی بارش تھی
میں چپ رہا کہ یہی کچھ مآل میرا تھا
ترا خیال تھا تازہ ہوا کے جھونکے میں
جو گرد اڑ کے گئی ہے ملال میرا تھا
میں رو پڑا ہوں تبسمؔ سیاہ راتوں میں
غروب ماہ میں شاید زوال میرا تھا
——
عذاب ہو گئی زنجیر دست و پا مجھ کو
جو ہو سکے تو کہیں دار پہ چڑھا مجھ کو
ترس گیا ہوں میں سورج کی روشنی کے لیے
وہ دی ہے سایۂ دیوار نے سزا مجھ کو
جو دیکھے تو اسی سے ہے زندگی میرے
مگر مٹا بھی رہی ہے یہی ہوا مجھ کو
اسی نظر نے مجھے توڑ کر بکھیر دیا
اسی نظر نے بنایا تھا آئینہ مجھ کو
سراب عمر تمنا کی تشنگی ہوں میں
اگر ہے چشمۂ فیاض تو بجھا مجھ کو
کبھی تو اپنے بدن کے چراغ روشن کر
کبھی تو اپنے لہو سے بھی آزما مجھ کو
…………………………
کسی پہ کُھل نہیں پایا جو حال میرا تھا
…
ممتاز نقاد ‘ شاعر‘محقق اور استاد مغنی تبسم کا یوم وفات
Feb 15, 2012
(پیدائش: 13 جون، 1930ء- وفات: 15 فروری، 2012ء)
منتخب کلام
——
اب آکے کوئی رلادے تو روشنی آئے
بہت دنوں سے لہو جم رہا ہے آنکھوں میں
——
سونپ دی ہے اسے تنہائی بھی
اب مجھے اپنی ضرورت نہ رہی
——
پاس آتے ہوئے صحرا میں کہیں
دور جاتا ہوا دریا دیکھا
——
میں اپنے خوابوں کی دنیا میں کھویا رہا
کب رات ڈھلی کب چاند بجھا معلوم نہیں
——
منزل منزل تیرے کرم کے ڈیرے ہیں
تپتی دھوپ میں دشت رواں ہیں میرے بھی
——
اس بستی میں کتنے گھر ہیں مٹی کے
بادل ٹوٹ کے برسے گا تو دیکھیں گے
——
ایک اک یاد کو آہوں سے جلاتا جاؤں
کام سونپا ہے عجب اس نے مسیحائی کا
——
لوح اس کی ہے ، قلم اس کا ، مقدر میرا
ہاتھ میرے ہیں ، دعاؤں میں اثر اس کا ہے
اس کی راتیں مرے خوابوں کو جنم دیتی ہیں
جاگتی آنکھوں سے پیمانِ سحر اس کا ہے
——
——
اُڑتی ہے راکھ درد کے خیمے کے آس پاس
تنہائیوں کی آگ میں جلنے لگا ہے کچھ
——
کل میرے لفظوں میں میری جان رہے گی
دنیا جب دیکھے گی تو حیران رہے گی
——
لوح اس کی ہے ، قلم اس کا ، مقدر میرا
ہاتھ میرے ہیں دعاؤں میں اثر اس کا ہے
——
نالے تھے وہ جو شعر کے پیکر میں ڈھل گئے
شکوے لبوں پہ آئے تو حرفِ دعا ہوئے
ہلکی سی ایک موجِ تبسم لبوں پہ تھی
پوچھا جو ہم نے آپ کے وعدے وہ کیا ہوئے
——
زندگی تجھ سے پشیماں ہیں یہی سوچ کے ہم
اپنے وعدوں سے کسی روز مُکر جانا ہے
——
لہو کا کھیل تھا جوشِ بہار کیسا تھا
چمن میں دامنِ گل تار تار کیسا تھا
سرِ اُفق سے نظر لوٹ کر نہیں آئی
وہ جا چکا تھا مگر انتظار کیسا تھا
——
تیرا خیال خواب میں ڈھلنے لگا ہے کچھ
اب رنگ زندگی کا بدلنے لگا ہے کچھ
اُڑتی ہے راکھ درد کے خیمے کے آس پاس
تنہائیوں کی آگ میں جلنے لگا ہے کچھ
——
تپتے صحرا میں یہ خوشبو ساتھ کہاں سے آئی
ذکر زمانے کا تھا تیری بات کہاں سے آئی
جلتی دھوپ کے لشکر کے خیمے کس نے توڑ دیے
جھلمل کرتے تاروں کی بارات کہاں سے آئی
بیتے لمحے لوٹے بھی تو یاد بنے یا خواب
پرچھائیں تھی پرچھائیں پھر بات کہاں سے آئی
چاند ابھی تو نکلا ہی تھا کیسے ڈوب گیا
میرے آنگن میں یہ کالی رات کہاں سے آئی
——
کیا کوئی درد دل کے مقابل نہیں رہا
یا ایک دل بھی درد کے قابل نہیں رہا
ان کے لہو کی دہر میں ارزانیاں نہ پوچھ
جن کا گواہ دامن قاتل نہیں رہا
اپنی تلاش ہے ہمیں آنکھوں کے شہر میں
آئینہ جب سے اپنے مقابل نہیں رہا
سرگرمی حیات ہے بے مقصد حیات
سب رہ نورد شوق ہیں محمل نہیں رہا
اس کا خیال آتا ہے اپنے خیال سے
اب وہ بھی اپنی یاد میں شامل نہیں رہا
——
چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا
کسی پہ کھل نہیں پایا جو حال میرا تھا
ہر ایک پائے شکستہ میں تھی مری زنجیر
ہر ایک دست طلب میں سوال میرا تھا
میں ریزہ ریزہ بکھرتا چلا گیا خود ہی
کہ اپنے آپ سے بچنا محال میرا تھا
ہر ایک سمت سے سنگ صدا کی بارش تھی
میں چپ رہا کہ یہی کچھ مآل میرا تھا
ترا خیال تھا تازہ ہوا کے جھونکے میں
جو گرد اڑ کے گئی ہے ملال میرا تھا
میں رو پڑا ہوں تبسمؔ سیاہ راتوں میں
غروب ماہ میں شاید زوال میرا تھا
——
عذاب ہو گئی زنجیر دست و پا مجھ کو
جو ہو سکے تو کہیں دار پہ چڑھا مجھ کو
ترس گیا ہوں میں سورج کی روشنی کے لیے
وہ دی ہے سایۂ دیوار نے سزا مجھ کو
جو دیکھے تو اسی سے ہے زندگی میرے
مگر مٹا بھی رہی ہے یہی ہوا مجھ کو
اسی نظر نے مجھے توڑ کر بکھیر دیا
اسی نظر نے بنایا تھا آئینہ مجھ کو
سراب عمر تمنا کی تشنگی ہوں میں
اگر ہے چشمۂ فیاض تو بجھا مجھ کو
کبھی تو اپنے بدن کے چراغ روشن کر
کبھی تو اپنے لہو سے بھی آزما مجھ کو
…………………………




