منتخب غزلیں
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا کہیں زمین کہیں آسم…

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
ندا فاضلی کی وفات
Feb 08, 2016
….
(پیدائش: 12 اکتوبر، 1938ء- وفات: 8 فرورری، 2016ء)
ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدا حسن تھا وہ 12 اکتوبر 1938 میں بھارتی ریاست گوالیار میں پیدا ہوئے تھے۔ بالی وڈ کی فلمی دنیا کے لیے بعض یادگار گیت تخلیق کرنے کے علاوہ ان کے لکھے گئے دوہوں اور غزلوں کو جگجیت سنگھ نے لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔
——
نمونہ کلام
——
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے
——
جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیں
اُن چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے
——
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
——
فاصلہ نظروں کا دھوکا بھی تو ہو سکتا ہے
وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو
——
کچھ لوگ یونہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی
——
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
——
مجھ جیسا اک آدمی میرا ہی ہمنام
اُلٹا سیدھا وہ چلے مجھے کرے بدنام
——
ہر اک آنگن میں دیواریں کھڑی ہیں
سبھی کے پاس کچھ پرچھائیاں ہیں
——
آنکھیں کہیں، نگاہ کہیں، دست و پا کہیں
کس سے کہیں کہ ڈھونڈو بہت کھو رہے ہم
——
رستوں کے نام وقت کے چہرے بدل گئے
اب کیا بتائیں کس کو کہاں چھوڑ آئے ہیں
——
مسمار ہورہی ہیں دلوں کی عمارتیں
اللہ کے گھروں کی حفاظت نہیں رہی
——
خوشی منائیے آئینہ سامنے رکھ کر
خود اپنے کھونے کا ڈر بھی خیال میں رکھیے
——
جب جب موسم جھوما ہم نے کپڑے پھاڑے شور کیا
ہر موسم شائستہ رہنا کوری دنیا داری ہے
——
ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہے
محبت اک ضروری حادثہ ہے
——
تم سے چھُٹ کر بھی تمھیں بھولنا آسان نہ تھا
تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لیے
——
اکیلے کمرے میں گلدان بولتے کب ہیں
تمھارے ہونٹ ہیں شاید گلاب میں شامل
——
اب بھی یوں ملتے ہیں ہم سے پھول چنبیلی کے
جیسے اُن سے اپنا کوئی رشتہ لگتا ہے
——
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اُتر کیوں نہیں جاتا
——
عشق کرکے دیکھیے اپنا تو یہ ہے تجربہ
گھر، محلہ، شہر، سب پہلے سے اچھا ہوگیا
——
زمین پیروں تلے سر پہ آسماں کیوں ہے
جہاں جہاں جور کھا ہے وہاں وہاں کیوں ہے
——
پیا نہیں جب گاؤں میں
آگ لگے سب گاؤں میں
کتنی میٹھی تھی املی
ساجن تھے جب گاؤں میں
سچ کہہ گُیّاں اور کہاں
ان جیسی چھب گاؤں میں
ان کے جانے کی تاریخ
دنگل تھا جب گاؤں میں
دیکھ سہیلی دھیمے بھول
بیری ہیں سب گاؤں میں
کتنی لمبی لگتی ہے
پگڈنڈی اب گاؤں میں
من کا سودا، من کا مول
کیسا مذہب گاؤں میں
——
لہریں پڑیں تو سویا ہوا جل مچل گیا
پربت کو چیرتا ہوا دریا نکل گیا
رنگوں کے امتزاج میں پوشیدہ آگ تھی
دیکھا تھا میں نے چھو کے مرا ہاتھ جل گیا
اکثر پہاڑ سر پہ گرے اور چپ رہے
یوں بھی ہوا کہ پتّہ ہلا، دل دہل گیا
پہچانتے تو ہوگے نِدا فاضلی کو تم
سورج کو کھیل سمجھا تھا، چھوتے ہی جل گیا
——
شعورِ مرگ
اسے نہیں معلوم
کہ امّا ں کیوں روتی ہیں
سر لٹکاے بہنیں کیوں بیٹھی رہتی ہیں
سورج ڈھلتے ہی
کتّا رونے لگتا ہے
گھڑی گھڑی دروازے کو تکنے لگتا ہے
گھر کا آنگن
میلا میلا کیوں رہتا ہے؟
جگہ جگہ پر پانی پھیلا کیوں رہتا ہے
اسے نہیں معلوم
کہ گُڑیا کب آئ تھی
مٹّی کی ہنڈیا کس نے دلوائ تھی
لیکن جب کوئ پھیری والا آتا ہے
یا کوئ گھر والا اس کو دھمکاتا ہے
جانے وہ کیا ادھر ادھر دیکھا کرتا ہے
جیسے کوئ کھوئ شے ڈھونڈھا کرتا ہے
اور اچانک چِلّا کر رونے لگتا ہے
اسے نہیں معلوم
——
بوجھ
میرے بکھرے بالوں پر اور بھی تو ہنستے ہیں
میری خستہ حالی پر قہقہے لگاتے ہیں
میری ہر تباہی پر حاشئے چڑھاتے ہیں
اب تو جو بھی ملتے ہیں اجنبی سے ملتے ہیں
آنکھیں کھوئ رہتی ہیں، صرف ہونٹ ہلتے ہیں
صرف ایک تم اتنے کیوں خموش رہتے ہو
میری تلخ باتوں کو ہنس کے ٹال دیتے ہو
میں جہاں نظر آؤں، ہاتھوں ہاتھ لیتے ہو
جان بوجھ کر میں نے کپ کو نیچے پھینکا ہے
بے سب ہی شبنم کو مار کر رلایا ہے
پین کے نئے نِب کو میز پر چلایا ہے
کیوں خفا نہیں ہوتے، کیوں بگڑ نہیں جاتے
کس لئے بھلا مجھ سے اب جھگڑ نہیں پاتے
ٹیڑھی میڑھی نظروں سے گھور کر جدا ہو جاؤ
دوست چند لمحوں کو آج پھر خفا ہو جاؤ
اور بھی تو ہنستے ہیں
——
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین تو کہیں آسمان نہیں ملتا
جسے بھی دیکھئے وہ اپنے آپ میں گم ہے
زبان ملی ہے مگر ہم زبان نہیں ملتا
بجھا سکا ہے بھلا کون وقت کے شعلے
یہ ایسی آگ ہے جس میں دھواں نہیں ملتا
تیرے جہاں میں ایسا نہیں کے پیار نہ ہو
جہاں امید ہو اس کی،وہاں نہیں ملتا
……………………
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
ندا فاضلی کی وفات
Feb 08, 2016
….
(پیدائش: 12 اکتوبر، 1938ء- وفات: 8 فرورری، 2016ء)
ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدا حسن تھا وہ 12 اکتوبر 1938 میں بھارتی ریاست گوالیار میں پیدا ہوئے تھے۔ بالی وڈ کی فلمی دنیا کے لیے بعض یادگار گیت تخلیق کرنے کے علاوہ ان کے لکھے گئے دوہوں اور غزلوں کو جگجیت سنگھ نے لاکھوں لوگوں تک پہنچایا۔
——
نمونہ کلام
——
اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے
——
جن چراغوں کو ہواؤں کا کوئی خوف نہیں
اُن چراغوں کو ہواؤں سے بچایا جائے
——
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
——
فاصلہ نظروں کا دھوکا بھی تو ہو سکتا ہے
وہ ملے یا نہ ملے ہاتھ بڑھا کر دیکھو
——
کچھ لوگ یونہی شہر میں ہم سے بھی خفا ہیں
ہر ایک سے اپنی بھی طبیعت نہیں ملتی
——
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
——
مجھ جیسا اک آدمی میرا ہی ہمنام
اُلٹا سیدھا وہ چلے مجھے کرے بدنام
——
ہر اک آنگن میں دیواریں کھڑی ہیں
سبھی کے پاس کچھ پرچھائیاں ہیں
——
آنکھیں کہیں، نگاہ کہیں، دست و پا کہیں
کس سے کہیں کہ ڈھونڈو بہت کھو رہے ہم
——
رستوں کے نام وقت کے چہرے بدل گئے
اب کیا بتائیں کس کو کہاں چھوڑ آئے ہیں
——
مسمار ہورہی ہیں دلوں کی عمارتیں
اللہ کے گھروں کی حفاظت نہیں رہی
——
خوشی منائیے آئینہ سامنے رکھ کر
خود اپنے کھونے کا ڈر بھی خیال میں رکھیے
——
جب جب موسم جھوما ہم نے کپڑے پھاڑے شور کیا
ہر موسم شائستہ رہنا کوری دنیا داری ہے
——
ہر اک رستہ اندھیروں میں گھرا ہے
محبت اک ضروری حادثہ ہے
——
تم سے چھُٹ کر بھی تمھیں بھولنا آسان نہ تھا
تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لیے
——
اکیلے کمرے میں گلدان بولتے کب ہیں
تمھارے ہونٹ ہیں شاید گلاب میں شامل
——
اب بھی یوں ملتے ہیں ہم سے پھول چنبیلی کے
جیسے اُن سے اپنا کوئی رشتہ لگتا ہے
——
وہ ایک ہی چہرہ تو نہیں سارے جہاں میں
جو دور ہے وہ دل سے اُتر کیوں نہیں جاتا
——
عشق کرکے دیکھیے اپنا تو یہ ہے تجربہ
گھر، محلہ، شہر، سب پہلے سے اچھا ہوگیا
——
زمین پیروں تلے سر پہ آسماں کیوں ہے
جہاں جہاں جور کھا ہے وہاں وہاں کیوں ہے
——
پیا نہیں جب گاؤں میں
آگ لگے سب گاؤں میں
کتنی میٹھی تھی املی
ساجن تھے جب گاؤں میں
سچ کہہ گُیّاں اور کہاں
ان جیسی چھب گاؤں میں
ان کے جانے کی تاریخ
دنگل تھا جب گاؤں میں
دیکھ سہیلی دھیمے بھول
بیری ہیں سب گاؤں میں
کتنی لمبی لگتی ہے
پگڈنڈی اب گاؤں میں
من کا سودا، من کا مول
کیسا مذہب گاؤں میں
——
لہریں پڑیں تو سویا ہوا جل مچل گیا
پربت کو چیرتا ہوا دریا نکل گیا
رنگوں کے امتزاج میں پوشیدہ آگ تھی
دیکھا تھا میں نے چھو کے مرا ہاتھ جل گیا
اکثر پہاڑ سر پہ گرے اور چپ رہے
یوں بھی ہوا کہ پتّہ ہلا، دل دہل گیا
پہچانتے تو ہوگے نِدا فاضلی کو تم
سورج کو کھیل سمجھا تھا، چھوتے ہی جل گیا
——
شعورِ مرگ
اسے نہیں معلوم
کہ امّا ں کیوں روتی ہیں
سر لٹکاے بہنیں کیوں بیٹھی رہتی ہیں
سورج ڈھلتے ہی
کتّا رونے لگتا ہے
گھڑی گھڑی دروازے کو تکنے لگتا ہے
گھر کا آنگن
میلا میلا کیوں رہتا ہے؟
جگہ جگہ پر پانی پھیلا کیوں رہتا ہے
اسے نہیں معلوم
کہ گُڑیا کب آئ تھی
مٹّی کی ہنڈیا کس نے دلوائ تھی
لیکن جب کوئ پھیری والا آتا ہے
یا کوئ گھر والا اس کو دھمکاتا ہے
جانے وہ کیا ادھر ادھر دیکھا کرتا ہے
جیسے کوئ کھوئ شے ڈھونڈھا کرتا ہے
اور اچانک چِلّا کر رونے لگتا ہے
اسے نہیں معلوم
——
بوجھ
میرے بکھرے بالوں پر اور بھی تو ہنستے ہیں
میری خستہ حالی پر قہقہے لگاتے ہیں
میری ہر تباہی پر حاشئے چڑھاتے ہیں
اب تو جو بھی ملتے ہیں اجنبی سے ملتے ہیں
آنکھیں کھوئ رہتی ہیں، صرف ہونٹ ہلتے ہیں
صرف ایک تم اتنے کیوں خموش رہتے ہو
میری تلخ باتوں کو ہنس کے ٹال دیتے ہو
میں جہاں نظر آؤں، ہاتھوں ہاتھ لیتے ہو
جان بوجھ کر میں نے کپ کو نیچے پھینکا ہے
بے سب ہی شبنم کو مار کر رلایا ہے
پین کے نئے نِب کو میز پر چلایا ہے
کیوں خفا نہیں ہوتے، کیوں بگڑ نہیں جاتے
کس لئے بھلا مجھ سے اب جھگڑ نہیں پاتے
ٹیڑھی میڑھی نظروں سے گھور کر جدا ہو جاؤ
دوست چند لمحوں کو آج پھر خفا ہو جاؤ
اور بھی تو ہنستے ہیں
——
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین تو کہیں آسمان نہیں ملتا
جسے بھی دیکھئے وہ اپنے آپ میں گم ہے
زبان ملی ہے مگر ہم زبان نہیں ملتا
بجھا سکا ہے بھلا کون وقت کے شعلے
یہ ایسی آگ ہے جس میں دھواں نہیں ملتا
تیرے جہاں میں ایسا نہیں کے پیار نہ ہو
جہاں امید ہو اس کی،وہاں نہیں ملتا
……………………




