منتخب غزلیں

رنجِ بے ادائی کیا زعمِ آشنائی کیا ماسوائے تنہائی …

رنجِ بے ادائی کیا زعمِ آشنائی کیا
ماسوائے تنہائی عشق کی کمائی کیا

خالی خالی آنکھیں ہیں کھوکھلے سے جسموں پر
بے یقیں رفاقت میں، وصل کیا جدائی کیا

ضبط سے تکلم تک سب کا سب ہی دھوکہ ہے
دل میں کیا سمایا تھا لب پہ بات آئی کیا

جون جیسے حلیے سے جون تو نہیں بنتا
دشتِ رائیگانی میں خاک بھی اڑائی کیا

کس کو خوفِ رسوائی عشق سر کا سودا ہے
جان پر بنے جس کی اس کو جگ ہنسائی کیا

میں لہو کی سرگوشی، سن مجھے اکیلے میں
شور و غل میں دنیا کے دوں گا میں سنائی کیا

آپ بھر کے لائے ہو آگ اپنی جھولی میں
دل جلے کہ گھر جاذب عشق میں دہائی کیا

(شکیل جاذب)

Shakeel Jazib

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/