منتخب غزلیں

رام ریاض۔۔۔۔ رام ریاض کب پیدا ہُوئے۔۔۔کہاں پیدا ہو…

رام ریاض۔۔۔۔
رام ریاض کب پیدا ہُوئے۔۔۔کہاں پیدا ہوئے۔۔۔ کب وفات پائی۔۔۔اس بارے میں تو آپ دیگر احباب کی تحریریں ملاحظہ فرما چکے ہوں گے ہم آپ کو۔۔۔رام ریاض کے متعلق۔۔۔کچھ اور بتاتے ہیں۔۔۔ہم نے اپنی تشکیک کو ۔۔۔۔ خانےوال کے جناب منظور علی کی تحریر سے دور کیا ۔۔۔۔۔ویسے بھی ہماری کوشِش ہوتی ہے کہ کوئی بات۔۔۔بلا تصدیق بیان نہ کی جائے ۔۔۔ رام ریاض جناب مجید امجد کے عاشق صادق تھے۔1971ءمیں جب خانےوال ملازمت کے سلسلے میں آئے تو ہرمہینے ساہی وال میں مجید امجد سے ملنے جاتے۔۔۔۔۔رام ریاض مجید امجد کو شاعروں کا قائداعظم کہتے تھے۔۔۔۔جن دنوں وہ شعر کہتے۔۔۔۔ان پہ ایک جنونی کیفیت وارد ہو جاتی۔۔۔۔یوں کہئے کہ شعر کہنا ان کے لئے ایک مکمل روحانی تجربہ ہوتا۔۔۔یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار ۔۔۔۔کرب کے ساتھ ساتھ نظری آہنگ اور منفرد تخلیقی توانائی کے مظہر ہیں۔جب وہ خانےوال میں آئے تو ان کا دل تین سالہ قیام کے دوران میں بالکل نہیں لگا۔۔۔۔۔باوجود اس کے کہ پنجاب کا کوئی مشاعرہ ریاض کے بغیر مکمل نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔مگر وہ اس شہر میں بھی مطمئن نہ ہو سکے۔۔۔۔۔ساغرؔ صدیقی کی طرح ۔۔۔۔۔ان کو قدرت نے دل کش ترنّم سے نوازا تھا۔۔۔۔۔۔۔وہ جب غزل سناتے تو تمام لوگ خاموش اور ساکت ہو جاتے۔۔۔ایک مشاعرے میں فیض نے انہیں پہلی بار سنا ۔۔۔۔تو تڑپ گئے۔۔۔۔اس محفل سخن میں رام ریاض نے جو غزل سنائی۔۔۔۔۔اس کے چند اشعار ملاحظہ کیجئے
تیری محفل میں ستارے کوئی جگنو لایا
میں وہ پاگل کہ فقط ،آنکھ میں آنسو لایا
جب بھی دنیا میں کسی قصر کی بنیاد پڑی
سنگ کچھ میں نے فراہم کیے ،کچھ تولایا
مجھے اک عمر ہوئی خاک میں تحلیل ہوئے
توکہاں سے مری آنکھیں ،مر ے بازو لایا
فیض نے یہ اشعار بار بار سُنے اوربے تاب ہو کے داد دی۔۔۔۔حافظ آباد کے ایک مشاعرے کی صدارت احمد ندیم قاسمی کر رہے تھے۔۔۔۔ بڑا مشاعرہ تھا۔۔۔ حبیب جالب بھی موجود تھے۔۔۔۔رام ریاض کوجب انہوں نے سنا تو۔۔۔ جالب کی آنکھیں بھیگ گئیں۔۔۔۔حالانکہ حبیب جالب ترنم میں لاثانی تھے۔۔۔۔۔۔۔حبیب جالب کے اصرار پرانہوں نے جب ۔۔۔۔یہ مطلع ۔۔۔۔تیسری مرتبہ سنایا
اب کے اس طرح ،ترے شہر میں کھوئے جائیں
لوگ معلوم کریں،ہم کھڑے روئے جائیں
۔۔۔۔تو حبیب جالب کوسنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔۔۔۔رام ریاض کے مزاج میں تصوف کا بہت دخل رہا۔۔۔۔بالکل ساغرؔ کی طرح۔۔۔وہ بھی دنیا کی دلکشی سے متاثر نہ ہو سکے۔۔۔مگر رام کی زندگی کا یہ رنگ ان پر مجید امجد کی ہم نشینی کے باعث چڑھا۔۔۔۔۔سماجی عدم مساوات، جاگیرداری، منافرت،مذہبی فرقہ بندی کا انہوں نے زندگی بھر مشاہدہ کیا اورپوری شدت کے ساتھ اس کے خلاف ڈٹے رہے۔۔۔۔مگر براہ راست بیان اور نظریاتی تبلیغ سے نفرت کی۔۔۔۔۔اس ضمن میں حبیب جالب مرحوم کو ۔۔۔ ایک مرتبہ برملاء کَہہ دیا۔۔۔ کہ ایک جان دارشاعر کو آپ نے ترقی پسندی اوربیان بازی کی خاطر قتل کردیا۔۔۔۔۔رام ریاض کے شعری طرز احساس میں جو گداز اورکاملیت ہے۔اس نے ان کے کلام کو یکسانیت اور تکرار سے بچائے رکھا۔۔۔۔۔۔ان کے یہ اشعار دیکھئے۔
میں نے اک عمر گنوائی تو یہ انداز ملا
سوچ لے،پھر مر ی آواز میں آواز ملا
ورق سنگ پہ تحریر کریں نقش مراد
اوربہتے ہوئے دریا میں بہاتے جائیں
توکبھی صبح کا تارا بن جائے
ہم تجھے دورسے تنہا دیکھیں
آگ پانی میں اگر جنگ ہوئی
کس طرف آدمی ہوگادیکھیں
ستارہ وار جو اُڑتے تھے آسمانوں میں
مثال گرد سر رہ گزار بیٹھ گئے
تر ی نگاہ فقیروں پہ اب اٹھے نہ اٹھے
تر ی نگاہ کے امیدوار بیٹھ گئے
رام ریاض کے آخری پانچ برس علالت اور تنگ دستی میں گزرے لیکن انہوں نے دست سوال دراز نہیں کیا۔۔۔۔۔رام ریاض کا یہ شعر ان کے آخری ایام کا عکاس ہے۔۔
اے دوست تراقرب مجھے چاٹ گیا ہے
میں اتنی مروت کا سزاوار نہیں تھا
اللہ ریاض صاحب کو رحمتوں سے نوازے۔(تحریر و تحقیق حکیم خلیق الرحمٰن)


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/