عالمی ادب
گیت جب ہم پہاڑی کے اس پار پہنچے خزاں کا کہیں دور دورہ نہ تھا دروں سے لڑھکتا و…
گیت
جب ہم پہاڑی کے اس پار پہنچے
خزاں کا کہیں دور دورہ نہ تھا
دروں سے لڑھکتا وہ مکڑی کا جالا
انگشت ہوا سے دریدہ نہ تھا
دیواروں پہ لٹکی ہوئی عشق پیچاں
بہاروں کے ہونے کی تمہید تھی
ابھی برگ و گل ٹہنیوں پر تھے قائم
زمیں پر کوئی خشک ٹہنی نہ تھی
مگر اس کی جنگلی گلابوں کی مالا
زرد پتوں کی صورت مرجھا گئی
مترجم: اعجازالحق
(SONG BY: T.S ELIOT)
When we came home across the hill
No leaves were fallen from the trees;
The gentle fingers of the breeze
Had torn no quivering cobweb down.
The hedgerow bloomed with flowers still,
No withered petals lay beneath;
But the wild roses in your wreath
Were faded, and the leaves were brown.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3838637073033464




Syed Daniyal Mehdii
zbrdst
خوب
آخری مصرعوں پر نظرِ ثانی فرمائیے ، پھول غائب ہو گئے ” اور ” پتے زرد تھے ۔۔۔
Amazing 😍