~ وعدہ (عربی اَدب سے ایک حکایت) ایک آدمی کئی راتیں سخت سردی میں آرام سے سوتا …

(عربی اَدب سے ایک حکایت)
ایک آدمی کئی راتیں سخت سردی میں آرام سے سوتا رہا۔ایک دن کسی راہگیر نے گزرتے ہوئے اسے کہا : ” میں تمہیں ایک گرم رضائی لا کر دوں گا”!!
وہ راہگیر اپنی منزل کو چلا گیا اور رضائی لانے کا وعدہ بھول گیا ، بوڑھا آدمی اس کا انتظار کرتے ہوئے سردی سے مر گیا۔لوگوں کو اس کی لاش کے پاس ایک مخطوط رقعہ ملا۔اس پر یہ الفاظ لکھے تھے :
” میں نے تمہارے آنے سے پہلے کئی راتیں سردی برداشت کی کیونکہ میرے پاس کوئی اور آسرا نہیں تھا مگر تمہاری بات نے مجھے ایک امید دلا کر اسے میرا آسرا بنا دیا اور میں نے تم پر امید لگا کر اپنی قوت کھو دی۔چناچہ…سردی نے مجھے مار ڈالا”۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنی بات اور وعدے کو ہمیشہ پورا کرو۔اور جب بولو تو الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرو۔اگر تمہاری امید کسی کو تسلی اور سہارا دے سکتی ہے تو اسے توڑ بھی سکتی ہے۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3837823473114824




کیسی خوب صورت بات ہے۔ 💖💖
تھوڑا کنپیوژن ہے بھایا۰
بوڑھے کے مخطوطہ رُقعے کے آخری الفاظ “سردی نے مجھے مار ڈالا” بوڑھے آدمی نے کب لکھے؟ مرنے کے بعد یا مرنے سے پہلے؟