**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)** **افسانہ نمبر 572 : حلقۂ دامِ خیال…

**افسانہ نمبر 572 : حلقۂ دامِ خیال**
**تحریر : ملینی فرناندس پنتازو (کیوبا)**
**مترجم : محمد فیصل (کراچی)**
میں ایک پبلشر سے وصول شدہ معاوضے کا چیک بھنانے بینک میں داخل ہوئی۔ میں نے گارڈ کو چیک دکھا کر سوال کیا کہ کیا یہ چیک اس برانچ سے کیش ہو جائے گا؟وہ عملے کے ایک رکن کے پاس گیا اور واپس آکر مجھے دو باتیں بتائیں۔ پہلی کہ میں چیک اسی برانچ سے کیش کروا سکتی ہوں اور دوسری یہ کہ بینک کا نیٹ ورک کسی وجہ سے بے حد سست ہو چکا ہے۔ مجھے ٹیکنالوجی کی زیادہ سمجھ تو نہیں مگر اس کی دوسری بات کا عملی ثبوت جلد ہی سامنے آگیا۔ بینک کا عملہ سست روی کے ریکارڈ قائم کر رہا تھا۔ جب بھی کمپیوٹر میں کوئی مسئلہ آتا وہ اداس نظروں سے گاہک کو دیکھتے اور سر ہلا دیتے۔ وہاں ایک شخص مفت کا گیان بانٹ رہا تھا۔ یہ شخص نیٹ ورک کی خرابی یا طویل اور ساکن قطار سے بالکل بھی پریشان نظر نہیں آرہا تھا۔وہ سکون سے سب کا علم بڑھانے میں مصروف تھا۔ اس کے مطابق بہت سے افراد غیر ملکی کرنسی کیوبن پیسو میں منتقل کر رہے ہیں۔ شرح تبادلہ میں بہت زیادہ اونچ نیچ ہو رہی ہے، ایک دن میں کرنسی کی مالیت یا تو بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے یا گر جاتی ہے۔
اس مہاتما سے جو اس منحوس دن بینک کی قطار میں اس طرح کھڑا تھا جیسے وہ اپنے گھر میں ہو، مجھے بھی بہت سی باتیں پتا چلیں۔ مجھے اس دن علم ہوا کہ سٹاک ایکسچینج کی طرح ہمارے یہاں کرنسی کے بھاؤ میں آنے والے اتار چڑھاؤ کی سائنس کے ماہرین موجود ہیں۔ وہ بخوبی اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ریٹ کم ہوگا یا زیادہ۔ دوسرے لفظوں میں کرنسی تبدیل کروانی چاہیے یا نہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ سوئیزر لینڈ میں غیر ملکی کرنسی کے ریٹ ٹی وی پر دکھائے جاتے ہیں۔ سٹاک ایکسچینج میں مختلف کمپنیوں کے سٹاک کی قیمت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں سونے کی فی اونس اور پٹرول کی فی بیرل قیمت بھی دکھائی جاتی ہے۔ NASDAQاورDow Jonesاور پتا نہیں کیا کیا بولتا رہا۔ اس کے مطابق دوسرے ملکوں میں اس طرح کی خبریں آخر میں دکھائی جاتی ہیں، مگر سوئس بینک دنیا بھر سے منفرد ہیں۔
مجھے NASDAQ اور Dow Jonesکے بارے میں کچھ نہیں پتا مگر میں نے اندازہ لگایا کہ یہ مالیاتی امور کے جادوگر ہوں گے۔ میں کوشش کے باوجود کسی سوئس بینک کو تصور میں نہ لا سکی۔ شاید غیر ملکی فلمیں دیکھنے والے ایک سوئس بینک دیکھ چکے ہوں۔ جہاں تک میرا مطالعہ تھا اس کے مطابق سوئس بینک مافیاز، سمگلرز، کرپٹ سیاست دانوں اور ٹیکس بچانے والوں کی جنت ہیں۔ایک بات البتہ میں سوچ رہی تھی کہ وہاں بینکوں کا کمپیوٹر سسٹم بہترین ہوگا اور وہاںاتنی لمبی قطاریں بھی نہیں لگتی ہوں گی۔
میں جس برانچ میں موجود تھی ، اس طرح کے بینک کسی فلم میں نہیں دکھائے جاتے۔ مجھ سمیت سارے گاہک DSLکو کوس رہے تھے جس کی خرابی ہم سب کے لیے باعثِ زحمت تھی۔ ہم کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے، مگر جیسے ہی کاؤنٹر سے کسی کا نام پکارا جاتا ، ہم اپنی کرسی چھوڑ کر ایک کرسی آگے منتقل ہو جاتے۔ یوں سمجھیے کہ سارے گاہک میوزیکل چئیر کھیل رہے تھے۔ مجھے اچانک نوے کی دہائی کی ایک کیوبن فلم یاد آئی جو "ایلس ان ونڈر لینڈ” کا مزاحیہ چربہ تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اس فلم کے لکھاری نے اس بینک کو سامنے رکھ کر لکھی تھی۔ اس فلم میں ہر جگہ ایسی ہی قطار دکھائی گئی تھی، بینک، ہسپتال، پاسپورٹ آفس، ٹرین سٹیشن، راشن ڈپوہر جگہ ایک ہی منظر تھا۔ اب پتا نہیں وہ حقیقت دیکھ کر اسے فکشن کا روپ دیتے ہیں یا فکشن کو حقیقت میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ میں خاموشی سے کرسیاں تبدیل کرتی رہی۔
نیٹ ورک کی خرابی دور نہ ہوئی تھی اسی لیے کرسی تبدیل کرنے کا وقفہ طویل ہوتا تھا۔ انتظار کے دوران ایک گاہک کی سستی کے باعث ایک کرسی خالی رہ گئی۔ اس پر ایک ماڈرن سی عورت قطار توڑ کر براجمان ہو گئی۔ یہ خاتون اسی وقت داخل ہوئی تھی اور کرسی خالی دیکھ کر اس پر آن بیٹھی۔ اس کے پاس ipadیاiphone یا ipodتھا جس سے ہیڈ فون منسلک تھے۔ اس نے ہیڈ فون کان میں لگائے اور ٹانگیں ہلانا شروع کر دیں۔ اس کے ہاتھ میں جو بھی تھا وہ بے حد جدید اور قیمتی تھا۔ شاید اسی وجہ سے وہ قطار توڑ کر پورے اعتماد کے ساتھ، کسی کی طرف دیکھے بغیر بیٹھ گئی۔ اس کی دیکھا دیکھی اس کے آگے بیٹھی ایک عورت نے بھی اپنا قیمتی فون نکال لیا۔ میری رائے تو میں بینکوں میں موبائل فون پر پابندی ہونی چاہیے۔ بینک ڈکیتی کرنے والے انھی فونز کے ذریعے باہر انتظار کرتے اپنے ساتھیوں سے رابطے کرتے ہیں( میرے ذہن میں Fast and Furious فلم آرہی تھی)۔
دونوں عورتوں میں برابر کا مقابلہ جاری تھا۔ دونوں اپنے موبائل فونز سے باقاعدہ کشتی کر رہی تھیں۔ مجھ سے آگے صاف ستھری وردی میں ملبوس ایک نرس بیٹھی تھی۔ اس کے پاس موبائل نہ تھا تاہم اس کے پاس فشارِخون ماپنے کا آلہ تھا۔ اس نے اسے ڈبے سے باہر نکالا اور اس کے ڈائل کو غور سے دیکھنے لگی۔ نرس سے آگے سوئس بینکوں کا دیوانہ براجمان تھا۔ اس نے ایک کیلکولیٹر تھاما ہوا تھا۔ موبائل فون والی خواتین اسے حیرت سے دیکھ رہی تھیں۔ ان کے مطابق شاید کیلکولیٹر معدوم ہوچکا تھا۔انھیں یہ سمجھنے میں دشواری ہو رہی تھی کی آج بھی ایسی مشینیں موجود ہیں جو نہ تصویریں کھینچ سکتی ہیں، نہ موسیقی سنا سکتی ہیں اور نہ ہی ان پر انٹرنیٹ کیا جاسکتا ہے۔ نرس اس آدمی کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے وہ بیمار ہو۔ مجھے تو یہ لگ رہا تھا جیسے وہ اس کیلکولیٹر پر آج کے ایکسچینج ریٹ کا حساب کتاب کر رہا ہے۔میں تو یہ سوچ رہی تھی کہ وہ کرنسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کس طرح کرتا ہوگا؟ شاید اس کا کوئی دوست سوئزر لینڈ سے اسے یہ معلومات فراہم کرتا ہو یا پھر اس نے سیٹلائٹ انٹینا لگایا ہو گا( ہمارے یہاں اس طرح کے کام چوری چھپے کیے جاتے ہیں۔ لوگ اتنے ہشیار ہیں کہ پولیس بھی ان انٹینوں کا سراغ نہیں لگا پاتی)۔ ایک آرٹسٹ نے تو ایسے ڈیزائن کی نمائش منعقد کی جن میں غیر قانونی ڈس انٹینے چھپائے جا سکتے تھے۔یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے پاس کوئی برق رفتار انٹرنیٹ کنکشن ہو جو اس بینک کے نیٹ ورک کی طرح بار بار خراب نہ ہوتا ہو۔ اس کنکشن کی بدولت وہ تمام ویب سائٹس دیکھ لیتا ہو۔
میں موبائل فونز والی خواتین کو دیکھتی رہی۔ دونوں نے کس طرح بے کاری کے وقفے سے محظوظ ہونے کا گُر سیکھ لیا تھا۔ اس وقت میرے پاس ڈائری موجود نہ تھی جس پر میں اپنا شہ پارہ تحریر کر رہی تھی۔ میرا گمان تھا کہ عمدہ لکھنے والے سبھی لکھاری قلم اور کاغذ ساتھ رکھتے ہیں۔ تاہم میرے پاس افسانوی مجموعے کا ایک مسودہ موجود تھا ۔ یہ مسودہ ایک مقابلے میں پیش کیا گیا تھا اور میں اس مقابلے کی جج تھی۔ کتاب کا نام” تم بلی کی طرح چلتے ہو” تھا اور مصنف کا قلمی نام حوان پیریز تھا۔ نام بڑا پھسپھسا تھا۔ ہو سکتا ہے اتنی زیادہ کہانیاں لکھنے کے بعد اپنا قلمی نام چننے کی سکت ختم ہو گئی ہو۔
داخلی دروازے پر گارڈز خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کائونٹر پر موجود عملے کی نظریں سکرینوں پر جمی ہوئی تھیں کہ نیٹ ورک کسی بھی وقت بحال ہو جاتا اور کسی بھی لمحے جواب دے جاتا۔ وہ سسٹم کی ناکارگی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ وہ لمحہ جب کام نہ کرنے کی وجہ نیٹ ورک تھا عملہ نہیں، لہٰذاسب بری الذمہ۔ ماڈرن خاتون نمبر ایک موسیقی سے لطف اندوز ہو رہی تھی ، اور دوسری ماڈرن عورت فون پر کچھ ٹائپ کر رہی تھی۔ نرس کی نظریں اپنے آلے پر تھیں اور ماہر معاشیات کیلکولیٹر پر کچھ حساب کر رہا تھا۔ میں نے مسودہ نکال کر ورق گردانی شروع کی۔ کتاب کا نام پہلے افسانے سے مستعار لیا گیا تھا۔ ابھی میں نے کتاب کھولی ہی تھی کہ بینک کا مرکزی دروازہ زور دار آواز سے کھُلا اور چار ڈکیت اندر داخل ہوئے۔ سب کے چہروں پر نقاب تھے اوران کے ہاتھوںمیں خطرناک قسم کی پسٹلز یا شارٹ گن تھیں۔ انھوں نے آتے ساتھ ہی گارڈز کو بے بس کیا اور سب زمین پر لیٹ جانے کا حکم دے دیا۔ دونوں ماڈرن عورتیں چیخنے لگیں۔ ایک غنڈہ ان کے پاس آکر انھیں دھمکانے لگا اور ان دونوں کے فون چھین کر دور پھینک دیے کہ وہ پولیس کو نہ بلا سکیں۔ انھوں نے اس بندے سے کیلکولیٹر بھی چھین کر دور پھینک دیا۔ جب ہم سب زمین پر لیٹ کر اپنے ہاتھ اپنے سروں پر رکھ چکے تو اس نے میرے کان میں سرگوشی کہ سوئس بینکوں میں یہ سب نہیں ہوتا۔ ایک غنڈے نے اسے ڈانٹ کر چپ کروایا۔ ہم سب کا چپ رہنا ہی بہتر تھا۔
آنے والے پوری تیاری سے آئے تھے۔ انھوں نے منٹوں میں عملے کے ارکان کے ہاتھ باندھے اور منہ پر ٹیپ لگادی۔ انھیں اس بات کا بھی علم تھا کہ ان کے پاس وقت بہت کم ہے۔ بینک کی ایک دیوار شیشے کی تھی اور اس مصروف علاقے سے گزرنے والے اندر دیکھ کر پولیس کو بلا سکتے تھے۔ چوں کہ نیٹ ورک میں مسئلہ تھا لہٰذا تجوری کی چابیاں اس دن وہاں نہیں منگوائی گئیں۔ اب انھیں کاؤنٹر کی درازوں پر ہی اکتفا کرنا تھا۔ ہم میں سے بہت سے خود کو کوس رہےتھے کہ سسٹم کی خرابی کے باوجود وہ یہاں کیوں بیٹھے رہے۔
سوئس بینکوں کے دیوانے کی حالت غیر ہونا شروع ہو گئی۔ نرس نے ڈاکوؤں سے منت کہ وہ اسے اس کا معائنہ کرنے کی اجازت دیں۔ اس نے اپنا آلہ بھی دکھا یا تاکہ انھیں یقین آجائے کہ وہ ایک ماہر نرس ہے۔ ایک ڈاکو نے اس آلے کو زور کی ٹھوکر لگائی۔ وہی غنڈہ زور سے بولا کہ اگر ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں تو آرام سے لیٹے رہیں ورنہ ۔۔ مگر ڈاکو بھی انسان ہوتے ہیں اور ان میں اچھائی بھی ہوتی ہے۔ تاہم یہاں دونوں میں بحث چھڑ گئی۔ ایک اس حق میں تھا کہ نرس مریض کو دیکھ لے ، جب کہ دوسرا اسے منع کر رہا تھا۔ ایک نے پہلےتو انسانیت کی دہائی د ی اور پھر کہاکہ نرس اس آلے سے کیا کر سکتی ہے۔ جب تک وہ اسے دیکھے گی وہ ان کے سر پر کھڑا رہے گا۔ آخر یہ دلیل کام کر ہی گئی کہ اگر اس بندے کو کچھ ہوگیا تو ان پر دو الزام آئیں گے، ایک ڈکیتی دوسرا قتل۔
نیک طینت ڈاکو صاحب ِ علم بھی تھا۔ سقراط کو اس کی یہ ادا بہت پسند آتی کہ مجرموں کے درمیان رہنے کے باوجود اس کے اندر کا انسان زندہ تھا۔ اسے ساری دفعات اور واقعات یاد تھے جن میں ڈکیتی کے دوران مناسب طبی سہولیات نہ ملنے پر ایک شخص کا انتقال ہو گیا۔ اس نے پورے رسان سے ایک ایک شق اور جرائم کی تفصیل بتائی جو پکڑے جانے کی صورت میں ان پر لاگو ہوسکتی تھی۔ آخر میں اس نے ان جیلوں کی نشان دہی بھی کر دی اور عرصہ بھی بتلایا جہاں سزا کی صورت میں وہ قید کیے جائیں گے۔
ان کے سرغنہ کا ماننا تھا کہ اگر وہ اسی بحث میں پڑے رہے تو ان کا منصوبہ ناکام ہو جائے گا اور وہ یقیناً پکڑے جائیں گے لہٰذا انھیں اپنا کام جلد از جلد ختم کردینا چاہیے۔ نرس نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھلے اسے گولی ماردیں مگر وہ اپنے حلف سے غداری نہیں کرے گی اور اس مریض کا معائنہ کرکے رہے گی۔ اس نے اٹھنےکی کوشش مگر ایک ماڈرن عورت نے رونا شروع کردیا کہ وہ ان سب کو قتل کروائے گی۔ سب کے زندہ بچنے کی یہی صورت ہے کہ وہ چپکی پڑی رہے۔ عورت کے رونے سے ڈاکوئوں میں بے چینی پھیل گئی۔ ایک کا صبر کا جواب دے گیا۔ ہر گروہ میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جو پریشانی، گھبراہٹ یا غصے میں آکر کام بگاڑ دیتے ہیں۔ یا تو وہ کسی گولی مار دیتے ہیں یا پھر پولیس /اپنے گروہ کے سرغنہ کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔
نیک طینت ڈاکو کو ہماری نگرانی پر مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے ظاہر تھا وہ عملے کو، گارڈز کو ڈرانے دھمکانے کی صلاحیت اور تجوریوں یا درازوں سے روپے نکالنے کی ہمت یا حوصلےسے عاری تھا۔ اس کی نظر مسودے پر پڑی جو کسی بھی طور خطرناک نہیں تھا۔ البتہ زمین پر بے ہنگم طریقے سے لیٹنے کی وجہ سے اس کا سر ورق پھٹ گیا تھا مگر مسودہ میرے پاس ہی پڑا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ میری تخلیق ہے؟ میں نے اسے بتایا کہ میں ایک مصنفہ ہوں اور یہاں اپنی رائلٹی کا چیک بھنانے آئی ہوں۔ چوں کہ یہاں قطار بے حد طویل تھی لہٰذا میں نے اس کا مطالعہ شروع کر دیا ، میں بہترین کتابوں کے ایک مقابلے کی تین ججوں میں سے ایک ہوں اور یہ کتاب اس مقابلے میں بھیجی گئی تھی۔ اس نے مسودہ کی ورق گردانی شروع کردی اور مجھ سے پوچھا کہ کیا مجھے یہ کتاب پسند آئی؟ میں نے اسے بتایا کہ میں نے ابھی اسے کھولا ہی تھا کہ تم لوگ اندر آگئے۔ اس نے صفحے الٹتے ہوئے کہا کہ اسے یہ کتاب پسند آئی ہے اور اگر وہ جج ہوتا تو اسے ضرور انعام دیتا۔
میں نے اسے بتایا کہ یہ اتنا آسان نہیں ہے ۔ مقابلے کے دو ججز اور ہیں اس کتاب کے علاوہ بھی بیس کتابیں وصول ہوئی ہیں۔یہ بھی سچ تھا کہ ابھی تک میں نے جتنی کتابیں پڑھی تھیں وہ انعام کے قابل نہیں تھیں مگر ابھی یہ کتاب اور اس کے علاوہ دو کتابیں پڑھنا باقی تھیں۔ میں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ میں واحد جج ہوں جو ساری کتب پڑھتی ہوں اور باقی دونوں ججز میری رائے کا احترام کرتے ہیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ ڈاکو نقاب کے پیچھے مسکرایا ہے۔ اس نے اتنا کہا کہ اس کے مطابق حوان پیریز کے انعام جیتنے امکانات تینتیس فی صد ہیں۔ یہ کہہ کر وہ وہاں سے دور ہوگیا۔
میرا منہ کھُل گیا۔ یہ پڑھا لکھا ڈاکوڈکیتی میں تو چاہے جیسا ہوحساب کتاب میں کتنا تیز تھا۔پھر ایک اور احساس ہوا جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ کتاب کا سرورق پھٹ چکا تھا اور اسی پر مصنف کا نام لکھا تھا؟ اسے کیسے پتا کہ اس کتاب کا مصنف حوان پیریز تھا۔ سیدھی سی بات تھی جو ڈاکو قانون سے مکمل طور پر واقف ہے، حساب بھی جانتا ہے وہ اپنے لکھے کو بھی پہچانتا ہو، ہو نہ ہو یہ ہی حوان پیریز ہے۔ موقع واردات پر میں واحد ہستی تھی جسے ایک ڈاکو کی شناخت کا علم ہو گیا تھا۔ مگر یہ معلومات بھی بے کار تھیں۔ حوان پیریز ایک قلمی نام تھا اور یہ اسی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے جب کسی نے اپنی شناخت چھپانی ہو۔ اب خواہ وہ لکھاری ہو یا ڈکیت، یا پھر دونوں۔
میں نے سوچا کہ اگر میں آج یہاں سے زندہ بچ نکلی تو میں یہ مسودہ پولیس کے پاس لے جاؤں گی۔ وہ اس پر سے انگلیوں کے نشان، DNAوغیرہ تلاش کر لیں گے ۔ یا پھر یہ پتاچلا لیں گے یہ کس پرنٹر پر پرنٹ ہوا ہےاور اگر ایک بار اس کی شناخت ہو جائے تو اسے ملک کے کسی بھی کونے سے گرفتار کیا جاسکے گا۔ فارنزک سائنس نے کتنی ترقی کر لی ہےمگر ڈاکو بھی بہت سمجھ دار ہو چکے ہیں۔ میں نے ان ڈاکوئوں پر نگاہ ڈالی۔ سب کے چہرے نقاب میں تھے، پورا لباس سیاہ اور ایسا کہ وہ پورے سکون اور آرام سے سارے کام کر سکیں۔ پیروں میں مہنگے جوگرز اور ہاتھوں پر دستانے۔ اگر یہ ڈکیت نہ ہوتے تو یقیناََ کسی ڈانس گروپ کا حصہ ہوتے۔
یہ بھی ممکن تھا کہ لکھاریوں کی یونین میں کسی کو یاد آجائے کہ یہ مسودہ کس نے جمع کروایاتھا؟ان کے پاس وہ سربمہر لفافہ یقیناً ہوگا جس میں مصنف کا اصل نام اور پتا محفوظ ہو گااور اسے اسی صورت میں کھولا جائے گا کہ مصنف یہ انعام جیت جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حوان پیریز نے کتاب بذریعہ ڈاک بھیجی ہو اور جس لفافے پر مصنف کا پتا تحریر ہو وہ کسی نے پھینک دیا ہو۔مگر ایک بات تو طے تھی کہ اگر حوان پیریز انعامی رقم جیتنا چاہے جو اگرچہ آج کی ڈکیتی کی رقم سے بے حد کم ہوگی تو اسے سامنے آنا ہوگا۔ اگر وہ اپنی کتاب شائع کروانا چاہتا ہے، اس کی رونمائی کروانا چاہتا ہے، اس پر تبصرے چھپوانا چاہتا ہے اور رائلٹی کا معاوضہ حاصل کرنے کے لیے کسی بینک کی قطار میں بیٹھا ہوگا تو اسے سامنے آنا ہوگا۔ اسے اپنی شناخت، پتا، بینک اکائو نٹ کی تفصیل سب کچھ سامنے لانا ہوگا۔
ڈاکوؤں کے آتے ہی گویا وقت کو پر لگ گئے۔ اچانک گھڑی نے گھنٹہ پورا ہونے کا اعلان کیا تو ایک ڈاکو نے اس پر فائر کر دیا۔ زوردار چھناکے کی آواز آئی اور گھڑی کے ٹکڑے فرش پر بکھر گئے۔ ہم میں سے کئیوں کی چیخ نکل گئی۔ اچانک منظر بدلا اور کم از کم مجھے تو یوں محسوس ہوا کہ بینک کے ہر کونے، ہر کھڑکی، ہر دراڑ سے پولیس والے در آئے۔ یہ بینک ڈکیتیاں روکنے والا خصوصی دستہ تھا جو سر تا پیر بلٹ پروف لباس میں ملبوس تھا۔ان کے پاس جدید ترین اسلحہ تھا۔ ہم سب چیخ اٹھے، سوائے بینک ملازمین کے جن کے منہ پر ٹیپ لگی تھی۔ سب زمین سے چپک کر رہ گئے تاکہ گولیوں سے محفوظ رہ سکیں۔ آئی فون والی عورت کو نہ جانے کیا سوجھی کہ اس ہنگامے میں اپنا فون اٹھانے لپکی۔ میں نے حوان پیریز کی تلاش میں سر اٹھایا۔ مجھے اس کی ایک جھلک نظر آئی۔ وہ ماسک اتار چکا تھا مگر اس کا منہ دوسری طرف تھا۔ اسی چیخ پکار اور ہنگامے میں حوان میں نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ مجھے کلائیو اوون کی ایک فلم یاد آئی جس میں ڈکیت یرغمالیوں میں گھُل مِل جاتے ہیں۔ اس فلم میں چور اتنے زبردست تھے کہ ان کی کارروائی کی داد دینی پڑتی تھی۔ مگر آج کے واقعے کے بعد خواہ ڈاکو جتنے بھی ذہین ہوںمیں صرف اور صرف قانون کا ساتھ دینا چاہوں گی ۔اگرچہ میں ڈاکوؤں کا ساتھ نہیں دوں گی مگر میرے دل میں حوان پیریز کے لیے ہم دردی کے جذبات تھے۔ مستور چہرہ، فرضی نام، قانون اور حساب میں ماہر اور سب سے بڑھ کر رحم دل جو بالکل ایک بلی کی طرح چلتا ہے، کتاب میں بھی اور اصل زندگی میں بھی۔
پولیس نے جلد ہی ڈاکوؤں پر قابو پالیا۔ ایک افسر نے ہمیں بیٹھنے کا کہا اور انتہائی نرم آواز میں چند اعلانات کیے۔ اس کے مطابق ہم سب گواہ ہیں اور بطور ذمہ دار شہری ہمیں گواہی دینی چاہیے۔ میرے دل میں خواہش جاگی کہ کاش حوان یہاں موجود ہوتا تو میں اس سے دریافت کرتی کہ کیا قانون کے مطابق بیان جمع کروانا اور عدالت میں گواہی دینا ضروری ہے۔ پولیس افسر نے یہ بھی بتایا کہ ہمارے حقوق کیا ہیں اور تاکید کی جب تک تحقیقات مکمل نہ ہو جائیں اخبار والوں سے دور رہیں۔ ہم سب نے اپنے نام اور پتے پولیس کو فراہم کر دیے ۔ انھوں نے ہمیں مطلع کیا کہ اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں وہ ہم سے رابطہ کریں گے۔
میں نے فیصلہ کیا کہ میں پولیس کو حوان پیریز کے بارے میں نہیں بتاؤں گی۔ وہ اگرچہ ڈاکو تھا مگر اس نے سوئس بینک کے دیوانے کے لیے نرم دلی دکھائی ۔ وہ حساب میں ماہر ہے، قانون جانتا ہے اور لکھاری ہے۔ ایسے قابل ڈکیت تو جیل میں ڈالنا زیادتی ہوگی۔ میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں اسے ہی پہلا انعام دوں گی تا کہ اسے پتا چلے کہ میں نے اسے دھتکارا نہیں۔ اس کے ساتھی یقیناً اس سے دھوکہ کرتے۔ وہاں کے حالات دیکھ کر سب اندازہ لگا سکتے تھے کہ ڈاکوئوں کا سرغنہ اسے زیادہ پسند نہیں کرتا تھا۔
پھر ایک اور خیال آیا کہ اگر میں نے اسے انعام دے دیا تو یہی سمجھے گا کہ یہ اسے پکڑنے کا ایک جال ہے۔ اگر وہ جیت بھی گیا تو انعام وصول کرنے نہیں آئے گا۔ اسے ڈر ہوگا کہ ادھر وہ انعامی تقریب میں آیا اور ادھر پولیس اس کے استقبال کے لیے تیار ہوگی۔ یقیناً اس جیسا ذی شعور آدمی اس جھانسے میں نہیں آئے گا۔ مگر سوال یہ تھا کہ اس نے وہ کتاب مقابلے میں کیوں بھیجی؟ کیا یہ اس نے اس گروہ میں شامل ہونے سے پہلے بھیجی تھی؟ وہ کن حالات میں لکھاری بننے کی بجائے ڈاکو بن بیٹھا۔ ایک اور خیال کوندے کی طرح لپکا،شاید حوان پیریز خفیہ پولیس کا آدمی تھا اور اسی کی بدولت پولیس کا آپریشن اتنی جلدی او رکام یابی سے مکمل ہو گیا۔ پولیس کے دیر سے آنے کی ایک ہی وجہ تھی کہ ڈاکوؤں کو اس پر شک نہ ہو اور حوان کو وہاں سے بھاگنے کا وقت مل جائے اور دوسرے پکڑے جائیں۔ مگر یہ نظریہ بھی درست مانا جائے تو بھی وہ انعام لینے نہیں آسکتا تھا۔ انعامی تقریب میں ٹی وی اور اخباری نمائندے موجود ہوتے ہیں جو اس کی تصویریں لیتے اور انھیں چینلز اور اخبارو ں میں شائع کرتے۔
پولیس نے بینک کے دروازے کھول دیے۔ سب سے پہلے ایک سٹریچر پر سوئس بینک والے کو باہر لے جایا گیا۔ بہادر نرس اس کے ساتھ ہی تھی۔ اسے طبی امداد دے کر ایمبولینس میں ڈال کر قریبی ہسپتال لے جائیں گےاور تھوڑی ہی دیر میں ہم بھی اپنی عام سی زندگیوں میں، کھلی ہوا میں سانس لے سکیں گے۔ ایسی زندگی جس میں نہ کوئی خاص بات ہوگی نہ کوئی خطرہ۔
اوپر جو کچھ بیان کیا گیا وہ سب غلط تھا۔ نہ وہاں پولیس تھی، نہ ڈاکو اور نہ صاحب علم ، حساس اور سمجھ دار چور حوان پیریز۔ وہاں صرف فرضی نام والے مصنف کی ایک فضول سی کتاب تھی۔ قطار اسی طرح سست روی سے بڑھ رہی تھی۔ان کا نیٹ ورک اسی طرح کبھی چل جاتامگر زیادہ وقت خراب رہتا۔ بینک کی گھڑی مسلسل ٹک ٹک کر رہی تھی۔ پوری برانچ پر جمود طاری تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہاں موجود ہر ذی روح نیند میں ہے۔ وہاں موجود افراد بچوں کی طرح لگ رہے تھے۔ ہر بچے کے ہاتھ میں اپنا اپنا کھلونا تھا۔ ان کے ہاتھوں میں آئی فون،موبائل فون، کیلکولیٹریا بلڈ پریشر ماپنے کا آلہ تھا یا پھر ایک فضول سی کتاب جس کا فضول سا نام تھا۔
بینک کا دروازہ کھُلا اور سرخ بالوں والی ادھیڑ عمر عورت داخل ہوئی۔ وہ مجھ سے پوچھنے لگی کہ کیا وہ میرے ساتھ والی کرسی پر بیٹھ سکتی ہے؟ میں نے سر ہلایا اور اپنا چیک کیش کروائے بنا بینک سے باہر نکل گئی۔
(انگریزی سے اردو ترجمہ)
مصنف کا تعارف:
**ملینی فرناندس پنتازو**
**Mylene Fernández Pintado**
**-1963**
_____________
بنیادی طور پر وکالت کے شعبے سے تعلق رکھنے والی ادیبہ کی تخلیقات نہ صرف کیوبا بلکہ فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بھی مقبول ہیں اور ان ممالک کے کئی ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں۔ ان کی کہانیوںپر کئی ٹیلی وژن ڈرامےاور فلمیں بن چکی ہیں۔ اب تک ان کی نثر کے پانچ مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3832252850338553



