مختصر کہانیاں

#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو #تحریر_فرحت_اشتیاق قسط 1 سن…

#وہ_اک_ایسا_شجر_ہو

#تحریر_فرحت_اشتیاق

قسط 1
سناٹے کو چیڑتی فائر کی آواز گونجی تھی اور ساتھ ہی کسی جانور کی خوفناک سی چنگھاڑ بھی سنائی دی تھی۔ وہ جو پہلے ہی حواس باختہ سی ڈری سہمی نظروں سے اردگرد کا جائزہ لے رہی تھی اس اچانک افتاد پر بے ساختہ بوکھلا کر ایک طویل و عریض چیخ اس کے منہ سے برآمد ہوئی.
پھر اس چیخ کا گلا بڑی بے دردی اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر گھونٹ دیا گیا اور ساتھ ہی انگریزی میں نہایت سفاک لہجے میں کہا گیا
خبردار کوئی حرکت کی یا آواز نکالی تو جان سے مار دوں گا اور وہ بےچاری تو پہلے ہی اتنی سہمی ہوئی تھی باقی کسر اس کے سفاک لہجے نے نکال دی اس سے تو خوف کے مارے پیچھے مڑ کر یہ تک نہ دیکھا گیا کہ اسے دھمکانے والا جلاد آخر ہے کون
وہ بدستور اس کے منہ پر ہاتھ رکھے اسے گھسیٹتا چند قدم پیچھے ہٹا اور پھر دور لا کر زور سے زمین پر پٹختا ہوا بولا
بغیر کوئی آواز نکالے یہاں لیٹی رہو۔ پہلے ہی میرا سارا پلان چوپٹ کر دیا ہے اگر ذرا سی بھی آواز نکالی تو چھوڑوں گا نہیں
آئلہ بیچاری تو اتنی پتھریلی اور کھردری زمین پر پٹخے جانے پر اپنی بازو سے نکلتا خون ہی دیکھتی رہ گئی اور وہ دوبارہ آگے بڑھ گیا
اس کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکلے
یااللہ! یہ کس جرم کی سزہ ہے اتنے ویران اور خوفناک جنگل میں اتنے ہی خوفناک آدمی سے پالا پڑا ہے یااللہ مدد فرما وہ خاموشی سے آنسو بہاتی اپنی چوٹیں سہلا رہی تھی جب وہ واپس آتا دکھائی دیا
آئلہ نے دور سے اسے اپنی سمت آتے دیکھا تو نئے سرے سے سہم گئی اس کی خوفناک سی دھمکی اسے بری طرح خوفزدہ کر گئی
تمہاری وجہ سے میری اتنے دنوں کی محنت ضائع ہوگئی اسٹوپڈ لڑکی میرا دل کر رہاہے تمہارا گلا دبا دوں تمہیں اتنی بے تکی سی چیخ مارنے کی کیا ضرورت تھی اگر اتنی ہی بے ڈرپوک ہو تو اس جنگل میں کیا کر رہی ہو
جاکر اپنے گھر بیٹھو آرام سے وہ اس کے اوپر کھڑا اسے گھورتا ہوا بول رہا تھا انداز ایسا تھا جیسے اسے کچا چبا جانا چاہتا ہو
تین دن سے اس کی تاک میں تھا آج جا کر یہ سنہری موقع میرے ہاتھ آیا تھا پر تم پتا نہیں کیا سے نازل ہو گئیں نہ یو فضول طریقےسے چیختیں نہ وہ چونکتا صرف تمہاری وجہ سے میرا نشانہ چونک گیا اور گولی اس کی ٹانگ میں لگی وہ بری طرح اس پر برس رہاتھا اور وہ خاموشی سے آنسو بہانے میں مصروف تھی
پتا نہیں وہ جھاڑیوں میں کہاں چھپ گیا ہے زخمی شیر کو تو یوں چھوڑا بھی نہیں جاسکتا اب تو میری بجائے وہ میری تاک میں ہوگا آخر اسے اپنے ذخمی کیے جانے کا انتقام بھی تو لینا ہے
وہ خودکلامی کرنے میں مصروف تھا وہ کچھ سوچتے ہوئے اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا
اور وہ رونا دھونا بھول کر بس زخمی شیر کے نام پر دہل گئی اس کی خوف سے پھیلی آنکھوں پر نظر پڑی تو طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا
تم تو اپنی خیر منائو کیا پتا میری بجائے تم ہی اس کے ہتھے چڑ جائو بڑا عیار ہے تین دن سے مجھے نچاکر رکھا ہوا ہے کچھ تمہیں بھی سزا ملے یوں بے موقع چیخنے کی
اور پھر اس کے جواب کا انتظار کیے بنا وہ آگے بڑھ گیا ۔

یہ تو شاید واپس جا رہا اوہ مجھے اسی سے ہیلپ مانگنی چاہئے جیسا بھی آخر ہے تو انسان نا چاہے جلاد نما ہی سہی اس زخمی شیر سے تو بہتر ہے نا اگر یہ بھی چلا گیا تو میرا کیا بنے گا اس سوچ کا ذہن میں آنا تھا کہ وہ جو اتنی دیر سے مستقل ایک ہی اینگل میں بیٹھی تھی اٹھ کر اس کے پیچھے بھاگی
چیخ کر اسے قصدا آواز نہیں دی کہ وہ پہلے ہی اس کے چیخنے سے چڑا ہوا تھا
وہ بڑی سست روی سے چل رہا تھا اس لیے آئلہ نے دو چار سیکنڈ میں ہی اسے جا لیا اور پھولی ہوئی سانس سے اس سے مخاطب ہوئی
دیکھئے میں یہاں راستہ بھول کر آگئی ہوں آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ میری مدد کر دیں تو۔ وہ جو اس کے بھاگ کر اپنے پیچھے آنے پر حیران تھا اس کی بات سن کر بے نیازی سے بولا
اول تو مجھے خدمت خلق کا کوئی شوق نہیں دوئم آگر ہوتا بھی تو تمہاری تو ہرگز نہ کرتا میری طرف سے معذرت
اس پر ایک سخت غصے سے بھرپور نگاہ ڈال کر جیسے ہی آگے بڑھا آئلہ اس کے سامنے آگئی اور ہاتھ جوڑ کر بولی
پلیز آپ میری مدد کریں آپ کو انسانیت کا واسطہ دیکھیں میں جان بوجھ کر نہیں چیخی تھی آپ مجھے معاف کر دیں میں اس خوفناک جنگل میں خوف اور دہشت سے ہی مر جائوں گی
اس کے سامنے وہ ہاتھ جوڑے کھڑی تھی آنکھوں میں التجا تھی
وہ دو چار منٹ اسے گھورتا رہا پھر آگے بڑھتا ہوا بولا آئو
وہ جو اتنی دیر سے امیدوبیم کی کیفیت میں کھڑی تھی ایک دم پرسکون ہو کر اس کے پیچھے چل پڑی
جب کہ وہ اس بات سے قطعا بے نیاز نظر آرہا تھا کہ وہ اس کے پیچھے آرہی ہے یا نہیں آئلہ تقریبا بھاگ رہی تھی لیکن پھر بھی اس سے کافی پیچھے تھی بھاگتے بھاگتے اس کی ٹانگیں بری طرح شل ہوگئی تھی سانس پھول گیا تھا
لیکن وہ پھر بھی بھاگ رہی تھی یوں جیسے اسے خوف ہو کہ وہ اسے چھوڑ کر چلا جائے گا اسے شاید ایسے بھاگتے دوڑتے آدھا گھنٹہ گزر گیا تھا جب وہ ایک جیپ کے پاس جا کر رک گیا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اس نے ساتھ والی سیٹ کا دروازہ کھول دیا آئلہ کے بیٹھتے ہی اس نے جیپ فل سپیڈ میں دوڑانہ شروع کر دی
اسے شاید ہر کام تیز رفتار کرنا پسند تھا
تیز چلنا ‘تیز گاڑی چلانا اور تیز آواز میں بھول کر سامنے والے کو دہلانا
اس کی طرف تو اس نے سرسری نظر سے بھی نہیں دیکھا تھا جبکہ وہ چوری چوری کتنی بار اس کی طرف دیکھ چکی تھی
بلیک جینز بلیک ہی جیکٹ لانگ شوز کندھے سے لٹکتی رائفل جیکٹ کی جیب میں ٹھونسا ریوالور اور پینٹ کی جیب میں اڑسا خنجر
وہ شاید کوئی پروفیشنل شکاری تھا اس لیے 11 کی جیپ چلانے کا انداز اور اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے وہ اس جگہ اور یہاں کے حالات سے مکمل آگاہی رکھتا ہے آئلہ کے دل کو کچھ اطمینان ہوا
شکر ہے درست بندے کے پاس پہنچ گئی اگر یہ بھی میری طرح انجان آدمی ہوتا تو میں تو گئی تھی کام سے
وہ اس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد سوچ رہی تھی اسی وقت جیپ ایک جھٹکے سے رکی
اس سے کچھ بھی کہے بغیر وہ ایک جھٹکے سے جیپ سے نیچے اترا اور سامنے نسب خیمے کا پردہ اٹھا کر اندر چلا گیا
وہ اس کی بدتمیزی پر کھول کر رہ گئی
اتنا بےہودا اور بدتمیز انسان ہے نا اگر مدد کر ہی دی تھی تو کچھ انسانیت کا ثبوت تو دے دے وہ وہی جیپ میں بیٹھی جل رہی تھی

جب یونہی بیٹھے بیٹھے دس پندرہ منٹ گزر گئے اور وہ دوبارہ باہر نا نکلا تو مجبورا وہ خود جیپ سے نیچے اتری اور بن بلائے مہمان کی طرح خیمے میں داخل ہو گئئ اسے اپنی اس بےشرمی پر سخت تائو آرہا تھا لیکن حالات کا تقاضا تھا کہ گدھے کو باپ بنا لیا جائے اس لیے اس نے چہرے کے تاثرات بھی دوستانہ رکھے اس کا خیمہ کیا تھا پورا لگژری بیڈروم تھا کم از کم اس نے زندگی میں جتنے خیمے دیکھے تھے ان سب سے مختلف تھا پورا خیمہ تو وال ٹو وال کارپٹڈ تھا میرون کلر کا دبیز اور آرقم دہ قالین جس پر سبز اور سنہری پرنٹ تھا سنگل فولڈنگ بیڈ جس پر ہلکے نیلے رنگ کی چادر بچھی تھی اور سائیڈ پر فولڈنگ چیئر رکھی تھی ذرا آگے ایک میز تھی جس پر ٹائم پیس، ٹیپ ریکارڈ، دوچار کتابیں اور سگریٹ کی ڈبیا رکھی تھی بیڈ کے سامنے یعنی خیمے کی دوسری دیوار کے ساتھ دو فلورکشن رکھے تھے ایک عدد ڈسٹ بن بھی تھا اور ساتھ ہی ایک میز پر چولہا رکھا تھا اسی میز پر دوچار برتن اور کچھ کھانے پینے کا سامان بھی نظر آرہا تھا یاالہی یہ کوئی نواب صاحب ہیں یا شکاری اتنے شاہانہ انداز میں تو کسی کو شکار کرتے نہیں دیکھا یہ صاحب تو لگتا ہے ہیاں مستقل قیام فرماتے ہیں
وہ اس کی آمد کا نوٹس لیے بنا اپنے لیے چائے بنانے میں مصروف تھا جب چائے بن گئی تو آرام سے فلورکشن پر ٹانگیں پسار کر بیٹھ گیا اور سپ لینے لگا
اپنی اتنی انسلٹ پہ اسے سخت غصہ آرہا تھا لیکن کوئی اور جائے پناہ نہیں تھی اس لیے مجبورا خود کو گھسیٹتی وہی قالین پر سمٹ سمٹا کر بیٹھ گئی وہ بڑی مشکل سے خود کو سمجھا رہی تھی اور اپنی انا اور اونچی ناک کو تھپک تھپک کر سلا رہی تھی
ذرا سوسوچو اگر یہ نا ملتا تو کیا ہوتا وہ زخمی شیر تو کب کا مجھے ثیڑ پھاڑ چکا ہوتا ان حالات میں اس کا ملنا بھی غنیمت ہے وہ مسلسل خود کو سمجھا رہی تھی اور وہ بڑی خاموشی کے ساتھ اسے خود سے جنگ کرتے دیکھ رہا تھا جب چائے پی چکا تو وہی فلورکشن پر سر رکھ کر لیٹ گیا
آئلہ نے دوچار بار سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا لیکن اس کی بند آنکھوں سے پتا نہیں چل رہا تھا کہ وہ سو رہا ہے یا جاگ رہا ہے کافی دیر گزر گئی
وہ جب اس کے ساتھ آئی تھی تو ساڑھے چار بج رہے تھے اور اب چھ ہو رہے تھے صبح سے وہ جتنے مشکل حالات کا سامنا کر رہی تھی اب تھک کر نڈھال ہو چکی تھی اور کچھ غنودگی بھی طاری ہو رہی تھی
وہ نیند کو بھگانےکی پوری کوشش کر رہی تھیلیکن اس خیمے کا آرام دہ ماحول اسے کامیاب نہیں ہونے رہا تھا
اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ایک کپ چائے بنا کر پی لے لیکن ایسا کرنا اس کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف تھا
اس لیے خود پر ضبط کیے بیٹھی رہی اور پھر نا جانے کب بیٹھے بیٹھے ہی سوگئی

جاری ھے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/