مختصر کہانیاں

بھگوڑا قسط نمبر ۲ ریاض عاقب کوہلر ہم دونوں تیز رف…

بھگوڑا قسط نمبر ۲
ریاض عاقب کوہلر

ہم دونوں تیز رفتاری کا ریکارڈ توڑتے رحمن خیل کی طرف بھاگے جارہے تھے۔ یوں بھی بھاگنا دوڑنا کمانڈو سروس کا خاصا ہے۔ لیکن اس وقت کا دوڑنا کمانڈو سروس کی بہ نسبت رفتار کی وجہ سے مختلف تھا گاﺅں کی حدود میں داخل ہونے تک ہمارے سانس پھول چکے تھے۔ مکانات کی حدود کے قریب جا کر امجد رک گیا۔ یہ دوراہا تھا وہاں سے ایک راستا گھر کی طرف اور دوسرا ہماری زمینوں کی طرف جارہا تھا۔
”کدھر چلیں؟“ اس نے پھولی سانسوں کے درمیان پوچھا اور میں جواب دینے کی بجائے سوچ میں پڑ گیا۔ کیونکہ ہم دونوں حادثے کی جگہ سے لاعلم تھے۔
”کسی سے پوچھ لیتے ہیں؟“ مجھے سوچ میں ڈوبا دیکھ کر وہ دوبارہ بولا اور میں نے اثبات میں سر ہلا کر اس سے اتفاق کیا مگروہاں نزدیک کوئی بھی موجود نہیں تھا جس سے پوچھا جاتا۔ ایک خیال کے تحت میں گلی کے سرے پرواقع گھر کے د روازے کی جانب بڑھا اور اس سے پہلے کہ میں میرا ہاتھ دستک دینے کے لیے اٹھتا مجھے گلی کے موڑ سے محمد جان بھائی مڑتانظر آیا اور میں دستک دینے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے محمد جان کی سمت دوڑپڑا۔ امجد نے بھی غالباً اسے دیکھ لیا تھا کیونکہ مجھے اپنے پیچھے امجد کے دوڑتے قدموں کی آواز سنائی دی۔
”کیا بات ہے….؟“ ہم جیسے ہی دوڑتے ہوئے اس کے قریب پہنچے اس نے حیرانی سے پوچھا۔
”ہم نے اڈے پر سنا ہے کہ دو قتل ہو گئے ہیں۔“
”ٹھیک ہے مگر تمھارا اس سے کیا تعلق ہے….؟“
”ہم نے سوچا…. شاید انور خان کے ساتھ آپ لوگوں….“ میں نے اپنے خدشے کا اظہار کرنے کی کوشش کی ۔
”نہیں ایسی کوئی بات نہیں۔“ وہ قطع کلای کرتے ہوئے بولا۔ ”وہ خیر محمد اور سہراب شاہ کے بیٹوں کے مابین فائرنگ ہوئی ہے دونوں طرف کا ایک ایک بندہ ہلاک ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے آج جرگے کی کارروائی بھی مو¿خر ہو گئی ہے۔“
”ان کی تو صلح ہو چکی تھی؟“
”صلح….!“ محمد جان تلخی سے ہنسا۔” فوجی صاحب!…. گنڈا پور وں کی صلح اور جنگ بندی سے تم خوب واقف ہو اس کے باوجود صلح صفائی کی بابت پوچھ رہے ہو۔“
”ٹھیک ہے لیکن فائرنگ کی کوئی خاص وجہ تو ہو گی نا؟“
”سنا تو یہی ہے کہ خیر محمد کے بیٹے اکمل کو کل سہراب شاہ کے بیٹے فضل شاہ نے بزدلی کا طعنہ دیا تھا وہ دونوں امیر خان بیلدار کی شادی میںشرکت کے لیے گئے تھے جھگڑا تو اسی وقت بڑھ جاتا لیکن امیر خان اور دوسرے لوگوں کے بیج میں پڑنے کی وجہ سے بات رفع دفع ہو گئی۔ آج جب فضل شاہ اپنے ماموں زاد اکبر شاہ کے ساتھ زمینوں کی طرف جا رہا تھا، اکمل خاں کی گولی کا نشانہ بن گیا۔ اکمل خان راستے میں ان کی تاک میں چھپا بیٹھا تھا ، لیکن افسوس کہ فضل شاہ کو مار کر وہ خود بھی نہ بچ سکا اور اکبر شاہ کی گولی سے موقع ہی پر ختم ہو گیا۔“
”جانو صاحب، ابھی واپس چلو یہ ناہو کہ اگلی بس بھی نکل جائے ۔“محمد جان کی بات ختم ہوتے ہی امجد مجھے مخاطب ہوا۔
”بالکل ، تم لوگ جاﺅ میں بھی ذرا زمینوں پر پھیرالگا آﺅں، کل جرگے کی وجہ سے نہیں جا سکا تھا۔“یہ کہہ محمد جان ہم دونوں سے ہاتھ ملاتا ہوا زمینوں کی جانب بڑھ گیا جبکہ ہم دونوں سٹاپ کی سمت چل دیئے ۔
”خیر محمد اور سہراب شاہ کاکیا قصہ ہے؟“ اڈے کی سمت آہستہ روی سے چلتے ہوئے امجد مستفسر ہوا۔
”یار ماجے !….تم نے ظہور اسلام سے پہلے عربوں کی جہالت کے قصے تو سنے ہوں گے؟“
”کیوں نہیں…. بلکہ سیرت کی کتابوں میں خود بھی پڑھے ہیں۔“
”بس ظہورِ اسلام سے پہلے کے عرب اور ہمارے گنڈا پور ایک ہی طرح کی ذہنیت کے مالک ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ وہ بت پرست تھے اور یہ کلمہ گو۔ ان کے پاس تیر تلوار تھے اور یہ جدید اسلحہ سے لیس ہیں، جھگڑے انھی کی طرح چھوٹی چھوٹی اور بے معنی باتوں پر کرتے ہیں۔ کتوں کی لڑائی پر قتل۔ مرغوں اور بیٹروں کے مقابلوں پر قتل، خوب صورت اور بے ریش لڑکوں کی وجہ سے قتل۔ الغرض ہلکی سی گالی گلوچ اور طعنوں پر بھی قتل ہو جایا کرتے ہیں۔ خیر محمد اور سہراب شاہ کے مابین لڑائی کی وجہ بھی کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے۔ وہ بھی انھی باتوں سے متعلقہ ایک جہالت خیز بات ہے۔“
”پھر بھی ….کچھ پتا تو چلے ؟ ۔“ امجد اشتیاق آمیز لہجے میں بولا۔
”مجھے تو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے، لیکن تم اصرار کرتے ہو تو سنو۔“ میں ایک لخطہ سانس لینے کے لیے رکا اور پھر گویا ہوا۔ ”خیر محمد کا چھوٹا بیٹا اجمل خان کا فی خوب صورت لڑکا ہے قریباً دو سال پہلے سہراب شاہ نے اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ اس نے اپنے والد کو جا کر بتا دیا۔ بس پھر کیا تھا ایک دوسرے پر رایفلیں تن گئیں قریب تھا کہ فائرنگ ہو جاتی سہراب خان جرمانہ بھرنے پر آمادہ ہو گیا اور اپنی حرکت کے بدلے اسے 20کنال اراضی خیر محمد کے حوالے کرنا پڑی۔ کل غالباً اسی زمین کا طعنہ اکمل کو دیا گیا تھا۔“
” عجیب بات ہے۔“ امجد حیرانی سے بولا۔ ”چھیڑا تو لڑکیوں کو جاتا ہے آپ کے علاقے میں انوکھا ڈراما شروع ہے ۔اور یہ جرمانے کے طور پر دیت کیسی….؟“
”یہ اس علاقے کا رواج ہے۔ البتہ چھیڑ چھاڑ کے بدلے رقم یا اراضی وغیرہ قبول نہیں کی جاتی یہ خیر محمد کی بے غیرتی تھی کہ وہ جرمانہ لینے پر راضی ہو گیا تھا۔ لوگوں کو اس بات سے بے خبر رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن ایسے راز کہاں چھپتے ہیں ؟“
”اگر یوں ہے تو پھرتم لوگوں کی انور خان کے ساتھ ابھی تک کوئی فائرنگ نہیں ہوئی حالانکہ دو دفعہ ہا تھاپائی ہو چکی ہے؟“
”ایک تو ابو جان گنڈا پور ہوتے ہوئے بھی ٹھنڈی طبیعت کے مالک ہیں۔ دوسرا زیادتی چونکہ انور خان کی طرف سے ہوئی ہے اس لیے ان کی طرف سے فائرنگ کی کوشش نہیں کی گئی۔ ویسے یہ حتمی بات بھی نہیں ہے وہ کسی وقت بھی اس جہالت کامظاہرہ کر سکتے ہیں۔“
ہم ابھی بس اسٹاپ سے چند گز دور تھے کہ بس کا ہا رن سنائی دینے لگا۔ رات گئے ہی ہم اپنی جگہ پہنچ سکے تھے۔ سینئرصوبیدار غصے اور تشویش کی ملی جلی کیفیات میں مبتلا تھا۔
”کہاں مر گئے تھے تم دونوں….؟“ وہ دھاڑا۔
”سر گھر میں پرابلم کھڑی ہو گئی تھی اس لیے….“
”اور تم ؟“ وہ امجد سے مخاطب ہوا۔ اس کی نظر میں ہم اپنے اپنے گھر گئے ہو ئے تھے۔
”میں بھی عمر کے ساتھ تھا۔“
”ٹیلی فون پر یا ٹیلی گرام دے کر مطلع نہیں کر سکتے تھے؟“ وہ غصے سے بولا۔ ”بہر حال صبح تیاررہنا دونوں کو کمانڈنگ آفیسر کے سامنے پیش ہونا ہے‘ ‘۔ اور ہم سر ہلا کر اپنے کمرے میں آگئے۔
”چل بھئی ماجے صاحب !….عزت افزائی کے لیے تیار ہو جاﺅ۔“
”جانی میاں!…. عزت آنے جانے والی چیز ہے اور تم کیوں گھبرا رہے ہو؟ گھبرانا تو مجھے چاہئے۔ تمھارے ساتھ کوئی پہلی مرتبہ تو ایسا نہیں ہو رہا ؟“اور میںاس کی بکواس کو نظر انداز کر کے کروٹ بدل کر سو نے کی کوشش کرنے لگا۔
l l l
صبح کے معمولات سے فراغت کے بعد ہم دونوں وردی پہن کر دفتر پہنچ گئے۔ کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سیدا جلال شاہ ایک سخت گیر ڈسپلن پسند آدمی تھا۔ آفس میں بلا کر ہمارامسئلہ سنے بغیر وہ برس پڑا۔
”سخت ، نکمے اور نالائق ہو تم دونوں۔ بغیر اجازت لیٹ آنے کی سزا معلوم ہے؟…. تم دونوں کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے۔ ایس ایس جی ایک منظم ادارہ ہے اور کمانڈنگ آفیسر ہونے کے ناطے میں نے ہمیشہ ڈسپلن کی پابندی کی اور کروائی ہے۔ تم دونوں کا پچھلا ریکارڈدیکھتے ہوئے میں اتنی نرمی کر سکتا ہوں کہ تم لوگوں کو گھر بھجوانے کی بجائے آرٹی یو(Return To Unit) کر دوں۔ اس لیے اب تم دونوں جانے کی تیاری کرو۔“ یہ کہتے ہی اس نے ہماری ساتھ کھڑے سنیئر کو ہمیں باہر لے جانے کا اشارہ کیا۔
”مگر سر….“
”نو آرگومینٹ(Argument) لے جاﺅ انھیں۔“ اس نے امجد کو بات کرنے کا موقع دیئے بغیر ہمارے ساتھ آئے سنیئر سے کہا اور ہم سلیوٹ کر کے باہر آگئے۔
یونٹ واپس جانے میں ہماری بڑی سبکی تھی لیکن ہم دونوں کچھ نہیں کر سکتے تھے۔
”اس کو کہتے ہیں لوٹ کے بدھو گھر کو آئے۔“ اپنا سامان پیک کرتے ہوئے میں آہستہ سے بولا ۔
”غلط…. اس کو کہتے ہیں دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔“ امجد تلخی سے بولا اور میں بے ساختہ مسکرا پڑا۔
”ماجے!…. اتنی چھوٹی باتوں پر پریشان نہیںہوا کرتے۔ آرمی کی سروس کرنی ہے یہاں نہ سہی یونٹ میں سہی تنخواہ اور راشن پانی وہاں بھی ملے گا۔“ امجد خلاف توقع خاموش رہا۔
سنیئر صوبیدار اور کمپنی کمانڈر نے اپنی سی کوشش کی کہ ہماری سزا پر عمل درآمد رک جائے، مگر انھیں کامیابی نہ ہوئی۔ مجبوراََاگلی صبح ہمMove Orderلے کر یونٹ روانہ ہو گئے ہماری سابق یونٹ اس وقت اسکردو میںتعینات تھی۔ یونٹ پہنچتے ہی میں نے خط لکھ کر گھر والوں کو اپنے نئے ایڈریس سے مطلع کر دیاتھا۔
ہمارا ایک ہفتا بٹالین ہیڈکواٹر میں گزرا اس دوران بٹالین کمانڈر سے ہماری ملاقات بھی کرائی گئی، ہمارے واپس آنے پر انھوں نے خوش کا اظہار کیا تھا۔
l l l
اور پھر ایک دن ہم دونوں اگلی(Forward) پوسٹوں پر جانے کے لیے تیار کھڑے تھے، دونوںنے مختلف پوسٹوں پر جانا تھا۔ گھر سے دوری کے ساتھ اب ہمیں ایک دوسرے سے دوری کا دکھ بھی جھیلنا تھا۔ چار ساڑھے چار سال کی رفاقت نے ہمیںایک دوسرے کے بہت قریب کر دیا تھا۔ اطمینان تھا تو صرف اتنا کہ یہ جدائی عارضی تھی۔
سردی بہت زیادہ تھی گرم لباس بھی ہماری کپکپی دور کرنے میں ناکام ہو رہے تھے۔ لیکن یہ سردی ہمارے لیے نئی نہیں تھی اس سے پہلے ہم استور( جو کہ گلگت کی تحصیل ہے) کے مضافات میں موجودرَ ٹّو سکول میں اس علاقے کے متعلق ایک خصوصی کورس کر چکے تھے۔ امجد کی پارٹی بٹالین ہیڈکواٹر ہی سے دوسرے راستے پر روانہ ہوگئی، جبکہ میں اپنی پارٹی کے ساتھ اس سے مخالف جانب روانہ ہو گیا۔ کئی گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم پوسٹ پر پہنچ سکے تھے۔ پوسٹ پر ٹیلی فون اور وائرلیس کی سہولیات موجود تھیں، لیکن فون عموماً خراب ہی رہتاکیونکہ برفانی تودے گرنے سے فون کی لائن کٹ جاتی تھی۔ وائرلیس البتہ رابطہ بحال رکھتا لیکن اس کی سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اس کے ذریعے سیکورٹی قائم رکھنا مشکل ہو جاتا۔ لیکن مجبوری کی وجہ سے وائرلیس کے ذریعے ہی رابطہ بحال رکھا جاتا۔ البتہ آرڈرز وغیرہ پاس کرنے کے لےے کوڈ ورڈز استعمال کیے جاتے تاکہ سیکورٹی برقرار رہے ۔ امجد سے بھی چند مرتبہ گفتگوہو چکی تھی۔ لیکن بات چیت سلام و دعا سے آگے نہیں بڑھی تھی۔ گھر سے رابطے کا واحد ذریعہ خط تھا جس کا میں شدت سے منتظر تھا۔
ہمارے سیکٹرکی آٹھ پوسٹیں تھیں اور تمام پوسٹیں ایک ہی بیس سے منسلک تھیں بٹالین سے ڈاک وغیرہ بیس تک پہنچائی جاتیں اور اس سے آگے تمام پوسٹیں اپنے سامان کی وصولی کے لیے پارٹیاں روانہ کرتیں۔ پارٹیوں کی نقل و حرکت کا انحصار موسم کی صورتِ حال پر رہتا لیکن عموماً نومبر کے مہینے میں یہ نقل و حرکت 3ماہ کے لیے بالکل روک دی جاتی کیونکہ اس عرصہ کے درمیان برف بڑی شدت سے گرتی اور اسی وجہ سے برفانی تودے بھی بڑی تعداد میں گرتے تھے۔
گھریلو پریشانی سے قطع نظر یہ علاقہ دل فریب اور دیدہ زیب نظاروں کا مرجع تھا۔ صاف و شفاف فضا میں دور تک پھیلے پہاڑی سلسلے عجیب منظر پیش کرتے۔ زیادہ بلندی اور درختوں کی غیر موجودی کی وجہ سے گو آکسیجن بہت کم تھی لیکن یہ کمی صرف نقل و حرکت یا جسمانی مشقت کرتے وقت محسوس ہوتی تھی۔پوسٹ پر ہم لوگوں کا واحد کام ڈیوٹی کی بجا آوری تھا اور اس کے بعد تمام لوگ تاش کھیلنے میں مشغول رہتے یاSleeping Bagsمیں گھس کر گھر اور گاﺅں کی یادوں میں کھو جاتے ۔ میں البتہ فارغ اوقات میں ہلکی پھلکی جسمانی مشقوں میں وقت گزارنا پسند کرتا۔ پوسٹ کا سیکنڈان کمانڈ حوالدار کامل اورسگنل کا سپاہی ساجد بھی عموماً میری مشقیں دیکھنے آجاتے تھے۔جوڈو کے داﺅپیچ کے استعمال میں چونکہ دوسرے آدمی کی ضرورت پڑتی ہے اس لیے جوڈو کی مشق کرتے وقت میں ان دونوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیتا اور وہ دونوں بھی کچھ سیکھنے کے شوق میں تختہ مشق بنے رہتے۔ گرنے اور کسی کو اٹھا کر پھینکنے کے لیے برف بڑی ممدو معاون ثابت ہوتی ہے ۔ تازہ گری ہوئی برف تو فوم سے بھی زیادہ نرم ہوتی ہے۔ رات کو میں بھی ساتھیوں کے ساتھ تاش کھیلنے میں مشغول ہو جاتا۔ گنڈا پور ہونے کی وجہ سے تاش کا کھیل میری گھٹی میں پڑا تھا۔ پتا بازی اور چالوں میں تو بڑے بڑے جغادری کھلاڑی میری صلاحیتوں کا لوہا مانتے تھے۔ یہ بے چارے تو فقط پتے پھینکنا جانتے تھے۔ اس لیے پہلے ہی دن سے تمام نے مجھے اپنا گرو مان لیا تھا۔پوسٹ پر ہم ٹوٹل12بندے تھے جس میں ایک صوبیدار ایک حوالدار اور باقی تمام سپاہی یا لانس نائیک تھے۔ ایک بندہ ہم نے کھانا وغیرہ پکانے کے لیے مختص کیا ہوا تھا۔ باقی کے نو بندے ڈیوٹی دیتے تھے۔
مجھے پوسٹ پر آئے مہینا ہونے کو تھا جب سیکٹر کے بیس پر تمام پوسٹوں کی ڈاک اور ریفریشمنٹ (Refreshment)کا کچھ سامان پہنچا۔ رات کو جب وائرلیس پر آرڈر پاس ہوا تو صوبیدار صاحب نے کہا ۔
”صبح سویرے پارٹی بھیج دیں گے۔“ڈاک کی آمد کا سن کر تمام لوگ خوش ہو گئے تھے۔
”پتا نہیں کن خوش نصیبوں کے خط آئے ہوں گے۔“میرے قریب سلپنگ بیگ میں گھسا علی محمد زور سے بڑبڑایا۔
”کل اس وقت تک پتا چل جائے گا۔“ غلام محمد بولا۔
”چلو اسوقت تک تو خوش ہو لیں۔“ یہ کہتے ہی علی محمد نے اپنا سر بھی بیگ کے اندر کر لیاتھا۔
لیکن ان دونوں کے اندازے غلط ثابت ہو ئے۔ رات کے قریباً دو بجے تھے جب ہلکی ہلکی برف باری شروع ہوئی اور صبح تک شدت اختیار کر گئی جس سے پارٹی کا جانا مو¿خر ہو گیا۔ برف باری پورا ہفتا جاری رہی اور، جس دن رکی اسی دن بٹالین ہیڈکواٹر کی طرف سے آرڈر پاس ہوا کہ ہر قسم کی موومنٹ (Movement)فروری تک بند کر دی جائے۔
”اس کا مطلب ہے اگر ہمارا خط ہوا بھی تو اگلے تین مہینوں تک ہمیں نہیں مل سکے گا۔“ میں نے علی محمد سے استفسار کیا۔ اس وقت ہم دونوں ڈیوٹی پر کھڑے تھے۔
”نہیں یار!“ اس نے نفی میں سر ہلایا۔ ”اگر رانی ہمارے سیکٹر کی طرف آنکلی تو ڈاک لے آئے گی۔“
”رانی….؟“ میرے لہجے میں حیرانی تھی ۔
”ہاں یار ! رانی،…. برف کی رانی…. کتیا ہے۔ سفید رنگ کی۔ ہلکا پھلکا سامان مثلاً ڈاک، سگریٹ نسوار وغیرہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کے لیے تمام سیکٹرز اسی کو استعمال کرتے ہیں۔“
”تو کیا یہ مستقل کسی پوسٹ پر نہیں ٹکتی ؟“
”یہ حرکت ہی میں رہتی ہے ۔جس پوسٹ پر پہنچے اس پوسٹ والے ایک دن اپنے پاس رکھ کر گوشت وغیرہ سے اس کی تواضع کرتے ہیں اور اگلے دن دوسری جگہ اپنے کام سے بھیج دیتے ہیں۔“
”رانی صاحبہ کو بتاتے کیسے ہیں کہ اس نے کس پوسٹ پر جانا ہے؟“
”بہت آسان…. جس پوسٹ پر بھیجنا ہوتا ہے اس کی جانب رانی کا رخ کر کے پیچھے سے تھپکی لگاﺅ تو رانی سمجھ جاتی ہے اور سیدھے اسی پوسٹ پر پہنچتی ہے۔“
”بڑی مفید کتیا ہے یار!“
”بالکل، اس نے کئی دفعہ لوگوں کو مشکلوں سے نکالا ہے۔ ایک دفعہ تو ہماری ناصراوپی پر صوبیدار صاحب سخت بیمار ہو گیا تھا۔ راستے بند تھے اور بٹالین ہیڈکواٹر سے اس کے لیے ڈاکٹر صاحب نے جو دوائی تجویز کی وہ رانی ہی نے اس تک پہنچائی تھی اور صوبیدار صاحب کی جان بچ گئی تھی۔ اس طرح کئی دفعہ ایسے مراحل بھی آئے ہیں کہ لوگوں کے پاس سگریٹ نسوار ختم ہونے کی صورت میں رانی نے انھیں یہ سب کچھ مہیا کیا۔“
”بڑی بات ہے یار۔“ کہہ کر میں خاموش ہوگیا اور دل ہی دل رانی کے بیس پر پہنچنے کی دعا مانگنے لگا ۔ وہ شاید قبولیت کی گھڑی تھی کہ اس سے اگلے دن سیٹ پر بیس والوں نے بتایا کہ رانی کو ہماری سمت ڈاک دے کر بھیجا جارہا ہے۔“
”کب تک پہنچ جائے گی؟“ میں نے اپنے ساتھ بیٹھے علی محمد سے استفسار کیا۔
”زیادہ سے زیادہ تین گھنٹوں میں۔“
”ہمیں دس گھنٹے لگ جاتے ہیں وہ بھی رستے صاف ہونے کی صورت میں۔“
”وہ رانی ہے…. “اس نے فخریہ لہجے میں کہا ۔ ” راستے میں بغیر رُکے سفر کرے گی اور ویسے بھی کتے برف میں آسانی سے چل سکتے ہیں۔“
اڑھائی گھنٹے بعد ہم تمام اپنے رہائشی کمرے کی چھت پر کھڑے رانی کا رستا تک رہے تھے۔
”وہ رہی! “ حوالدار کامل نے دور چٹانوں کی طرف اشارہ کیا۔ غور سے دیکھنے پر مجھے ایک سفید دھبا حرکت کرتا دکھائی دیا۔ اگر اس کا رنگ سفید نہ ہوتا تو شاید وہ کافی دیر پہلے نظر آنا شروع ہو گئی ہوتی۔ اگلے آدھے گھنٹے میں رانی پوسٹ پر پہنچ چکی تھی۔رانی کے لیے دودھ گرم کر کے رکھا ہوا تھا اور اس کے بیٹھنے کے لیے آٹے کی خالی بوریاں بچھائی ہوئی تھیں۔ وہ اطمینان سے بوریوں پر بیٹھ گئی۔
صوبیدار صاحب نے آگے بڑھ کر اس کے گلے میں لٹکی ہوئی ڈاک نکال لی۔ تمام لوگ صوبیدار کے گرد اکٹھے ہو گئے ۔
”یہ ہے سپاہی غلام محمد۔“ صوبیدار صاحب نے پہلے خط کا پتا پڑھا۔
”چل بھئی گامے۔“ میں نے اپنے ساتھ کھڑے غلام محمد کی پیٹھ پر تھپکی لگائی۔صوبیدار صاحب ایک ایک خط نکال کر اس پر موجود ایڈریس پڑھتے اور مطلوبہ شخص جھپٹ کر اپنا خط وصول کر لیتا۔ کئی خوص نصیب ایسے تھے جن کے دو، دو، تین، تین خط آئے ہوئے تھے۔ خوش قسمتی سے میرے بھی دو خط آئے تھے۔صوبیدار صاحب کے ہاتھوں میں موجود خطوط کا بنڈل جیسے ہی ختم ہوا تمام لوگ اپنا اپنا خط کھول کر پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔ میں نے بھی ”بسم اﷲ“ کہہ کر پہلا خط کھولا۔ ا س پر کمانڈو یونٹ کا پتالکھا ہوا تھا۔ غالباً چچا افضال نے پہلا خط میرے پرانے پتا پر بھیجا تھا اور کمانڈوز نے اسے یونٹ کے ایڈریس پرارسال کر دیا تھا۔ خط میں سلام و دعا کے بعد چچا افضال نے جرگے کی کارروائی کے متعلق لکھا تھا کہ جرگے نے ہمارے حق میں فیصلہ دیا ہے اور چودھری انور کو منہ کی کھانی پڑی۔ خط پڑھ کر مجھے دلی خوشی ہوئی لیکن یہ خوشی دوسرا خط پڑھ کر تشویش میں بدل گئی۔ یہ پہلے خط کے مقابلے میں مختصر تھا۔ چچا نے لکھاتھا۔
”جتنی جلدی ہو سکے چھٹی لے کر گھر پہنچو حالات بہت خراب ہیں۔ میں تاکیداً دوبارہ لکھ رہا ہوں کہ خط ملتے ہی روانہ ہو جانا۔ چاہے چھٹی ملے یا نہ ملے۔“ میں نے خط پر لکھی تاریخ دیکھی دس دن پہلے کا لکھا ہوا خط تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ راستے میں رکے بغیر یہ مجھ تک پہنچا تھا۔ میں نے خط کے مضمون سے نظر اٹھا کر دائیں بائیں گھمائی چاروں طرف دور ونزدیک برف کی چادر اوڑھے پہاڑی سلسلے دکھائی دیئے۔
”چھٹی ملے یا نہ ملے آجاﺅ۔“ میرے دماغ میں چچا افضال کے لکھے الفاظ گونجے۔
”کیسے آجاو¿ں؟“میں نے خود کلامی کی ۔
”کچھ کرنا پڑے گا….کچھ تو کرنا ہی پڑے گا؟۔“میری سوچوں میں ہلچل مچ گئی تھی۔
l l l
رات کو ڈیوٹی کے دوران میں آپریٹر کے پاس پہنچا۔ سگنل مین ساجد ڈیوٹی پر بیٹھا تھا۔ میں نے اسے کہا ۔
”ساجد بھائی! آج سردی بہت زیادہ ہے اگر آپ دس بارہ منٹ کے لیے باہر چلے جائیں۔ میں ذرا گرم ہو لوں۔“
”کیوں نہیں۔“ وہ خوش دلی سے بولا ۔ اور رایفل لے کر باہر چلا گیا۔اس کے باہر جاتے ہی میں نے وائرلیس کاریسیور پکڑا اور امجد کی پوسٹ کو پکارا۔
”ٹاپ تھری فار لیاقت اوور!“(لیاقت امجد کی پوسٹ کا فرضی نام ہے۔ پوسٹوں کے نام بدلنے سے چونکہ کہانی کی سچویشن میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس لےے ان کے اصلی نام بتانے سے گریز کیا جارہا ہے۔ یوں بھی آرمی سے متعلقہ معلومات شائع کرنے کا آرڈر نہیں اور قارئین کو بھی واقعات سے دلچسپی ہو گی نہ کہ آرمی سے متعلق معلومات سے ”مصنف“)
”لیاقت فار ٹاپ تھری سینڈ یور مسیح اوور!“
”نک نیم امجد کو بلاﺅ…. اوور!“
”ویٹ۔اوور!“
”امجد…. اوور!“ چند لمحوں بعد ریسیور سے امجد کی آواز گونجی۔
”امجد تمھارا لاسٹ نمبر اوور۔“ میں نے امجد سے کوڈ ورڈز میں کہا اور اس کا صاف مطلب تھا کہ کوئی خفیہ بات ہے اور امجد اپنے آرمی نمبر(ہر فوجی جوان کو آرمی نمبر الاٹ کیا جاتا ہے جو سیون فگرز پر مشتمل ہوتا ہے)کے لاسٹ 4فگرز پر مشتمل سیٹ کی فریکوئنسی استعمال کرے۔ اس طرح ایک تو بٹالین میں ہماری باتیں نہیں سنی جا سکتی تھیں اور دوسرے امجد بھی اپنے پاس موجود آپریٹر کو کسی بہانے دائیں بائیں کر سکتا تھا۔(وائرلیس سیٹ بھی ریڈیو کی طرح کام کرتا ہے اس کی بھی مختلف فریکونسینر ہوتی ہیں دو سیٹوں پر جب ایک ہی فریکوئنسی لگالی جائے تو دونوں کا رابطہ ہو جاتا ہے ۔ البتہ اس کی رینج ریڈیو سے بہت کم ہوتی ہے۔ کچھ وائرلیس سیٹ ایسے بھی ہیں جن سے کافی دور دور تک بات کی جا سکتی ہے لیکن ایسے سیٹ صرف سگنل کور والوں ہی کو ایشو کئے جاتے ہیں اور مخصوص اور اہم مقامات پر استعمال ہوتے ہیں۔)
میں نے مطلوبہ فریکوئنسی سیٹ کی چند ہی لمحوں بعد امجد کی آواز آئی۔ ”جانی اوور!“
”یس…. اوور!“
”بولونا کیا بات ہے۔ میں نے آپریٹر کو چاے بنانے کے لیے بھیج دیا ہے ۔ اوور!“۔
جوابََا میں نے مختصراً اس کو خط کی آمد اور اپنے اندیشوں کے متعلق بتا دیا۔
”ٹھیک ہے پر تم کرنا کیا چاہتے ہو؟…. اوور!“ میری ساری بات سن وہ مستفسر ہوا۔
”میں گھر جانا چاہتا ہوں…. اوور!“
”مشکل بلکہ ناممکن ہے…. اوور!“
”یار کوئی ترکیب سوچو مجھے لگتا ہے گھر میں کوئی حادثہ پیش آگیا ہے…. اوور!“
”اﷲ خیر کرے گا یار!ابھی راستوں پر چلنا بھی تو مشکل ہے نا…. اوور!“
”ماجے صاحب میں آج رات کو یہاں سے نکل جاﺅں گا آگے اﷲ مالک ہے….اوور!“
”یار بٹالین ہیڈکواٹربات کرو شاید کوئی صورت نکل آئے…. اوور!“
”کوئی صور ت بھی نہیں نکل سکتی۔ تمام راستے بند ہیں اور ہیلی کاپٹر کا پوسٹ پر پہنچنا یوں بھی ناممکن ہے۔ میرے لیے کمانڈنگ آفیسر دس بندوں کی قربانی نہیں دے سکتا۔ اوور!“
”تُم نے ضرور اپنی جان سے کھیلنا ہے…. اوور!“ امجد کی جھلائی ہوئی آواز آئی ۔
”میری کامیابی کے لیے دعا کرنا…. اوور!“
”یار جانی اگر ایسا ہے تو میں بھی تمھارے ساتھ چلتا ہوں…. اوور!“
”نہیں!“ میں نے سختی سے اس کی بات رد کی۔ ”تم مت جاﺅ اپنے وقت پر چھٹی لے کر ہی جانا یہ نا ہو ہم دونوں برف میں پھنس کر اﷲ کو پیارے ہو جائیں۔ دشمن سے بدلہ کون لے گا…. اوور!“
”ٹھیک ہے گھر پہنچتے ہی خط ضرور لکھنا۔ ورنہ مجھے پریشانی رہے گی…. اوور!“
”اوور اینڈ آل“ کہہ کر میں نے رابطہ ختم کیا اور باہر آکر ساجد سے رایفل پکڑ کر ڈیوٹی پر کھڑا ہو گیا۔ رات کے نو بج رہے تھے۔ دس بجے میری ڈیوٹی ختم ہوناتھی ۔ ڈیوٹی کے لیے دوبارہ میں نے دو بجے اٹھنا تھا۔ رہائشی کمرے میں تمام لوگ جاگ رہے تھے۔ احمد علی نامی لڑکے کا بچہ ہوا تھا اور اس کی خوشی میں گانے بجانے کی محفل شروع تھی۔ کک انڈوں کا حلوہ، کباب پکوڑے اور چاولوں کی تیاری میں مشغول تھا۔ علی محمد اس کا ہاتھ بٹا رہا تھا۔ (پوسٹوں پر ہمیں انڈوں کا خشک پاﺅڈر ملتا تھا اسی سے ہم آملیٹ اور حلوہ وغیرہ بناتے تھے)
دس بجے میں نے ڈیوٹی ختم کی ، کمرے میں جا کر اپنا پٹھو اٹھایا اور سٹور میں گھس گیا۔ کسی کی بھی توجہ میری سمت نہیں ہوئی کیونکہ اس وقت تمام ساتھی حوالدار کامل کی طرف متوجہ تھے جو اپنی سریلی آواز میں کوئی گانا گا رہا تھا۔ میرا ذہن چونکہ ڈسٹرب تھا اس لیے گانوں کے بولوں پر میں توجہ نہ دے سکا۔ پیٹرو میکس لیمپ کی روشنی میں میں نے راستے کے لیے ضروری سامان پٹھو میں ڈالااور پٹھو تیار کر کے سٹور میں رکھ کر کمرے میں آ کر چپ چاپ سلپنگ بیگ میں گھس گیا۔ گھر کے متعلق مختلف قسم کے اندیشوں نے مجھے ماحول سے لاتعلق کر دیا تھا۔ میں نامعلوم اور کتنی دیر اسی طرح سوچوں میں گم رہتا کہ اچانک کسی نے سلیپنگ بیگ میرے اوپر سے کھینچا۔
”سو گئے کیا؟“ مجھے خوش دل خان کی آواز سنائی دی۔ ”طبیعت تو ٹھیک ہے۔“
”ہاں یار! بس سر میں درد ہے۔“
”کھانا تیار ہے کھا کر سو جانا ۔“ وہ میرا سر سہلاتا ہوا بولا۔
”ہاں چلو۔“ میں اٹھ گیا۔مجھے بھوک بالکل ہی نہیں تھی۔ لیکن راستے کی مشقتوں اور صعوبتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کچھ نہ کچھ کھانا میں نے ضروری سمجھا۔کھانا کھا کر تمام لوگ ایک مرتبہ پھر تاش کی بازی جما کر بیٹھ گئے ، میں سنتری کی بدلی کے لیے تیار ہونے لگا تاکہ وہ کھانا کھالے۔
”عمر جان تم آرام کرو میں چلا جاتا ہوں۔“ خوشدل خان نے مجھے تیار ہوتا دیکھ کر آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
لیکن میں ”مجھے نیند نہیں آرہی ۔“کہہ کر باہر نکل آیا۔سنتری کے کمرے میں داخل ہوتے ہی میں رایفل دیوار کے ساتھ کھڑی کر کے سٹور میں گھس گیا۔ سنتری کے کھانا کھانے سے پہلے مجھے نکل جانا تھا۔ مجھے پتا تھا کہ واپسی پر سنتری نے رایفل اُٹھا کر اپنی ڈیوٹی دینا شروع کر دینی تھی کیونکہ اس سے پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا تھا کہ بدلی کرنے والا آدمی رایفل دیوار کے ساتھ کھڑی کر کے دائیں بائیں ہو گیا ہو۔ فرنٹ والا سنتری البتہ اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہلتا تھاجب تک اس کی بدلی نہ آجاتی۔
پٹھو اُٹھا کر میں پوسٹ کی مغربی سمت میں موجود نالے کی طرف بڑھ گیا۔ برف ابھی تک کچی تھی یعنی اس میں پاﺅں دھنس رہے تھے ورنہ نالے میں اترنے کے لیے چند منٹ ہی لگتے۔ جنوری ،فروری میں جب برف سخت ہو جاتی تو اترائی میں چلنے کی بجائے پھسل کر جانا پڑتا اور گھنٹوں کے فاصلے منٹوں میں طے ہوتے۔ میرا اور امجد کا اس علاقے میں بہت کم وقت گزرا تھا، لیکن اس کے باوجود ہم برفانی علاقے میں رہنے کے طریقہ کارسے اچھی طرح واقف تھے اور اس کی وجہ کمانڈو سروس کے دوران کئے جانے والا وہ کورس تھا جو ہم دونوں نے رٹّو سکول میں کیا تھا۔
ٹاپ تھری سے بیس پر جانے کے لیے عموماً شمالی جانب کا راستا اختیار کیا جاتا۔ مغربی سمت میں اتر کر بھی میں نے شمالی نالے ہی میں سفر کرنا تھا لیکن اس طرف بیس راستے میں نہ آتا اور میں اپنے سنتریوں سے بچ کر نکل سکتا تھا۔ گھپ اندھیرا تھا اور راستا نظر نہیں آرہا تھا دھند کی وجہ سے میں ستاروں کو بھی اپنے گائیڈ کے طور پر استعمال نہیں کر سکتا تھا۔ نالے میں اترتے ہوئے مجھے پون گھنٹا لگ گیا۔ ٹارچ جلائے بغیر میں اندازے سے شمال کی طرف نالے میں بڑھ گیا تازہ پڑی برف کی وجہ سے میں رینگنے کی رفتار سے حرکت کر رہا تھا۔
اس علاقے میں سرحد کی تقسیم بڑے عجیب انداز میں ہوئی ہے۔ جس جگہ بھی دونوں ملکوں کی آرمی کو پوسٹ کے لیے مناسب جگہ ملی وہیں پوسٹ بنا دی گئی اس لیے کئی جگہیں تو ایسی ہیں کہ ہماری پوسٹیں دشمن کے علاقے میں گہرائی تک چلی گئیں ہیں اور کہیں وہ دور تک ہمارے علاقے میں گھس آئے ہیں۔ ایک دوسرے پر فائر کھولے رکھنا روزانہ کا معمول تھا۔
پوسٹ پر کسی نے ہاتھ سے اردگرد کے علاقے کا نقشہ بنا کررکھ چھوڑا تھا۔ اس نے نقشے سے بھی مجھے اس علاقے کو سمجھنے میں کافی مدد ملی تھی۔ اگر میں مسلسل تین دن چلنا رہتا تو روڈ تک پہنچ سکتا تھا جہاں سے مجھے سکردو کے لیے گاڑی مل جاتی۔برف گو نرم تھی لیکن میرے ارادوں کو مترلزل کرنے میں ناکام رہی۔ کچھ دور آنے کے بعد راستا نیچے کی طرف اترنا شروع ہو گیا اور میری رفتار بڑھ گئی۔ ٹاپ تھری سے ہموار نظر آنے والا نالا اب ڈھلوان کی طرح محسوس ہو رہا تھا۔ میں چلتے چلتے گاﺅں کے خیالوں میں کھو گیا۔ گھر والوں کے بارے سوچ کر راستے کی دشواری کا احساس مٹ گیا تھا۔ ابو جان، چچا جان اور بھائیوں کی شکلیں میرے دماغ میں گھوم رہی تھیں نہ جانے ان میں کون مجھے واپسی پر نہ ملتا۔راستے میں ایک دو موڑ آئے میں لیکن میں نے مغربی سمت ہی اختیار کیے رکھے۔
”پوسٹ پر اب تک میرے بھاگنے کا پتا چل گیا ہو گا۔“ میرے ذہن میں سوچ ابھری اور تصدیق کے لیے میں نے اپنی گھڑی کے چمکتے ڈائل پر نظر دوڑائی، سوئیاں اڑھائی بجنے کا اعلان کر رہی تھیں۔ مجھے چلتے ہوئے قریباً تین گھنٹے ہونے کو تھے۔ چند لمحوں کے لیے رک کر میں نے سانس درست کیا، پٹھو سے واٹر بوتل نکال ایک دو گھونٹ پانی پیا اور دوبارہ چل پڑا۔ میرا ارادہ تھا کہ صبح روشنی ہونے کے بعد اگر موقع ملے تو تھوڑی دیر آرام کروں ورنہ چلتا رہوں دو تین دنوں کا راشن میرے پٹھو میں تھا۔صبح آہستہ آہستہ ظاہر ہونے لگی لیکن دھند کی وجہ سے اردگرد کے منظر صاف نظر نہیں آرہے تھے۔تھوڑی دیر رک کر میں نے ہلکا پھلکا ناشتا کیا اور ایک مرتبہ پھر ناک کی سیدھ میں چلنا شروع کر دیا۔
گیارہ بجے کے قریب دھند چھٹنا شروع ہوئی۔ میں نے اپنے چاروں طرف نظر دوڑائی تاکہ بیٹھنے کے لیے کوئی آڑ تلاش کرسکوں۔ اس علاقے میں سردی کے باعث کسی بھی جگہ دس پندہ منٹ سے زیادہ بیٹھنا مشکل ہو جاتاہے ۔ اس لیے میں اپنے پٹھو میں برفانی علاقے کا مخصوص گرم لباس( جو سنتری ڈیوٹی کے دوران پہنتے تھے) لانانہ بھولا تھا۔
ایک کھو جیسی جگہ دیکھ کر میں نے پٹھو اتارا اس میں گرم جیکٹ اورپاجامہ نکال کر پار کے کے اوپر ہی پہن لیا (پارکہ برف کے اندر حرکت کرنے کے لیے پیراشوٹ کپڑے کا بنا ہوا ہلکا پھلکا لباس ہوتا ہے) پٹھو بطور تکیہ سر کے نیچے رکھ کرمیں برف پر ہی لمبا لیٹ گیا۔ مسلسل چلنے کی وجہ سے میں تھکن سی محسوس کر رہا تھا۔ دھند مکمل طور پر غائب ہو گئی تھی۔ لیٹے لیٹے ہی میں نے دائیں بائیں نظر دوڑائی تاکہ دیکھ سکوں کہ کتنا فاصلہ طے کر چکا ہوں۔ میرا اندازہ تھا کہ میں بیس کو کافی پیچھے چھوڑ آیاہوں۔ لیکن لیٹے ہوئے اردگرد کے مناظر مجھے نامانوس سے لگے میں بے اختیار اٹھ بیٹھا ۔ یہ دیکھ کر میں اچھل پڑاتھا کہ میں نے سرحد عبور کرلی تھی اور اب دشمن کے علاقے میں بیٹھا تھا۔ گھر کی پریشانی اس وقت میرے دماغ سے محو ہو گئی اور میں نئی الجھن میں پڑ گیا۔
پیچھے نگاہ دوڑانے پر مجھے نالے کے درمیان مجھے اپنے پاﺅں کے واضح نشان نظر آئے اور یہ نشان دشمن کو میری آمد سے مطلع کر سکتے تھے۔ میں ایک مرتبہ پھر آڑ میں ہو گیا اور موسم کے خراب ہونے کی دعا مانگنے لگا۔ مگر وہ موسم جو بغیر دعا ہی کے اکثر خراب رہتا تھا آج دعا مانگنے کے باوجود بھی صاف ہی رہا۔ اگر شام تک میں دشمن کی نظر سے محفوظ رہتا تو اندھیرا ہوتے ہی میں واپسی کا سفر طے کر سکتا تھا۔ گھڑی پر نظر ڈالی،12بجنے والے تھے اس علاقے میں شام کے پانچ ساڑھے پانچ بجے کے قریب اچھا خاصا اندھیرا چھا جاتا تھا اور میں اسی وقت ہی واپسی کا سفر شروع کر سکتا تھا۔
میں دشمن کی دو پوسٹوں کے درمیان سے گزر کر آیا تھی ایک پوسٹ نالے کی جنوبی سمت ٹیکری پر تھی اسے لالی پوسٹ کہتے تھے اور دوسری شمالی سمت میں لالی پوسٹ سے تھوڑا پیچھے ہٹ کر تھی اور لالی ٹو کہلاتی تھی۔ دونوں پوسٹوں کے پاس لامحالہ رات کی دیدبانی میں استعمال ہونے والے آلات موجود ہوں گے مگر دھند کی وجہ سے میں ان کی نظروں سے اوجھل رہا تھا۔
میں نے ایک مرتبہ پھر گھڑی کی سوئیوں پر نظر دوڑائی، ابھی تک سوا بارہ بجے تھے۔ وقت رینگ رینگ کر گزر رہا تھا۔ میرے چاہنے سے وقت کی رفتار تیز نہیں ہو سکتی تھی۔ موسم اسی طرح صاف و شفاف تھا، بلکہ اکا دکا نظر آنے والے بادل بھی آسمان سے غائب ہو گئے تھے۔ اب تو میں یہی دعا مانگ سکتا تھا کہ ”یا الٰہی! دشمن کو ہی چند گھنٹوں کے لیے اندھا کر دے “ لیکن اس وقت میری دعائیں بالکل ہی بے اثر ثابت ہو ئیں۔ چند لمحے بعد ہی مجھے اس راستے پر جس پر میں رات کو چل کر آیا تھا۔ چند سفید دھبے دور سے قریب حرکت کرتے نظرآئے۔ میرے چھپنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور نہ میں بھاگ ہی سکتا تھا۔ ہتھیار کے نام پر میرے ہاتھ میں صرف برف پر چلنے کے لیے مدد گار چھڑی تھی۔ ایس ایم جی یا رایفل کے مقابلے میں یہ ایسے ہی تھی جیسے ہاتھی کے مقابلے میں چیونٹی۔ دشمن اگر خالی ہاتھ ہوتے تو ان سے لڑ کر بھاگنے کے چانس موجود تھے مگر سوال یہ تھا کہ میں بھاگ کر کہاں جاتا ؟۔میرے پاﺅں کے نشان دشمن کو کھینچ کر میری طرف لا رہے تھے۔ ایک خیال کے تحت میں نے جلدی جلدی اپنے پٹھو کی تلاشی لی لیکن اس میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں تھی جس سے دشمن میرے ملک کے خلاف کوئی فائدہ اٹھا سکتا۔ میری جیب کے اندر ہاتھ کا بنا ہوا نقشہ اور گھر سے آنے والے دونوں خط موجود تھے۔ نقشہ اور کمانڈو ایڈریس والے خط کا لفافہ میں نے پرزے پرزے کر دیا اور دانتوں سے چبا کر برف میں پھینک دیا۔ کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ دشمن کو میرے کمانڈو ہونے کا پتا چلے۔
آنے والے جلدہی قریب پہنچ گئے۔ ان کی تعداد پانچ تھی اور تمام نے ہاتھوں میں ایس ایم جی گنیں پکڑی ہوئی تھیں۔انڈیا کی فوج میں عام طور پر جرمنی کی بنی ہوئی رایفل استعمال ہوتی ہے جسے جی ٹو کہتے ہیں اس کا اصل نام جی ون ہے لیکن انڈیا نے اس کے اندر تھوڑی بہت تبدیلی کر کے اسے G-2کا نام دے دیا اور پاکستان آرمی میں بھی یہی رایفل تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھG-3 کے نام سے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ رایفل قریب و دور ہر دو قسم کی لڑائی میں استعمال ہوتی ہے۔ لیکن اس کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ برفیلے علاقے میں یہ اپنا کام چھوڑ دیتی ہے اور جام ہو جاتی ہے ۔ اس لیے اس علاقے میں دونوں ملکوں کی افواج چائنہ یا روس کی بنی ہوئی ہوئی ایس ایم جی استعمال کرتی ہیں۔
اس وقت بھی آنے والوں نے یہی گنیں پکڑی ہوئی تھیں اور ان کے خوفناک دھانوں کا رخ سامنے کی جانب تھا۔ ان کے ساتھ مزاحمت کرنا لاحاصل تھا اس لیے ان کے نزدیک پہنچنے سے پہلے میں دونوں ہاتھ اٹھائے ان کے سامنے پہنچ گیا۔تمام مجھ سے 60,50گزدور رک گئے تھے۔
”اسی طرح ہاتھ اٹھائے اِدھر آجاﺅ۔“ ان میں سے ایک درشت لہجے میں بولا۔اور میں آہستہ روی سے ان کی جانب چل پڑا۔ تمام نے اپنی گنوں کا رخ میری جانب کیا ہوا تھا اور میری ہلکی سی بے قاعدگی پر وہ فائر کھولنے کے لیے تیار کھڑے تھے، لیکن میرا اس قسم کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ان کے قریب جا کر میں رک گیا۔
”روی اس کی تلاشی لو۔“ مجھے بلانے والا اپنے ساتھی کو بولا۔ غالباً وہ ان کا سینئر تھا۔ اس کے رینک کا اندازہ لگانا میرے لیے مشکل تھا کیونکہ پار کے (برفانی لباس) کی وجہ سے اس کا رینک نظر نہیں آرہا تھا ۔ یوں بھی اس علاقے میں وردی کا استعمال نہیں ہوتا تھا، تمام لوگ زیادہ تر ٹریک سوٹ وغیرہ استعمال کرتے تھے۔ البتہ چہرے مہرے سے وہ صوبیدارہی لگتا تھا(بعد میں میرے اندازے کی تصدیق بھی ہو گئی تھی ،وہ صوبیدار ہی تھا)
”یس سر۔“ روی نامی جوان آگے بڑھا۔ اپنی رایفل سلنگ اپ کی (یعنی کندھے پر لٹکائی) اور میری تلاشی لینے لگا، لیکن میری جیب سے سوائے خطوط کے اور کچھ نہ نکلا۔ پانی کی بوتل اور ٹارچ اس نے میری جیب میں رہنے دی تھیں۔
”اس کے پاس کچھ نہیں ہے سر۔“
”یہ کاغذ میرے پاس لے آﺅ۔“ اس کے سینئر کا اشارہ میرے خطوط کی جانب تھا۔ وہ خطوط لے کر اپنے سینئر کی جانب بڑھا ۔ میں بولا۔ ”میں اپنے ہاتھ نیچے کر سکتا ہوں۔“
”کرلو۔“ وہ مختصراً بولا اور میں نے اپنے ہاتھ نیچے کر لیے۔
”ہوں۔“ دونوں خط پڑھ کر اس نے ایک لمبی سانس کھینچی اور بولا۔ ”تو تیرا نام عمر جان ہے…. سامان وغیرہ نہیں ہے تیرے پاس۔“
”ہے۔“ میں نے اپنے اپنے پٹھو کی جانب اشارہ کیا ۔
پٹھو کی تلاشی ان کے لیے لاحاصل رہی تھی۔
”تیرا ہتھیار کدھر ہے ۔“ ان کا سینئر مجھے مخاطب ہوا۔
”ہتھیار میرے پاس نہیں ہے۔“
”صوبیدار صاحب !۔“ روی نامی آدمی بولا۔ ”اس نے اپنا ہتھیار برف میں نہ چھپا دیا ہو۔ روی کی بات سن کر تمام بے اختیار دائیں بائیں دیکھنے لگے جیسے سچ مچ وہاں پر میں نے کوئی ہتھیار برف میں دفن کررکھا ہے۔
”تمام لوگ دائیں بائیں، ڈھونڈو شاید اس نے ب…
جاری ہے

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/