عالمی ادب
میرا جسم متحدہ ریاست کی یادگار ہے( My body is a C…

میرا جسم متحدہ ریاست کی یادگار ہے
( My body is a Confederate monument )
تحریر : کیرولین رینڈال ولیمز( Caroline Randall Williams)
مترجم : عقیلہ منصور جدون (راولپنڈی)
ناشول : میری جلد سر سوئی رنگت کی ہے ۔میری ہلکی براؤن -سیاہی پرانے جنوب کے قوانین ،عمل اور اسباب کی زندہ دستاویز ہے ۔
اگر کچھ لوگ متحدہ ریاست کی میراث کو یاد رکھنا چاہتے ہیں ،اگر انہیں یاد گاریں چاہیں تو میرا جسم ‘یادگار’ ہے ۔میری جلد 'یادگار'ہے۔
متحدہ ریاست کے مردہ نمائندوں کو پورے امریکہ میں ان کے کارٹون نما پرائیویٹ مجسمے ،عوامی یادگاریں بنا کا حتی کہ متحدہ ریاست کے فوجی اڈوں کو ان کے نام دے کر ان کی عزت افزائی کی جا رہی ہے ۔اس عمل کے خلاف سنجیدہ ،غیر جانبدار پبلک سروینٹس کی جانب سے اور اس کا تدارک کرنے کے لئے احتجاج اور آواز بلند کرنے سے میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے ۔میری ہمت بڑھی ہے ۔ لیکن ابھی بھی بہت سے لوگ جیسے صدر ڈونلڈ ٹرنپ اور سینٹ کا اکثریتی لیڈر مچ میکونل (Mitch McConnell ) ہیں جو ماضی کو دوبارہ لکھنے اور اس کی تشکیل نو میں فرق نہیں کر پا رہے ۔میرا اصرار ہے کہ یہ معاملہ تاریخ پر رنگین پچکاری کا نہیں بلکہ تاریخ کو نئے تناظر میں دیکھنے کا ہے ۔
میں جنوب کی سیاہ فام عورت ہوں ۔میرے نزدیک ترین سفید فام مرد اجداد سب کے سب زنا کار (rapist) تھے ۔ میرا وجود ہی غلامی اور ‘جم کرو ‘ ( Jim Crow) کی باقیات / نشانی ہے ۔
ہائیپوڈی سینٹ (Hypodescent) قوانین کے مطابق (اخطلاط نسل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شخص کو اس نسل کا فرد قرار دینا جو سماجی طور پر کمزور ہو ) میں دو سیاہ فام اشخاص کی اولاد ہوں ۔چار سیاہ فام اشخاص کی پوتی ہوں اور آٹھ سیاہ فام کی پڑپوتی ہوں ۔ ایک نسل مزید پیچھے جائیں تو معاملہ اتنا سیدھا اور صاف ستھرا نہیں رہتا ۔بلکہ مبنی بر بد دیانتی ہو جاتا ہے ۔جہاں تک خاندان کی تاریخ سے علم ہوا اور جتنا میں جدید ڈی این اے ٹیسٹ سے تصدیق کر سکی ،میں ان گھریلو ملازم سیاہ فام خواتین کی اولاد ہوں جن کی گورے آقاؤں نے عصمت دری کی ۔
یہ میری زندگی کا غیر معمولی سچ ہے ،کہ میں حیاتیاتی طور پر آدھے سے زیادہ سفید فام ہوں ،لیکن میرے شجرہ نصب میں کوئی سفید فام نہیں ،کوئی رضاکارانہ بھی نہیں ۔میرے آدھے سے زیادہ سفید فام ہونے میں میرے سیا ہ فام اجداد کی رضامندی شامل نہیں تھی ۔جنوب کے سفید مرد(میرے اجداد) نے سیاہ فام عورتوں سے زبردستی وہ حاصل کیا جو انہیں چاہیے تھا ۔ ان سے انہیں محبت بھی نہیں تھی ۔صرف انہیں غیر معمولی غلبہ حاصل تھا ۔اور پھر نتیجتا” پیدا ہونے والے بچوں کو اپنانے میں ناکام رہے ۔
یاد گار ہوتی کیا ہے ؟۔۔۔۔ایک مستقل یادداشت ؟؟ ۔ایک ایسی انسان کی بنائی ہوئی چیز جو ماضی کے سچ کو ٹھوس شکل دے سکے ۔تو پھر میرا جسم اور خون جنوب کا ایسا ہی ٹھوس سچ اور اس کا ماضی ہے ۔سیاہ فام لوگ جن سے میرا تعلق ہے وہ ان سفید فام جن سے میرا وجود بنا ہے کے محکوم تھے ۔میرے سفید فام اجداد ہارے ہوے نصب العین کے لئے لڑے اور مرے ۔اب میں آپ سے پوچھتی ہوں ! کس میں اتنی جرات ہے کہ مجھے ان کا جشن منانے کا کہ سکے ؟ ۔کون ہے جو مجھے ان کے نصب شدہ ستون بطور یادگار تسلیم کرنے کا کہنے کی جرات کر سکے ؟؟ ۔
آپ یہ کہ کر میری نفی نہیں کر سکتے کہ میں سمجھ نہیں پا رہی ۔آپ اس سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ وہ جو لڑے اور مرے میرا خاندان نہیں تھے ۔میرا کالا ہونا مجھے کسی طرح بھی لکیر کے دوسری طرف کھڑا نہیں کر سکتا ۔بلکہ اسی وجہ سے مجھے اس بحث میں مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے ۔میں صرف جنوب سے نہیں ہوں بلکہ میں متحدہ ریاست کے نمائندوں میں سے ہوں ۔میری رگوں میں باغی-سرمئی نیلا خون دوڑ رہا ہے ۔میرا پردادا ‘ول’اس جانکاری کے ساتھ بڑا ہوا کہ ایڈ منڈ پیٹس اس کا باپ تھا ۔مشہور و معروف پیٹس متحدہ کا جنرل ‘کو کلکس کلین (Ku Klux Klan) کا عظیم ڈریگن ۔جس کے نام پر سلما کے خونی پل کا نام رکھا گیا ۔چنانچہ میں باہر سے نہیں ہوں جو یہ مطالبہ کر رہی ہوں ۔میں اس کی پڑپوتی ہوں .
مجھے یہ کہا جاتا ہے کہ میں یہ کہوں کہ جنوب میں بہت کچھ ایسا ہے جو میرے لئے قیمتی ہے ۔میں پڑھانے اور لکھنے کی بھر پور کوشش کرتی ہوں ،تاہم یہاں مخصوص جنوبی تفاخر ہے ۔یہ لاعلمی کا فخر نہیں ہے بلکہ باغیانہ فخر ہے ۔یہ وہ فخر ہے جو یہ کہتا ہے کہ ہماری تاریخ شاندار ہے ۔ہمارے مقاصد جائز ہیں ۔
لیکن ایک بات ہے ۔ہمارے اجداد تمھارے غیر مشروط تفاخر کے حقدار نہیں ۔جی ہاں مجھے اپنے تمام سیاہ فام اجداد جو غلامی سے زندہ بچ نکلے ان پر فخر ہے ۔یہ فخر انہوں نے اپنی جدوجہد سے حاصل کیا ۔لیکن مجھے اپنے سفید فام اجداد پر بلکل فخر نہیں ،جنہیں میں محض اپنے وجود کی وجہ سے بطور برے کردار کے جانتی ہوں ۔جنوب کے مقاصد اور ان کی یادگاروں کے لئے معافی مانگنے والوں میں وہ ہیں جو ماضی کی مشکلات کو نظر انداز کرتے ہیں ۔وہ ماضی کو ایسی دنیا تصور کرتے ہیں جہاں آقا مہربان اور خیرخواہ تھے ۔وہ نم آلود آنکھوں سے شرافت، عزت اور زمین کی باتیں کرتے ہیں ۔وہ آبرو ریزی کا انکار کرتے ہیں ،یا اس کی وضاحتیں پیش کرتے ہیں ۔یا پھر جس کثرت سے یہ عمل ہوا اس پر سوال اٹھاتے ہیں ۔ایسے لوگوں کو جواب دینا میرا حق ہے ۔کہ "میں" اسکا ثبوت ہوں ۔
میں اس بات کا بھی ثبوت ہوں کہ جنوب جو کچھ تھا یا جیسا ان کے تصور میں ہے ،اس کی خوشحالی ،اس سے متعلقہ رومان اور اس کے ماضی کی یادیں ،سب کچھ سیاہ فام زندگی کے استحصال پر مبنی ہے ۔پرانے جنوب کا جو تصور ان کے خوابوں میں ہے ،ایسے کسی جنوب کا کبھی وجود نہیں رہا ۔
کوئی بھی اس وقت کے حوالے سے تعمیر کردہ یادگار محض آدھا سچ بتاتی ہے ۔وہ جس خیال اور آئیڈیل کو تعظیم دینا چاہتے ہیں ،وہ حقیقی نہیں ہے ۔وہ محض دھوکہ اور فریب ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس سراب سے باہر نکلیں ۔
یا تو آپ اس سچ کے آگے اندھے ہیں جو میرا جسم آپ کو دیکھنے پر مجبور کرتا ہے یا آپ استحصال زدگان کو نظر انداز کر کے استحصالی طبقے کی عزت افزائی کرنا چاہتے ہیں ۔آخر کار آپ کو نفرت کی وراثت میں اپنی جذباتی سرمایہ کاری تسلیم کرنا پڑے گی ۔
بہرحال میرا یہ کہنا ہے کہ پتھر اور دھات کی یادگاریں ،کپڑے اور لکڑی کی نشانیاں اور انسانوں کی بنائی گئی سب یادگاریں گرا دی جائیں ۔
میں ہر اس جذباتی جنوبی کو للکاروں گی جو میرے سامنے ہمارے سفید اجداد کا دفاع کرے گا ۔۔
میں مکمل وجوہات کے ساتھ انہیں ان کے اعزازات سے نیچے اتارنا چاہتی ہوں ۔
* * * * * * *
کیرولین رینڈل ولیمز"لوسی نیگرو", "ریڈ کس/Redux " اور Soul Food Love کی مصنفہ ہے ۔
یہ آرٹیکل دی نیویارک ٹائمز کے انٹرنیشنل ایڈیشن کے پاکستان ایڈیشن میں یکم جولائی دو ہزار بیس میں شائع ہوا ۔
— with Aqila Mansoor Jadoon.
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2817437285153453



