منتخب غزلیں

( غیـر مطبـوعـہ ) دھیان میں ہوں، یہ دھیان رہ گیا …

( غیـر مطبـوعـہ )

دھیان میں ہوں، یہ دھیان رہ گیا ہے
اپنے ہونے کا گیان رہ گیا ہے

وہ کہ اک خواب_خواب تھا مجھ میں
پھر یہ کس کا نشان رہ گیا ہے

میں مکانوں کی قید سے نہ چھٹا
یعنی مجھ میں زمان رہ گیا ہے

جھڑ گئے روشنی کے پھول سبھی
شاخ بھر خاکدان رہ گیا ہے

ہر تحیُّر سے ہو چکا ہے گزر
دھیان میں صرف دھیان رہ گیا ہے

کیا رہا میرے پاس اب ثانی'!
جی ہی دینے کو دان رہ گیا ہے

( مَہِندر کُمــار ثانی ؔ )

— with Mahender Kumar Sani.

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/