مختصر کہانیاں

#hamidnaved حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش) قسط …

#hamidnaved
حجاز کی آندھی (عنایت اللہ التمش)
قسط نمبر 28

’’وہ اس طرح کہ تم لوٹ مار کرنے نہیں آئے۔‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ہمارے شہنشاہ نے تمہیں آدھی سلطنت کی پیش کش کی ہے جو تم نے قبول نہیں کی۔‘‘
’’لیکن میں اپنے لشکر کو پار کیسے لے جاؤں گا؟‘‘سعدؓ نے کہا۔’’ نہ کوئی کشتی ہے نہ پُل ہے……کیا تم دریا پار کرنے کا کوئی اور ذریعہ بتا سکتے ہو؟‘‘ سعدؓبن ابی وقاص اس کی رہنمائی چاہتے تھے۔
انہوں نے بوڑھے سے یہ بھی پوچھا کہ کوئی ایسی جگہ ہو جہاں سے دریا کا پاٹ بہت چوڑا ہو اور گہرائی کم ہو ۔
بوڑھے کو ایسی جگہ کا علم نہیں تھا۔ اس نے اتنا ہی بتایا کہ بہت ہی دور دریا کے نیچے کی طرف دریا دو تین حصوں میں تقسیم ہوجاتا ہے لیکن وہ جگہ بہت دور تھی۔ بوڑھے نے یہ بھی بتایا کہ وہ سارا علاقہ دلدلی ہے۔
‘‘ سعد ؓبن ابی وقاص نے اس بوڑھے کو اس حکم کے ساتھ پیچھے بھجوا دیا کہ اسے عزت و احترام کے ساتھ رکھا جائے اور اس کے ساتھ معزز مہمانوں جیسا سلوک کیا جائے۔ ٭
سعدؓ بن ابی وقاص نے اپنے سالاروں کو بلوایا اور ان سب کو دیوار کے اوپر لے گئے جس طرف دریا تھا اور سامنے والا کنارے پر مدائن شہر تھا۔وہاں سے انہوں نے مدائن کی شان وشوکت دیکھی ۔
یہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔ اب یہ سب سالار مدائن کو قریب سے دیکھ رہے تھے ۔ان سالاروں میں ایک سالار ضرار بن خطاب بھی تھے ۔وہ بڑے انہماک سے مدائن کو دیکھ رہے تھے۔
’’ﷲ اکبر!‘‘ضرار بن خطاب نے نعرہ لگا کر کہا۔’’ یہ کسریٰ کا سفید قلعہ ہے جس کا ﷲ اور رسولﷺ نے تم سے وعدہ کیا تھا۔‘‘
’’اور یہی وہ جگہ ہے۔‘‘ سعدؓ نے کہا۔’’ جہاں کسریٰ پرویز نے دعوتِ حق کا پیغام پھاڑ کر پھینک دیا تھا……
میرے رفیقو! سوچنا یہ ہے کہ ہم یہ دریا عبور کس طرح کریں گے؟
دریا کی کیفیت دیکھو۔ میں ایسا سیلابی دریا پہلی بار دیکھ رہا ہوں۔ موجوں کو دیکھو ۔کیا کوئی اس میں اترنے کی جرأت کر سکتا ہے؟‘‘
’’جرأت کرنی پڑے گی۔‘‘ عاصم بن عمرو نے کہا۔’’ فارسیوں نے دجلہ کو اپنی آڑ بنایا ہے۔ انہوں نے ٹھیک سوچا ہے کہ اس بپھرے ہوئے دریا کو کوئی فوج اس صورت میں عبور نہیں کر سکتی کہ کشتیاں بھی نہ ہوں اور پُل بھی نہ ہو۔
میں کہتا ہوں کہ شہنشاہِ فارس کے اس خیال کو چکنا چور کر دیں کہ یہ دریا اس کی سلطنت کو بچا لے گا۔‘‘
’’کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ اس دریا کو ہم تیر کر پار کریں گے؟
‘‘سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ ہم میں کوئی موسیٰؑ نہیں جس کیلئے ﷲ تعالیٰ کے حکم سے نیل نے اپنی روانی روک کر راستہ دے دیا تھا۔‘‘
’’ہاں سپہ سالار!‘‘عاصم بن عمرو نے کہا۔’’ارادے نیک ہوں اور دل میں ﷲ کا نام ہو تو وہ معجزہ ہم جیسے انسان بھی کرکے دکھا سکتے ہیں۔‘‘ مؤرخ لکھتے ہیں کہ سعد ؓبن ابی وقاص پر خاموشی طاری ہو گئی، اور وہ گہری سوچ میں کھو گئے۔ چند لمحوں بعد وہ چل پڑے۔ دیوار سے اترے اور اس کمرے میں جا بیٹھے جہاں فارس کے جرنیل بیٹھا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تمام سرداروں کو بلایا جائے۔
قاصد چلا گیا تو سعد ؓنے اسے آواز دے کر روک لیا۔ ’’تمام لشکر کو باہر میدان میں اکٹھا کیا جائے۔‘‘ سعدؓ نے کہا۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ مجاہدین کا لشکر آگیا۔ سعدؓ باہر نکلے۔ قبیلوں کے سردار اپنے اپنے قبیلے کے سامنے کھڑے تھے۔ سعدؓ گھوڑے پر سوار ہوئے اور لشکر کے سامنے جا رُکے۔ ’’……
شہنشاہِ فارس نے اس دریا کو اپنی ڈھال بنالیا ہے۔‘‘ سعدؓ مجاہدین سے مخاطب ہوئے ۔’’میں نے دیکھا ہے کہ مدائن کی دیوار پر کھڑے کچھ آدمی ہماری طرف اشارے کر کر کے ہنس رہے تھے ۔وہ ہمارا مذاق اڑا رہے تھے کہ ہم اب آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ ہم پر فرض ہو گیا ہے کہ دشمن کو اس مذاق کا جواب دیں ۔لیکن کشتیاں دشمن کے قبضے میں ہیں ۔وہ جب بھی چاہے ہم پر حملہ کر سکتا ہے،ہم پار نہیں جا سکتے۔ لیکن ہم پار جائیں گے ۔تم نے میدانِ جنگ میں معجزے کر دکھائے ہیں۔ اب ایک معجزہ یہ رہ گیا ہے کہ یہ دریا پار کرنا ہے۔ ہم ایسے مقام پر آپہنچے ہیں جہاں ہم گھیرے میں آسکتے ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جن امرأ اور جاگیرداروں نے ہماری اطاعت قبول کر لی ہے، وہ لوگوں کو جمع کر کے اطاعت سے دستبردار ہو جائیں، اور ہم پر عقب سے حملہ کردیں……
میں اب ایسی بات کہنے لگا ہوں کہ جسے شاید تم سن کر بھی کہو کہ میں نے ایسی بات نہیں کہی۔‘‘
’’اے امیرِ لشکر!‘‘مجاہدین میں سے کسی کی بڑی ہی بلند آواز ابھری۔’’ اس سے پہلے کہ تو وہ بات منہ سے نکالے، ایک بات مجھے کہہ لینے دے……ﷲ ہماری رہنمائی کا اور ہماری قسمت کا فیصلہ کر چکا ہے۔ ہم یہ دریا تَیر کر پار کریں گے۔‘‘
تاریخ میں اس مجاہد کا نام نہیں ملتا۔ اس کے یہ الفاظ تاریخ کے دامن میں محفوظ ہیں۔تبصرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ اس وقت سعدؓ بن ابی وقاص کے چہرے پر ہر سالار ، سردار اور ہر ایک مجاہد کے چہرے پر کچھ ایسا تاثر تھا، جیسے وہ اس زمین سے اٹھ کر عالمِ بالا میں پہنچ گئے ہوں یا عالمِ خواب و خیال میں جا پہنچے ہوں۔جہاں وہ دنیاوی حقائق سے لا تعلق ہو گئے ہوں۔
مؤرخوں کے مطابق لشکر سے یہی ایک آواز بار بار اٹھ رہی تھی، ہم تَیر کر دریا پار کریں گے……ہم تَیر کر دریا پار کریں گے۔‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص حقیقت پسند سالار تھے ،وہ خاموشی سے لشکر کے نعرے سنتے رہے۔ پھر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر لشکر کو خاموش کیا۔ ’’ہمیں صرف دریا ہی عبور نہیں کرنا۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’
دریا کے سامنے والے کنارے پر دریا کی فوج موجود ہے اور شہر کی جو دیوار دریا کے ساتھ ہے اس پر تیر انداز اور برچھیاں پھینکنے والے بھی موجود ہیں۔ اگر تم دریا میں اترے اور سامنے والے کنارے پر پہنچ بھی گئے تو تم پر تیروں کی بوچھاڑیں آئیں گی برچھیاں بھی آئیں گی۔
چاہتا میں بھی یہی ہوں کہ دریا عبور کیا جائے۔‘‘
’’یہ تیرا حکم نہیں سپہ سالار! ‘‘عاصم بن عمرو کے قبیلے کے ایک آدمی نے گرج کر کہا۔’’ یہ ﷲ کا حکم ہے کہ دریا پار کرو۔ ہم ﷲ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔‘‘
’’ہم ﷲ کے حکم کی تعمیل کریں گے۔ ‘‘لشکر سے ایک شور اٹھا ۔’’ہم دریا پار کریں گے۔
‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص کا چہرہ جذبات کی شدت سے سرخ ہو گیا۔ انہوں نے ایک سر ے سے دوسرے سرے تک اپنے لشکر کو دیکھا۔ ’’اس ایثار اور شجاعت کا اجر تمہیں ﷲ دے گا۔‘‘ سعدؓ بن ابی وقاص نے بڑی ہی بلند آواز سے کہا۔’’
اب میں تم سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کون ہے وہ جو کچھ آدمی اپنے ساتھ لے کر دریا میں اتر جائے اور اگر وہ دریا پار کرلے تو اس دشمن کو روکے رکھے جو سامنے والے کنارے پر موجود رہے۔
‘‘ تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ عاصم بن عمرو نے ہاتھ اوپر کیا اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر لشکر کے سامنے آگیا۔ ’’میں گھوڑے پر سوار سب سے پہلے دریا میں اتروں گا۔‘‘ عاصم نے اعلان کیا۔ اس کے اعلان کے ساتھ ہی چھ سو گھوڑ سوار لشکر میں سے نکل کر اس کے سامنے جا رکے۔ سب نے بیک زبان کہا کہ عاصم بن عمرو کے ساتھ ہم دریا میں اتریں گے۔
دریا کی طرف جو دروازے تھے، وہ کھول دیئے گئے۔ سعدؓ کے اشارے پر عاصم بن عمرو ان چھ سو سواروں کو شہر سے باہر دریا کے کنارے لے گیا ۔
تاریخوں میں ایک واقعہ یہ بھی ملتا ہے کہ دریا کے کنارے کھڑے ہو کر عاصم نے ان چھ سو سواروں سے خطاب کیا۔
’’میرے رفیقو!‘‘ اس نے کہا۔’’ دریا کی حالت دیکھ لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ دریا کے وسط میں جا کر پچھتانے لگو کہ یہ ہم نے کیا کیا کہ اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال دیا۔ میں تمہیں یقینی موت کے خطرے میں جانے کا حکم نہیں دیتا۔ تم میں سے جو میرے ساتھ دریا میں کودنا چاہتے ہیں وہ آگے آجائیں اور جو آگے نہیں آئے گا اس پر کوئی گلہ نہیں۔‘‘
ان چھ سو سواروں میں سے صرف ساٹھ مجاہدین آگے آئے اور جو آگے نہیں آئے تھے عاصم ان کے سامنے چلا گیا۔ ’’کیا تم اس تھوڑے سے پانی سے ڈر گئے ہو؟
‘‘عاصم نے کہا اور قرآن کی ایک آیت پڑھی۔ ’’اور کوئی شخص نہیں مرسکتا جب تک ﷲ کا حکم نہ ہو اس نے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔‘‘ عاصم بن عمرو نے ان سواروں کے جواب کا انتظار نہ کیا۔ گھوڑا موڑا اور ﷲ اکبر کا نعرہ لگا کہ گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔
اس کے پیچھے ساٹھ سواروں نے گھوڑے دریا میں ڈال دیئے۔ جب وہ چند ہی قدم آگے گئے تھے کہ ان سواروں نے بھی جو پیچھے رہ گئے تھے گھوڑے دریا میں اتار دیئے۔
گھوڑوں نے ذرا سی ہچکچاہٹ یا ڈر محسوس نہیں کیا۔ وہ پوری طرح اپنے سواروں کے قابو میں رہے۔ ان کے پاؤں دریا کی تہہ سے اٹھ گئے تھے کیونکہ وہاں پانی زیادہ گہرا تھا ۔وہ کنارے سے خاصا آگے نکل گئے۔
تاریخ کے اوراق پھڑ پھڑانے لگے۔زمین و آسمان دم بخود ہو گئے۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سورج رُک گیا ہو اور ان مجاہدین کا یہ اقدام جو بظاہر خود کشی کی کوشش معلوم ہوتا تھا، دیکھنے کیلئے آگے جانے کے بجائے کچھ پیچھے آگیا ہو۔
سعدؓ بن ابی وقاص اور ان کے ساتھ سالار اور دوسرے مجاہدین بُہر شیر کی دیوار پر کھڑے دیکھ رہے تھے۔ سامنے مدائن کی دیوار پر اور دریا کے کنارے فارسی کھڑے دیکھ رہے تھے۔ سب کی سانسیں رک گئی تھیں۔ ’’وہ دیکھو۔‘‘ سامنے والے کنارے سے کسی فارسی کی بلند آواز آئی۔’’ وہ دیکھو ‘عربی پاگل ہو گئے ہیں۔‘‘ وہ پاگل پن ہی تو تھا……
اجتماعی پاگل پن……چھ سو گھوڑ سوار تیز و تند اور بپھرے ہوئے دریا میں جا رہے تھے۔ یہ بھی پیشِ نظر رہے کہ شمال میں آذر بائیجان تھا جو برفانی ملک تھا ۔اس ملک کی برف پگھل پگھل کر دجلہ کو شوریدہ سر اور کف آگیں رکھتی تھی ۔
دریا ہر وقت طغیانی کی کیفیت میں رہتا تھا ۔پانی یخ بھی ہوتا تھا۔ اُدھر سامنے والے کنارے پر بعض فارسی قہقہے لگا رہے تھے کہ مسلمان مرنے کیلئے دریا میں اترے ہیں اور اب جنگ ختم ہو جائے گی اور بعض فارسی حیران اور ششدر کھڑے آنکھیں اور منہ کھولے دیکھ رہے تھے۔ کہ یہ اُن ہی جیسے انسان ہیں اور یہ کس طرح اپنے سپہ سالاروں کے حکم سے ڈوبنے کیلئے دریا میں اُتر آئے ہیں۔
علامہ شبلی نعمانی تاریخِ طبری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ گھوڑے دریا میں بھی ترتیب سے تیرتے جا رہے تھے۔ سیلابی موجیں گھوڑوں کو اوپر اٹھاتیں اور نیچے اتارتی تھیں ۔سوار بے خوف و خطر گھوڑوں پر بیٹھے انہیں قابو میں کیے ہوئے تھے ۔یوں لگتا تھا جیسے دریا انہیں ہلارے دے رہا ہو،
لیکن دیکھنے والوں کیلئے یہ اجتماعی خودکشی کا اقدام تھا۔ فارس کی فوج کا جو دستہ سامنے والے کنارے پر تیار کھڑا تھا ۔اس کے ساتھ ایک جرنیل تھا ۔مدائن کا دفاع اسی جرنیل کی ذمہ داری تھی ۔اس کا نام ’’خرزاد‘‘ تھا،
تمام تاریخوں میں اس کا نام یہی لکھا ہے۔ یہ نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ اس کا یہ نام کیوں رکھا گیا تھا۔ خرزاد کے معنی ہیں’’ گدھے کا بچہ ‘‘۔ وہ گدھے کا بچہ تھا یا نہیں، اس کا دماغ گدھوں جیسا معلوم ہوتا تھا۔ کیونکہ اس نے مسلمان گھوڑ سواروں کو جو دریا کے وسط میں پہنچ چکے تھے اور ابھی ڈوبا ایک بھی نہیں تھا۔روکنے کا بڑا ہی احمقانہ حکم دیا۔ ان مجاہدین کو روکنے اور ڈبونے کا آسان طریقہ یہ تھا کہ کنارے سے ان پر تیروں کا مینہ بر سا دیا جاتا۔ لیکن اس نے اپنا ہی طریقہ اختیار کیا۔
’’آفتاب کے بیٹو! ‘‘خرزاد نے اپنے دستے کو حکم دیا۔’’ عربی یہ نہ کہیں کہ عجمی بزدل ہیں ۔ تم بھی گھوڑے دریا میں ڈال دو اور ان عربوں کو دریا میں کاٹ کر ڈبو دو۔‘‘ سینکڑوں فارسی گھوڑ سواروں نے گھوڑے دریا میں ڈال دیئے اورتلواریں اور برچھیاں تان لیں۔
اب سیلابی دریا میں معرکہ لڑا جانا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے سالار عاصم بن عمرو نے اپنا دماغ حاضر رکھا۔ عاصم صرف بہادر اور دلیر ہی نہیں تھا اس میں جنگی فہم و فراست کی بھی کمی نہیں تھی۔
’’تیر اندازو! ‘‘عاصم نے اپنے تیر انداز سواروں کو حکم دیا۔’’ انہیں تیروں سے روکو۔ تیر ان کے گھوڑوں کی آنکھوں میں لگیں۔‘‘ یہ افسانہ یا من گھڑت قصہ نہیں۔ یہ واقعہ اُس تاریخ کے دامن میں بھی محفوظ ہے جو یورپی مؤرخوں نے بھی لکھی ہے۔ حالانکہ اس تاریخ میں تعصب بھی پایا جاتا ہے ۔
تاریخ گواہ ہے کہ دجلہ کی غصیلی موجیں مجاہدین کے گھوڑوں کو اٹھا اٹھا کر پٹخ رہی تھیں اور سوار اپنے آپ کو بڑی ہی مشکل سے سنبھال رہے تھے ۔اس حالت میں کہ مجاہدین اپنے آپ کو اور گھوڑوں کو قابو میں رکھنے کی سر توڑ کوشش کر رہے تھے، کمانوں میں تیر ڈال کر فارسی سواروں کے گھوڑوں کی آنکھوں کا نشانہ بھی لے رہے تھے۔ کئی ایک تیر فارسیوں کے گھوڑوں کی آنکھوں میں اتر گئے اور باقی خطا گئے یا فارسی سواروں کے جسموں میں اتر گئے ۔ فاصلہ زیادہ نہیں تھا ،اس لئے تیراندازوں کے تیر گھوڑوں کو لگتے یا سواروں کے جسموں میں دور تک اترتے جاتے تھے۔
فارسیوں کے گھوڑے تیرنا بھول گئے ۔انہوں نے اپنے آپ کو دریا کے حوالے کر دیا۔ سوار تیر کھا کھا کر دریا برد ہونے لگے ۔خرزاد کا دفاعی اقدام بُری طرح تباہ ہوا۔ مجاہدین کے گھوڑے دجلہ کو چیرتے ، موجوں کے قہر و عتاب کو روندتے آگے ہی آگے بڑھتے گئے ۔کنارا ابھی دور تھا۔ کہا جاتا ہے کہ فارسی جرنیل خرزاد کا یہ اقدام احمقانہ تھا۔ اس نے کنارے سے ہی مجاہدین پر تیر برسانے کے بجائے اپنے سواروں کو دریا میں اتار دیا۔ معلوم نہیں خرزاد احمق تھا یا نہیں۔
اصل بات یہ تھی کہ ﷲ تبارک و تعالیٰ جب چاہتا ہے کہ یہ کام ہو جائے تو ایسے حالات پیدا کر دیتا ہے کہ وہ کام ہو جاتا ہے۔
ﷲ نے دیکھا کہ اس کے نام اور اس کے رسول ﷺکی آن پر ان مجاہدین نے جانوں کی بازی لگا دی ہے تو ﷲ نے ان کے دشمن جرنیل کو عقل کا اندھا کر دیا۔ ٭

جس وقت خرزاد نے اپنے سواروں کو دریا میں اتارا، اس وقت مجاہدین کے ایک اور قبیلے کے سردار قعقاع بن عمرو نے سعد ؓبن ابی وقاص کے حکم کے بغیر ہی اپنے قبیلے کے سواروں کو للکارا۔
’’خدا کی قسم!‘‘ اس نے کہا۔ ’’مدائن پر چڑھائی اکیلے عاصم بن عمرو کی ذمہ داری نہیں، وہ دیکھو ، فارسی سوار گھوڑے دریا میں اتار رہے ہیں۔‘‘
قعقاع نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور گھوڑا دریا میں ڈال دیا۔ اس کے پیچھے چھ سو گھوڑ سوار دریا میں اتر گئے ۔ﷲ اکبر کے نعروں میں دریا کا شور دب گیا۔ ان کے پیچھے لشکرکے تمام گھوڑ سواروں نے گھوڑے دریا میں اتاردیئے۔
سعدؓ بن ابی وقاص نے پیادہ مجاہدین کو اپنے ساتھ رکھا۔ بعض پیادے بھی جوش میں آکر دریا میں کودنے کو تیار ہو گئے تھے لیکن سعد ؓنے انہیں روک دیا۔ دریا میں ہزاروں گھوڑے تیرتے جا رہے تھے۔
محمد حسنین ہیکل نے مختلف مؤرخوں کے حوالوں سے لکھا ہے کہ دریا کا پانی گھوڑوں اور انسانوں کے سروں میں چھپ گیا تھا ۔فارس کی فوج جو دوسرے کنارے پر مقابلے کیلئے تیار کھڑی تھی، صرف یہی دیکھ کر بد دل ہو گئی تھی کہ اس کا جو سوار دستہ دریا میں اترا تھا ،وہ مسلمانوں کے تیروں سے ڈوب مرا ہے۔ اب دیکھا کہ مسلمانوں کا سارا لشکر دریا کو چیرتا آرہا ہے تو فوج میں شور اٹھا:
’’دیواں آمدند، دیواں آمدند (دیو آگئے دیو آگئے)
‘‘ یہ آوازیں بھی سنائی دیں ۔’’ہم جنات سے نہیں لڑ سکتے۔ بھاگو لوگو ‘بھاگو ‘جنات کا مقابلہ کیسے کرو گے۔
‘‘ عاصم بن عمرو کنارے پر جا پہنچے۔ وہاں انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا۔ اپنے جرنیل خرزاد سمیت فارس کی فوج بھاگ گئی تھی۔ کچھ لوگ وہاں کھڑے تھے ۔عاصم نے ان سے پوچھا کہ وہ کیوں نہیں بھاگے ؟
انہوں نے بتایا کہ وہ ان کشتیوں کے ملّاح اور ماہی گیر ہیں۔ عاصم نے انہیں حکم دیا کہ وہ کشتیاں بُہرشیر والے کنارے پر لے جائیں اور مجاہدین کے لشکر کو لے آئیں۔
پیادہ مجاہدین نے سعد ؓبن ابی وقاص کے ساتھ کشتیوں میں دریا پار کیا۔ منجیقیں اور دیگر سامان بھی کشتیوں میں ہی لے جایا گیا۔ اب مدائن کو محاصرے میں لینا تھا۔ لیکن شہر کے لوگوں اور سعدؓ بن ابی وقاص کے جاسوسوں نے بتایا کہ مدائن خالی پڑا ہے۔
شہنشاہِ فارس یزدگرد اپنے خاندان کو ساتھ لے کر چلا گیا ہے اور فوج کا ایک سپاہی بھی شہر میں موجود نہیں۔
سعد ؓبن ابی وقاص شہر میں داخل ہو ئے تو اتنے خوبصورت اور اتنے امیر شہر پر ہُو کا عالم طاری تھا۔
حضرت سعدؓ بن ابی وقاص رُک گئے اور ہر سُو دیکھا پھر انہوں نے بلند آواز سے قرآن کی یہ آیت پڑھی:
’’وہ بہت سے باغ ، چشمے، کھیت، پاکیزہ مقام، اور نعمتیں چھوڑ گئے جن میں وہ عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے تھے اور اس طرح ہم نے ایک دوسری قوم کو ان کا وارث بنایا۔ پس نہ ان پر آسمان رویا اور نہ انہیں ڈھیل دی۔‘‘ (الدُّخان:۲۵تا۲۹ )
دریا تَیر کر پار کرنے میں صرف ایک مجاہد ڈوب کر شہید ہوا۔ تاریخوں میں صرف یہ لکھا ہے کہ وہ قبیلہ طے کا مجاہد تھا۔ نام کسی نے بھی نہیں لکھا۔
عمرو بن العلاء کی روایت ہے کہ اسے تیر لگا تھا جو فارسیوں نے چلائے تھے ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فارسیوں نے تھوڑی سی تیر اندازی بھی کی تھی ۔
’’یزدگرد اور اس کا خاندان کہاں گیا؟‘‘ ٭
تاریخِ اسلام کی معجزہ نما داستان کو آگے بڑھانے سے پہلے ہم ذرا پیچھے اس مقام پر واپس جانا چاہتے ہیں جہاں اس داستان کے ایک ہیرو عاصم بن عمرو نے گھوڑا دریا میں ڈالا تھا۔
یہ سنایا جا چکا ہے ہے کہ عاصم کے ساتھ ساٹھ رضاکار تھے جنہوں نے دجلہ پار کرنے کیلئے گھوڑے دریا میں ڈال دیئے تھے۔ ان کے پیچھے باقی پانچ سو چالیس جانباز سواروں نے بھی گھوڑے دریا میں اتار دیئے تھے۔ اس وقت مدائن کی دیوار پر بہت سے فارسی کھڑے قہقہے لگا رہے تھے۔ انہیں توقع تھی کہ مسلمان اتنے زیادہ جوش میں آئے ہوئے دریا میں ڈوب جائیں گے یا دریا کا اتنا تندوتیز بہاؤ انہیں اپنے ساتھ ہی لے جائے گا۔
فارسیوں کی یہ توقع بے بنیاد نہیں تھی۔ مسلمان ایک معجزہ کر دکھانے کی کوشش کر رہے تھے جو بظاہر ناممکن نظر آرہا تھا۔ دیوار پر کھڑے فارسیوں کے اس ہجوم سے الگ تھلگ ایک آدمی کھڑا تھا جس نے اپنے سر پر اس طرح ایک کپڑا ڈال رکھا تھا کہ اس کا چہرہ بھی نظر نہیں آتا تھا ۔وہ دوسروں کی طرح ہنس نہیں رہا تھا ۔اس کے ہونٹوں پرہلکا سا تبسم بھی نہیں تھا ،بلکہ چہرے پر سنجیدگی تھی اور سنجیدگی میں اُداسی اور مایوسی کی جھلک نمایاں تھی۔
ایک عورت جس کے چہرے پر نقاب تھا ، تیز تیز چلتی اس کے قریب آرکی۔ ’’یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو یزدی!‘‘عورت نے اس سے پوچھا۔’’
تم حوصلہ کیوں ہار بیٹھے ہو؟‘‘
’’تم چلی کیوں نہیں جاتیں ماں!‘‘اس نے کہا۔’’ سب جا چکے ہیں ،تم بھی یہاں سے فوراً چلی جاؤ۔‘‘
’’تمہیں اکیلا چھوڑ کر کیسے چلی جاؤں بیٹا!‘‘ اس نے عورت کی طرف دیکھا اور بولا کچھ بھی نہیں۔ وہ یزدگرد تھا……شہنشاہِ فارس……اور یہ عورت اس کی ماں نورین تھی۔
یزدگرد شاہی لباس میں ملبوس نہیں تھا۔ لباس سے وہ بالکل ہی عام سا شہری لگ رہا تھا۔اس نے چہرہ چھپا رکھا تھا۔ تمام مستند مؤرخوں نے لکھا ہے کہ بُہر شیر سے فارس کی فوج بھاگ کر مدائن چلی گئی تو یزدگرد کے ہاتھ سے امید کا دامن چھوٹ گیا ۔اس پر اتنی زیادہ مایوسی طاری ہو گئی کہ وہ نوجوانی میں بوڑھا نظر آنے لگا تھا۔ اس نے بُہر شیر پر مسلمانوں کا قبضہ ہوتے ہی تمام تر شاہی خاندان کو مدائن سے نکال کر مدائن سے کچھ دور ایک مقام حُلوان بھیج دیا اور خود محل میں ہی رُکا رہا۔ اس کی خاطر اس کی ماں بھی وہیں رک گئی۔
’’……اور تم اتنے مایوس کیوں ہوئے جا رہے ہو یزدی!‘‘نورین نے بڑے پیار اور حوصلہ مندی سے یزدگرد سے کہا۔’’ مسلمان ڈوبنے کیلئے دریا میں اترے ہیں ۔کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ ان کے گھوڑے اس طغیانی میں سے نکل آئیں گے؟‘‘
’’ان کے سوار انہیں طغیانی میں سے نکال لائیں گے۔‘‘یزدگرد نے کہا۔’’ جذبہ سواروں میں ہوتا ہے گھوڑوں میں نہیں۔بات سواروں کی کرو……کہاں ہیں ہمارے سوار؟
وہ پیچھے کو بھاگنا چاہتے تھے اس لیے ان کے گھوڑے پیچھے کو بھاگ آئے۔‘‘
’’کیا ہمارے جرنیل دھوکے باز نہیں؟
‘‘نورین نے دانت پیس کر کہا۔’’ بُزدل، کمینے، عیاش اور بھاگنے میں سب سے آگے۔ خرزاد کو میں دوسروں سے بہتر سمجھتی تھی ۔وہ رستم کا بھائی ہے۔‘‘
’’اور میں خرزاد پر صرف اسی لیے بھروسہ نہیں کرتا کہ وہ رستم کا بھائی ہے۔‘‘ یزدگرد نے کہا۔’’ کیا تمہیں یاد نہیں ماں! رستم کو میں نے کس طرح دھکیل دھکیل کر قادسیہ بھیجا تھا؟ اس نے مہینوں کے حساب سے وقت ضائع کیا اور اس وقت سے عربوں نے فائدہ اٹھایا۔
‘‘ یزدگرد چونک کر خاموش ہو گیا۔ اس کی نظریں دریا پر لگی ہوئی تھیں۔ مسلمانوں کے گھوڑے دریا کے وسط تک آگئے تھے۔ یزدگرد نے گھبرائی ہوئی سی آواز میں کہا۔’’وہ دیکھو ماں!تم کہتی ہو کہ وہ ڈوبنے کیلئے دریا میں اترے ہیں ۔کیا تم دیکھ نہیں رہی ہو کہ اتنے قہر اور غضب سے اٹھنے والی طوفانی موجیں عربوں کے گھوڑوں تلے دب گئی ہیں؟
وہ دریا پار کر لیں گے۔ انہیں ڈوبنا ہوتا تو اب تک ڈوب چکے ہوتے۔‘‘
’’خرزاد نے مجھے یقین دلایا ہے کہ وہ مسلمانوں کو دریا میں ہی تباہ کر دے گا۔‘‘ نورین نے کہا ۔’’کہتا ہے کہ بُہر شیر کی شکست کو فتح میں بدل دے گا۔‘‘ یزدگرد طنزیہ سی ہنسی ہنس پڑا۔ ٭
جس وقت یزدگرد اپنی ماں کے ساتھ مدائن کی دیوار پر کھڑا مسلمانوں کے گھوڑوں کو دریا پار کرتا دیکھ رہا تھا، سعدؓ بن ابی وقاص ایک مشہور و معروف صحابی حضرت سلمان فارسیؓ کے ساتھ دریا کے بُہر شیر والے کنارے کی طرف کھڑے تھے۔
’’حسبنا ﷲ ونعم الوکیل۔ ‘‘
سعدؓ بن ابی وقاص نے کہا۔’’ خدا کی قسم! ﷲ اپنے ان نیک بندوں کو جو اس کی راہ میں جانیں قربان کرنے نکلے ہیں، فتح و نصرت عطا کرے گا۔ مجھے یقین ہے اور یہ میرا عقیدہ ہے کہ ﷲ اپنے دین کو غالب کرے گا اور دشمن کو لازمی طور سے شکست دے گا ۔بشرطیکہ مجاہدین کے لشکر میں کوئی ایسا گناہ یا زیادتی نہ ہو گئی ہو جو نیکیوں پر غالب آجائے۔
’’خدا کی قسم ابنِ وقاص!‘‘سلمان فارسیؓ نے کہا۔’’ جس طرح ﷲ نے ان کے لئے زمین کی دشواریاں ہموار کر دی تھیں ، اسی طرح ان کے لئے ﷲ اس دریا کو بھی پامال کر دے گا ۔
قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں سلمان کی جان ہے، جس طرح یہ دریا میں اترے ہیں اسی طرح زندہ و سلامت دریا کے اُس کنارے پر پہنچ جائیں گے۔‘‘
اس وقت مجاہدین کے گھوڑے دریا کے وسط سے آگے نکل گئے تھے۔ موجوں کا طوفانی زیرو بم وسط میں ہی تھا۔ وہاں سے گھوڑے نکل گئے تو امید بندھ گئی کہ اب دریا پار کر لیں گے۔
سلمان فارسیؓ کے متعلق کچھ بتانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے سلمان ؓفارس ایران کے رہنے والے تھے۔ اسلام قبول کیا تو مدینہ رسول ﷺکے حضور جا پہنچے اور حضور,ﷺکی رفاقت میں ہی زیادہ وقت گزارا۔
اہلِ قریش نے مکہ اور اردگرد کے دیگر قبائل سے مل کر جب مدینہ پر حملہ کیا، اس وقت سلمان فارسیؓ مدینہ میں ہی تھے ۔حملہ اوروں کی آمد کا قبل از وقت پتہ چل گیا ۔اس وقت مسلمانوں کے پاس نفری کے لحاظ سے جنگی طاقت خاصی کم تھی۔ حملہ آوروں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس بے حد خطرناک صورتِ حال میں سلمان فارسیؓ کام آئے۔ انہوں نے رسولﷺ کو مشورہ دیا کہ مدینہ کے اردگرد خندق کھودی جائے جو اتنی چوڑی اور اتنی گہری ہو کہ طاقتور گھوڑا بھی اسے پھلانگ نہ سکے۔ اس وقت تک مسلمان خندق کے تصور سے نا آشنا تھے۔ رسولِ کریمﷺ نے سلمان فارسیؓ کا مشورہ قبول فرما کر اہلِ مدینہ سے فرمایا کہ سلمان فارسیؓ کی نگرانی میں خندق کھودی جائے۔
مسلمانوں میں بے پناہ جوش و خروش اور جذبہ تھا۔ انہوں نے بہت ہی تھوڑے وقت میں شہر کے اردگرد خندق کھود ڈالی، اور پھر دیکھا کہ اسے گھوڑا پھلانگ سکتا ہے یا نہیں ۔گھوڑے کیلئے یہ کام ممکن نہیں تھا۔ اہلِ مکہ جوش و خروش سے آگے آئے اور خند ق کے باہر رک گئے۔ انہوں نے بہت کوشش کی کہ خندق کو پھلانگ سکیں لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔
اس وقت خالدؓ بن ولید مسلمان نہیں ہوئے تھے اور اس حملے کے قائد وہی تھے ۔ اہلِ مکہ نے مدینہ کو ایک مہینہ تک محاصرے میں رکھا آخر مایوس ہو کر واپس چلے گئے ۔اس خندق کی وجہ سے اس خندق کو جنگِ خندق کہا جاتا ہے۔ اب سلمان فارسیؓ سعدؓ بن ابی وقاص کے ساتھ تھے اور پورے وثوق سے کہہ رہے تھے کہ مجاہدین دریا پار کر لیں گے ۔پچھلے باب میں بیان ہو چکا ہے کہ مجاہدین نے دریا پار کر لیا تھا۔ ٭
یزدگرد دیوار سے اتر گیا ۔نورین اس کے ساتھ تھی۔ نیچے کہیں دو گھوڑے کھڑے تھے ۔یزدگرد اور اس کی ماں ان گھوڑوں پر سوار ہوئے اور محل میں جانے کے بجائے شہر کے ایک چھوٹے سے دروازے سے نکل گئے ۔وہ مدائن سے دور چلے گئے ،یزدگرد نے ایک بار بھی مُڑ کر مدائن کو نہ دیکھا۔ اس کی ماں بار بار پیچھے دیکھتی تھی۔ اس کے آنسو رُکتے ہی نہیں تھے۔
اس خاندان پر کڑی آزمائش کا وقت تو وہ تھا جب یزدگرد کو اطلاع ملی تھی کہ بُہر شیر میں بھی مسلمان داخل ہو گئے ہیں ۔یزدگرد نے دیوار پر کھڑے ہو کر اپنی بچی کھچی فوج کو کشتیوں سے اور پل سے مدائن کی طرف بھاگتے دیکھا تھا ۔وہ اپنے محل میں گیا اپنی ماں سوتیلی بہن پوران اور شاہی خاندان کے سرکردہ افراد کو بلالیا۔ اس کے علاوہ اس نے دو جرنیلوں کو بھی بلایا۔ ایک مہران تھا اور دوسرا فیروزان۔ ان سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ بُہر شیر سے اپنی فوج بھاگ آئی ہے اور وہاں مسلمان قابض ہو گئے ہیں۔
یہ وہ محل تھا جہاں مسرت و شادمانی محوِ رقص رہتی تھی۔ جہاں شہنشاہ ہوتا وہاں انتہائی حسین اور دلکش کنیزیں شہنشاہ کے آگے پیچھے حاضری میں موجود رہتی تھیں۔ ان کے ناز و انداز اور طور طریقوں سے محفل میں کچھ اور ہی رونق پیدا ہو جاتی تھی ۔شراب کی صراحیاں اور پیالے تو اس محل کا لازمی حصہ سمجھے جاتے تھے ،لیکن اس روز تمام افراد پر سناٹا طاری تھا ۔کسی کنیز کو اس کمرے میں جانے کی اجازت نہیں تھی، جس میں یزدگرد نے ان سب کو بلایا تھا۔شراب کی صراحیاں بھی ہٹا لی گئی تھیں۔ ان سب کے انداز بتاتے تھے کہ وہ ایک دوسرے سے نظریں ملانے سے بھی گھبرا رہے ہیں۔
’’خدائے آفتاب کی لعنت ہو تم جرنیلوں پر! ‘‘یزدگرد نے مہران اور فیروزان کی طرف دیکھ کر سکوت توڑا۔’’ تم میں سے کوئی ایک بھی جرنیل کسی ایک بھی میدان میں نہیں ٹھہر سکا۔ بُہر شیر کے دفاع کیلئے میں تمہیں اور کتنی مدد دے سکتا تھا؟
خرزاد نے سب کچھ ضائع کر دیا۔‘‘
’’ہم ابھی زندہ ہیں شہنشاہِ فارس!‘‘مہران نے کہا۔’’ دجلہ ہمارے دشمن کے سامنے ایسی رکاوٹ ہے جو اسے بُہر شیر سے آگے نہیں بڑھنے دے گی ۔فوج واپس آرہی ہے۔ اُدھر کے کنارے سے تمام چھوٹی بڑی کشتیاں ادھر لے آئیں اور پُل کو آگ لگا دیں۔‘‘
’’پھر کیاہو گا؟۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟

٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭ ٭
جاری ہے…

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/