منتخب غزلیں

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں کوچۂ یار میں ہم…

دیکھیے اہل محبت ہمیں کیا دیتے ہیں
کوچۂ یار میں ہم کب سے صدا دیتے ہیں

روز خوشبو تری لاتے ہیں صبا کے جھونکے
اہل گلشن مری وحشت کو ہوا دیتے ہیں

منزل شمع تک آسان رسائی ہو جائے
اس لیے خاک پتنگوں کی اڑا دیتے ہیں

سوئے صحرا بھی ذرا اہل خرد ہو آؤ
کچھ بہاروں کا پتا آبلہ پا دیتے ہیں

مجھ کو احباب کے الطاف و کرم نے مارا
لوگ اب زہر کے بدلے بھی دوا دیتے ہیں

ساتھ چلتا ہے کوئی اور بھی سوئے منزل
مجھ کو دھوکا مرے نقش کف پا دیتے ہیں

زندگی مرگ مسلسل ہے مگر اے تابشؔ
ہائے وہ لوگ جو جینے کی دعا دیتے ہیں

(تابش دہلوی)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/