منتخب غزلیں

٩ ستمبر ١٩٤٨ء کو شاعرِ رومان اختر شیرانی کا انتقال…

٩ ستمبر ١٩٤٨ء کو شاعرِ رومان اختر شیرانی کا انتقال لا ہو ر میں ہوا تھا ‘شاعر،مدیر،افسانہ نگار مترجم محمد دائود خان اختر شیرانی حافظ محمود خاں شیرانی پنجاب میں اردو کے محقق کے فرزند دل بند تھے دونوں کے بارے میں جاوید اختر بھٹی صاحب کی بیس معروف ادبی شخصیات نامی تحقیقی کتاب میں تذ کر ہ ملتا ہے۔یہ کتاب برائٹ بکس،لاہور سے ستمبر ٢٠٠٦ سن دوہزارچھے عیسوی میں شایع کروائی گئی تھی۔٤ مئی ١٩٠٥ء بہ مقام ریاست ٹو نک راجستھا ن برصغیر اخترشیرانی نے جنم لیا تھا۔ ہمارے والد مرحوم سالک الہاشمی کے وہ دوست اورچچا سید قمر ہاشمی و مدیر فنون احمد ندیم قاسمی کے استاد شاعر رہے۔

جہا ں سلمی ٰ کی و ا د ی ہے جہا ں ر یحا نہ ر ہتی ہے
جہا ں عذ ر ا کے آ و یزے تبسم با ر ہیں ا ختر
وہیں پر جو ہر و د ر د و قمر اور سا لک و بسمل
خیا با ن ِ ا د ب کے عظمت ِ کُہسا ر ہیں ا ختر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوہرسعیدی،دردسعیدی،قمرہاشمی،سالک الہاشمی،بسمل سعیدی کے حوالے سے اخترشیرانی کا قطعہ ان کا شعری مجموعہ ا خترستان ہمارے والد صاحب کو پیش کیا گیا تھا جو شاید ہمارے شیلف میں ہے۔
ساحر لدھیانوی کے ساتھ پیسہ اخبار اسٹریٹ انارکلی میں وہ رہا کرتے تھے ان کی مئے نوشی سے ان کے والد عاجز تھے زبردستی ٹونک لے گئے مگر اخترشیرانی فرار ہوکر واپس لاہور آگئے تھے ساحر بمبئی چلے گئے تھے۔۔۔
اخترستان کے علاوہ جو مجموعے کتب خانوں میں ہمارے مطالعے میں آئے ان میں نگارشات اختر،لالہ ء طور،نغمہ ء حرم،صبح بہار،شہناز ۔۔۔رئیس امروہوی کے ایک مجموعے کا نام بھی شہناز ہے جو ہمارے شیلف میں موجود ہے۔بہ طور مدیر رومان،انتخاب،بہارستان،خیالستان خلیقی دہلوی کا جریدہ ١٩٢٣ تا ١٩٣٩ ان کی ادبی و صحافتی خدمات بیش بہا رہی ہیں۔اخترشیرانی نے مولانا محمد علی جوہر کے ہمدرد اور مولانا ظفر علی خان کے زمیندار اخبارات کے لیے کالم نویسی بھی کی۔احمد ندیم قاسمی اور کئی نئے لکھنے والوں کو انہوں نے متعارف کروایا۔ قدرت اللہ شہاب بھی یہ بات مانتے رہے کہ ان کو پہلے پہل اخترشیرانی کے ذریعے ہی ادب کی دنیا میں داخلہ ملا جب اخترشیرانی نےے رومان میں ان کی کہانی چندروتی شایع کی
[] ثروت حسین کو ١٩٧٠ء کی دہائی سے تا حال شعر و ادب کا ذوق رکھنے والے اچھی طرح جانتے مانتے ہیں کل مبشر سعید فیصل آباد سے اپنا مجموعہ خواب گاہ میں ریت بھیج چکے ہیں ان کا شعر ہم نے رسید دیتے ہوئے درج کیا تھا :
یعنی ثروت کی پیروی کر لو ں
جی میں آ تا ہے خو د کشی کرلوں
یہ ثروت حسین جو جامعہ ملیہ کالج کے گریجویٹ اورکئی کالجوں کراچی و اندرون سندھ لیکچرار رہے بہت ہی عمدہ شاعری اپنے چاہنے والوں کو دے گئے ان کی غزلوں کو ہی نہیں بعض نظموں جیسے سائیں مرنا
اور آدھے سیارے پر کی چند نظمیں، کتابی سلسلہ آج میں شایع کی گئیں سبھی کو پسند کیا گیا۔
ثروت کی شاعری سے ان کے معاصر اورنوجوان شاعر بہت متاثر ہوئے ہیں۔ شوکت عابد ان کے برادر خورد اورصاحب زادے سلمان ثروت بھی شاعری کرتے ہیں۔ ثروت کا انتقال ایک حادثے کے بعد جسے لوگوں نے خودکشی قراردیا کئی بار خود کو موت کی آغوش میں دینے کے بعد ریل کی پٹریوں سے ٹانگیں کٹوانے کے بعد اے او کلینک پہنچائے گئے ہم اور احسن سلیم مدیر اجرا دیکھنے پہنچے تو پتا چلا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔
آج ٠ ستمبر کو ان کی ٢٢ویں برسی ہے تاریخ وفات ٩ستمبر١٩٩٤،انیس سو چورانوے عیسوی
…….
بشکریہ سید انور جاوید ہاشمی


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/