منتخب غزلیں

"تُمہیں جانے کی جلدی تھی” تُمہیں جانے کی جلدی تھی…

"تُمہیں جانے کی جلدی تھی”

تُمہیں جانے کی جلدی تھی
سو اپنی جلد بازی میں
تم اپنے لَمس کی کرنیں، نظر کے زاویے، پوروں کی شمعیں
میرے سینے میں بھڑکتا چھوڑ آئے ہو
وہاں تکیے کے نیچے
کچھ سُنہرے رنگ کی ٹوُٹی ہُوئی سانسیں
کِسی نوزائیدہ خوُشبو کے تازہ خوابچے
بستر کی شِکنوں میں گِرے کچھ خوُبرو لمحے
ڈریسنگ روم میں ھینگر سے لٹکی ایک صد رنگ ہنسی کو
بس اچانک ہی پسِ پردہ لٹکتا چھوڑ آئے ہو
تمھیں جانے کی جلدی تھی!
اب ایسا ہے کہ جب بھی
بے خیالی میں سہی لیکن کبھی جو اِس طرف نِکلو
تو اِتنا یاد رکھنا
گھر کی چابی صدر دروازے کے بائیں ہاتھ
اِک خول میں رکھی مِلے گی

اور تُمھیں معلوم ہے
کپڑوں کی الماری ہمیشہ سے کُھلی ہے
سیف کی چابی تو تُم نے خوُد ہی گُم کی تھی
سو وہ تب سے کُھلا ہے اور اس میں کچھ تمھاری
چوڑیاں، اِک آدھ انگوُٹھی اور ان کے بیچ میں
کچھ زرد لمحے اور ان لمحوں کی گِرھوں میں بندھی
کچھ لمس کی کرنیں، نظر کے زاویے، پوروں کی شمعیں
اور سُنہرے رنگ کی ٹوُٹی ہُوئی سانسیں مِلیں گی
اور وہ سب کچھ جو،
میرا اور تمھارا مشترک سا اک اثاثہ ہے
سمٹ پائے، تو لے جانا،
مجھے جانے کی جلدی ہے

ایوب خاورؔ

از:-تمہیں جانے کی جلدی تھی ص ۳۳/۳۴

اِنتِخاب
سفیدپوش


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/