عالمی ادب

**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)** **افسانہ نمبر 587 : نوجوان لڑکی** …

**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)**

**افسانہ نمبر 587 : نوجوان لڑکی**

**افسانہ نگار : کیتھرائن مینسفیلڈ (نیوزی لینڈ)**

**مترجم : ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی (نیوزی لینڈ)**

نیلے لباس میں ملبوس ، ہلکے سے سرخ گالوں اور نیلی ، نیلی آنکھوں کے ساتھ ، سنہرے بالوں کی لٹوں کو ، شائد پہلی مرتبہ ، سر کے اوپر پنوں کی ساتھ جکڑ دیا گیا تھا ، اس کے انداز پرواز سے بالکل مختلف—— مسز ریڈ ک (Mrs. Raddick) کی بیٹی جیسےاس منور جنت سے نیچے بھیج دی گئی ہو۔ مسز ریڈ ک کی سہمی سی ، حیران سی ، لیکن سراہتی ہوئی نظریں بتا رہی تھیں کہ وہ بھی اس بات پر یقین رکھتی تھیں ؛ لیکن بیٹی کوئی خاص خوش دکھائی نہیں دے رہی تھی —- ویسے وہ ہو بھی کیوں ؟ ——- وہ جواخانہ (کیسینو۔Casino) کی سیڑھیوں سے نیچے اتر چکی تھی۔ بے شک وہ بیزار تھی —- بیزار تھی ، جیسے جنت جواخانوں سے بھری پڑی تھی ، بزرگوں کی مخصوص بو سے بھرے خزانچیوں اور بادشاہوں کے ساتھ کھیلتے ہوے ۔

“ تمھیں اعتراز تو نہیں ہوگا ، ہینی (Hennie) کو بھی ساتھ لینے میں ؟” مسز ریڈ ک نے کہا۔ “ مجھے یقین ہے تم کوئی خیال نہیں کروگی ؟ کار کھڑی ہے ، اور تم چاے وغیرہ پی لو اور ہم واپس انھی سیڑھیوں پر ملتے ہیں —— بالکل یہیں —— صرف ایک گھنٹہ میں۔ دیکھو ، میں چاہتی ہوں کہ وہ ( مسز ریڈ ک کی بیٹی )اندر جاے۔ اس سے پہلے وہ کبھی نہیں آئی یہاں ، ویسے یہ جگہ دیکھنے کے لائق ہے۔ میرے خیال سے یہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی ۔ “

“ اوہ ، چپ رہیں ، مما ،” اس نے تھکے ہوے انداز میں کہا۔ “ چلیں ۔ زیادہ باتیں نہ کیا کریں۔ اور آپ کا بیگ کھلا ہے ؛ آپ دوبارہ اس میں رکھی رقم نہ گنوا دیں ۔ “

“ معذرت ، پیاری بیٹی ، “

“ اوہ ، اندر آجائیں ! میں پیسے بنانا چاہتی ہوں، “ ایک بے چین سی آواز سنائی دی ۔ “تمھارے لیے اچھا موقع ہے —- لیکن میں تو دیوالیہ ہو چکی ہوں ! “

“ یہ لو — پچاس فرینکس (fifty francs) ، سو (100) لے لو میری عزیز! “ میں نے دیکھا مسز ریڈ ک نے ،جھولتے دروازے سے گذرتے ہوے اس کے ہاتھ میں کچھ نوٹ تھما دیے۔

ہینی اور میں ، لوگوں کو دیکھتے ہوے ، سیڑھی پر ایک منٹ رکے۔ اس کے ہونٹوں پر مسرت بھری مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔

“ میرے خیال سے ، “ اس نے اونچی آواز میں کہا ، “ اندر ایک انگلش بلڈاگ ( Bulldog- ایک مضبوط نسل کا بھاری بھرکم کتا ) ہے۔ کیا انھیں کتوں کو ساتھ لانے کی اجازت ہے ؟ “

“” نہیں ، اجازت نہیں ہے ۔“

“ یہ کافی خطرناک ہے ، ہے نا؟ کاش میرے پاس بھی ایک ہوتا۔ وہ تفریح طبع کا ذریعہ ہوتے ہیں ۔ وہ لوگوں کو خوفزدہ کرتے ہیں ، لیکن وہ کبھی اپنے مالکوں کو نہیں ڈراتے۔ “ اچانک اس نے میرا بازو پکڑا ۔ “ میں کہتا ہوں اس بوڑھی خاتون کی طرف دیکھیں ۔ کون ہے وہ ؟ وہ ایسے کیوں دکھائی دے رہی ہے ؟ کیا وہ جواری ہے ؟ “

بوڑھی ، مرجھائی ہوئی مخلوق ، سبز اطلس کے لباس کے ساتھ کالے مخمل کا عبایہ (cloak) ڈالے ، سفید ٹوپی پر ارغوانی پر(feathers) لگاے ، جسم کو بار بار جھٹکتے ہوے اس طرح سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جیسے اسے تاروں کی مدد سے اوپر کھینچا جا رہا ہو۔ وہ راست سامنے دیکھی جارہی تھی، ہنستے ہوے ، سر ہلاتے ہوے ، اور بطخ کی طرح قیں ،قیں کی آوازوں میں خود سے باتیں کرتے ہوے ؛ اپنے ہاتھوں سے ، کسی گندی سی چیز کو جو جوتوں کا تھیلا دکھائی دے رہا تھا ، مضبوطی سے جکڑ ے ہوے ۔

لیکن اسی لمحہ مسز ریڈ ک پھر وہاں تھیں ، اور —- ان کے ساتھ — ایک اور خاتون پس منظر میں منڈلاتی دکھائی دے رہی تھیں۔ ۔ مسز ریڈ ک دوڑتی ہوئی میری طرف چلی آئیں۔ سرخی اور خوشی سے درخشاں چہرہ کے ساتھ وہ کوئی اور ہی مخلوق دکھائی دے رہی تھی۔ ایک ایسی خاتون جو اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر، ایک لمحہ بھی گنواے بغیر ، اپنے دوستوں کو “ الوداع “ کہہ رہی ہو۔

“ اوہ ، تم یہیں ہو ، ابھی تک ۔ کتنی اچھی بات ہے ! تم گئیں نہیں۔ مجھے بہت تسلی ہوئی ! میں بے حد ناخوشگوار وقت گذار رہی تھی اس کے —- ساتھ۔ ، “ اور اس نے اپنی بیٹی کی طرف ہاتھ ہلایا جو میلوں دور ، بالکل خاموش، ایک پیر کو سیڑھی پر گھماتے ہوے ، حقارت سے نیچے دیکھے جا رہی تھی ۔ “اسے اندر جانے نہیں دیا گیا ۔ میں حلفیہ کہتی رہی کہ وہ اکیس سال کی تھی ۔ لیکن وہ میری بات پر یقین کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھے ۔ میں نے اس شخص کو اپنا بٹوہ بھی دکھایا ؛ اس سے زیادہ کچھ کرنے کی ہمت نہیں کرسکتی تھی۔ لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس نے بس طنز کرتے ہوے اس کی توہین کی…… اور اب میری ملاقات نیویارک کی مسز میک ایوین (Mrs. MacEwen) سے ہوگئی جس نے ابھی ابھی سیل پرائوی (Salle Privee) سے تیرہ ہزار (13000) جیتے تھے —— اور وہ چاہتی ھیکہ میں اس کے ساتھ واپس جاؤں جب تک اچھا وقت چل رہا ہو۔ اور یقیناً میں اسے چھوڑ نہیں سکتی تھی —— ۔ لیکن اگر تم —— “

اسی وقت “ اس “ نے سر اٹھا کر دیکھا ؛ ماں کا چہرہ مرجھا گیا ۔ “ کیوں تم مجھے چھوڑ نہیں سکتیں ؟ “ اس نے غصہ سے کہا۔ “ کیا بکواس کر رہی ہو ! تمھاری ہمت کیسے ہوئی اس طرح کا تماشہ کرنے کی ؟ آج کے بعد کبھی تمھارے ساتھ باہر نہیں آؤنگی۔ تمھیں اپنے الفاظ پر قابو نہیں ہوتا ۔ “ اس نے ماں کو اوپر سے نیچے دیکھا ، اور زبردست انداز میں کہا، “خود کو پرسکون کر لیں۔“

مسز ریڈ ک بیتاب تھیں ، بہت بیتاب ۔ وہ مسز میک ایوین کے ساتھ واپس جانے کے لیے پاگل ہوئی جارہی تھیں ، لیکن ساتھ ہی ……

میں نے اپنی ساری ہمت یکجا کی۔ “” کیا تم — چاے کے لیے آنے کی زحمت کروگی — ہمارے ساتھ ؟ “

“ ہاں ، ہاں بڑی خوشی سے ۔ یہی تو میں چاہتی تھی ، ہے نا ، میری پیاری ؟ مسز میک ایوین … میں ایک گھنٹہ میں واپس آتی ہوں … یا اس سے بھی جلدی … آجاؤنگی — .“

مسز ریڈ ک تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی گئی۔ اور میں نے دیکھا اس کا بیگ کھلا تھا۔

اور ہم تینوں وہیں رہ گیے۔ لیکن اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں تھی۔ ہینی تو زمین میں دھنسا دکھائی دے رہا تھا۔ اور وہ ، جب کار قریب آگئی ، اس نے آلود گی سے بچنے کے لیے خود کو کوٹ کے اندر چھپا لیا ۔ یہاں تک کہ اس کے چھوٹے چھوٹے پیر جیسے اس کو سیڑھیوں سے نیچے لانے میں بیزاری محسوس کر رہے تھے ۔

“ میں بے حد شرمندہ ہوں ، “ کار کے چلتے ہی ، میں نے غیرواضح انداز میں کہا۔

“ اوہ ، میں نے برا نہیں مانا ، “ اس نے کہا۔ “ میں تو اکیس (۲۱) سال کی دکھائی دینا بھی نہیں چاہتی۔ کون چاہیگا — اگر وہ سترہ سال کے ہوں ! یہ “ — وہ ہلکے سے کانپنے لگی — “ بیوقوفی میں نے کی ، اور وہ موٹے ، بوڑھے آدمی گھورے جارہے تھے۔ جانور کہیں کے! “

ہینی نے فوری اس پر ایک نظر دوڑائی اور پھر کھڑکی سے باہر جھانکنے لگا

ہماری کار ایک گلابی اور سفید سنگ مرمر سے بنے بہت بڑے محل کے سامنے رک گئی۔ محل کے باہر سنہرے اور سیاہ رنگ کے کنستروں (tubs) میں سنتروں کے درخت لگے تھے۔

“ اندر داخل ہونے کی زحمت کرینگے آپ ؟ “ میں نے مشورہ دیا۔

وہ کچھ جھجھکی ، ایک سرسری نظر ڈالی ، ہونٹ چبایا اور خود کو تیار کر لیا۔ “ اوہ ٹھیک ہے ، اور کوئی مناسب جگہ دکھائی بھی تونہیں دے رہی ، “ اس نے کہا۔ “ ہینی ، باہر آجاؤ۔ “

پہلے میں اندر چلی گئی — ظاہر ہے ، مناسب میز تلاش کرنے کے لیے۔ وہ بھی پیچھے چلی آئی۔ ایک مصیبت یہ تھی کہ اس کا چھوٹا بھائی جو صرف بارہ (۱۲) سال کا تھا ، وہ بھی ہمارے ساتھ تھا۔ ہماری مصیبتوں میں ایک آخری اضافہ —— وہ بچہ کا ہمیشہ اس کے پیچھے پیچھے رہنا ۔

وہاں ایک میز تھی ، جس پر گلابی پھول اور گلابی پلیٹیں رکھی تھیں ، اور کسی بحری جہاز کے بادبانوں جیسے نیلے رومالوں کے ساتھ۔ ۔

“ ہم یہاں بیٹھ جائیں ؟ “

اس نے تھکا ہوا ہاتھ بید کی سفید کرسی پر رکھ دیا۔

“ ہاں ، ہم بیٹھ سکتے ہیں ۔ کیوں نہیں ؟ “ اس نے جواب دیا۔

ہینی ، دب کر ان کے درمیان سے گذرتے ہوے ، آخر میں رکھے اسٹول پر ہلتا ہوا بیٹھ گیا۔ وہ ناگواری سی محسوس کررہا تھا۔ اس ( اس کی بہن ) نے اپنے دستانے نکالے نہیں تھے ۔ اس نے آنکھیں نیچی کیں اور میز پر ہلکے سے ڈرم بجانے لگی۔ تب ہی وائلن(violin) کی دھیمی سی آواز آنی شروع ہو گئی ، جسے سن کر وہ پریشان ہو گئی اور ہونٹ کاٹنے لگی ۔ پھر خاموشی چھا گئی۔

ویٹریس (waitress) وہاں آگئی۔ میرے لیے اس سے کچھ پوچھنا بہت مشکل ہو رہا تھا۔ “چاے ، کافی ؟ —- چائنا ٹی —- یا برف والی چاے لیمو کے ساتھ ؟ “

سچ مچ اس نے برا نہیں مانا۔ اس کے لیے تو سب ایک جیسا ہی تھا۔ اسے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ ہینی نے سرگوشی کی ، “ چاکلیٹ ! “

لیکن جیسے ہی ویٹریس پلٹی ، اس (بہن) نے چیخ کر کہا ، “ اوہ تم میرے لیے بھی ایک چاکلیٹ لیتی آنا ۔ “

جب تک ہم انتظار کرتے ، اس نے چھوٹی سی پاؤڈر کی ڈبیا نکالی جس کے ڈھکن کے اندر آئینہ جڑا تھا ، بیزارگی سے بے چارے چھوٹے سے پف کو جھٹکا اور اپنی خوبصورت ناک پر پھیرایا ۔

“ ہینی ، “ اس نے کہا، “ ان پھولوں کو یہاں سے ہٹا د و ۔ “ اس نے پاؤڈر کے پف سے گلابی پھولوں کی طرف اشارہ کیا ، اور میں نے اسے آہستہ سے کہتے سنا ، “ میں میز پر پھولوں کو برداشت ہی نہیں کرسکتی ۔ “ ظاہر تھا کہ وہ پھول اسے گہری تکلیف پہنچا رہے تھے ، اور جب میں پھول ہٹا رہی تھی ، اس نے قطعی طور پر آنکھیں بند کر رکھی تھی۔

ویٹریس چاکلیٹ اور چاے لیکر واپس آگئی۔ اور جھاگ سے بھری پیالیاں ان کے سامنے رکھ دیں اور میرا صاف شفاف گلاس میرے آگے سرکا دیا۔ ہینی نے اپنی ناک کپ کے جھاگ میں دھنسا دیا اور ایک لمحہ کے بعد سر اٹھایا تو ملائی کا بلبلہ اس کی ناک کے سرے پہ ٹھہرا کانپ رہا تھا۔ لیکن اس نے کسی چھوٹے سے مہذ ب آدمی کی طرح جلدی سے اپنی ناک کو صاف کیا۔ میں اس کشمکش میں تھی کہ کیسے اس کی (لڑکی ) توجہ اس کے کپ کی طرف مبذول کرواؤں ۔ اس کا تو دھیان ہی نہیں تھا —- اس نے دیکھا بھی نہیں تھا —- یہاں تک کہ اچانک ہی اس نے ایک چسکی لی۔ اور میں بے چینی سے اسے دیکھے جا رہی تھی ؛ وہ ہلکے سے کانپنے لگی ۔

“ بہت زیادہ میٹھی ہے ! “ اس نے کہا۔

ایک چھوٹا سا لڑکا کشمش (raisin) کا سا سر اور چاکلیٹ کے بدن کے ساتھ پیسٹریز (pastries) کی طشت لیے گھوم رہا تھا —- قطار د ر قطار ،تھوڑا سا پاگل پن ، تھوڑی سی روشن خیالی ، اور تھوڑے سے پگھلتے خوابوں کو لیے —- اس نے لڑکی کو پیش کیے۔ “ اوہ ، مجھے بالکل بھی بھوک نہیں ہے۔ لیجاو یہاں سے۔ “

پھر اس نے وہی سب ہینی کو پیش کیا ۔ ہینی نے ایک تیز نظر مجھ پر ڈالی —- ایک اطمینان بخش بات تھی —- اس نے کچھ چاکلیٹ کریم ، ایک کافی ایکلیر(coffee eclair) ، شاہ بلوط کے خشک میوہ سے بھراایک مرنگ (meringue_ انڈوں کا میٹھا ) ، اور ایک کپ اسٹرابیریز (strawberries) اور وہ اسے دیکھ کر بمشکل برداشت کیے جارہی تھی۔ لیکن جیسے ہی ہینی لڑکھڑایا اس نے بڑھ کر اس کی پلیٹ کو تھام لیا ۔ “ اوہ ، ٹھیک ہے ۔ ایک پلیٹ مجھے دے دو ۔ “

اور چاندی کے چمٹے ( tong) نے سموسے گرانے شروع کیے —- ایک ، دو ، تین — اور ایک چیریز (cherries ) والا سموسہ ۔ “ مجھے کیوں اتنے سارے دیے جا رہے ہو، “ اس نے مسکراتے ہوے کہا ۔ “ میں اتنے سارے نہیں کھاؤنگی ؛ میں نہیں کھا سکتی ! “

میں نے بڑا اطمینان محسوس کیا۔ میں چاے کی چسکیاں لیتی ہوئی ، پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ، اور یہ بھی پوچھ لیا کہ کیا میں سگریٹ پی سکتی تھی۔ اس نے کچھ توقف کے بعد ، کانٹا ہاتھ میں لیے ، آنکھیں کھولیں، مسکرا دیا اور کہا ، “ بالکل “ ۔ “ میں جانتی ہوں لوگ ہمیشہ ہی ایسے کرتے ہیں ۔ “

لیکن اسی وقت ہینی کے ساتھ ایک سانحہ ہو گیا۔ اس نے پیسٹری کے کپ میں اتنی زور سے کانٹے ( fork) کو دھنسایا کہ اس کے دو ٹکڑے ہوگیے اور ان میں سے ایک میز پر جا گرا۔ بھیانک صورت حال ہو گئی ! خوف سے اس کا چہرہ سرخ ہوگیا۔ یہاں تک کہ اس کے کان بھی دہکنے لگے تھے۔ ایک شرمندہ سا ہاتھ آگے بڑھا اور میز پر پڑی چیزیں سمیٹ لیں جو کچھ اس کے جسم کے علاوہ وہاں پڑی تھیں۔

“ تم سراسر ایک جنگلی بچے ہو ! “ لڑکی نے کہا۔

غضب خدا کا ! مجھے بچاؤ کے لیے بھاگنا تھا۔ میں عجلت میں چیخی، “کیا تم گھر سے دور طویل عرصہ کے لیے رہنا چاہوگے ؟ “

لیکن اس دوران وہ ہینی کو بھول چکی تھی۔ وہ مجھے بھی بھلا چکی تھی ۔ وہ صرف یہ یاد رکھنے کی کوشش کر رہی تھی ……

کہ وہ میلوں دور ہے۔

“ میں — نہیں — جانتی ، “ دور بیٹھے ہوے اس نے کہا۔

“ میرے خیال سے تمھیں اس جگہ کو لندن پر ترجیح دینی چاہیے ۔ یہ زیادہ — زیادہ — “

جب میں نے بات آگے نہیں بڑھائی تو وہ میرے پاس آئی ، تذبذب میں مبتلا ، مجھے دیکھا، “ زیادہ — ؟ “

“ بالآخر —- مسرور کر دیا ، “ میری سگریٹ کو ہلاتے ہوے میں نے اونچی آواز میں کہا۔

لیکن یہ سب غیر متوقع تھا۔ پھر بھی ، “ اوہ ، ٹھیک ہے ، منحصر کرتا ہے ! “ بس اتنا ہی کچھ وہ محتاط انداز میں کہہ سکی۔

ہینی اپنا کھانا ختم کرچکا تھا ، اور کافی خوش اور مطمئین دکھائی دے رہا تھا۔

میں نے تتلیوں والی فہرست میز سے اٹھائی۔ “ سنو ، — آئسکریم کے بارے میں کیا خیال ہے ، ہینی ؟ نارنگی اور ادرک والی آئسکریم کیسی رہیگی؟ نہیں ، کچھ ٹھنڈی چاہیے۔ تازہ انناس کریم ؟ “

ہینی نے شد ت سے حامی بھری۔ ویٹریس کی نظر ہم پر ہی تھی ، اس نے ریزوں سے سر اٹھا کر دیکھا اور فوری آرڈ ر لے لیا۔

“ کیا تم نے نارنگی اور ادرک کہا ؟ مجھے ادرک پسند ہے۔ تم میرے لیے ایک لا سکتی ہو۔ “ اور پھر فوری میں نے کہا ، “ میں چاہونگی کہ آرکسٹرا پر گذشتہ سال کی دھنیں نہ بجائی جائیں ۔ پچھلی کرسمس پر ہم کافی ناچ چکے ہیں ۔ کافی نفرت ہونے لگی ہے اب ان سے ! “

لیکن ہوا بہت خوشگوار تھی ۔ میں کافی گرمی محسوس کرنے لگی تھی۔

“ میرے خیال سے یہ کافی اچھی جگہ ہے۔ ہے نا ، ہینی ؟ “ میں نے اپنا خیال ظا ہر کیا۔

ہینی نے کہا : “ بہترین ! “ وہ ، دراصل آہستہ سے کہنا چاہتا تھا لیکن وہ چیخ پڑا ۔

اچھی ؟ یہ جگہ ؟ اچھی ؟ پہلی مرتبہ اس (لڑکی) نے اسے غور سے دیکھا ، دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ آخر وہاں کیا تھا… اس نے آنکھ جھپکائی ؛ اس کی خوبصورت آنکھیں حیران تھیں۔ ایک بہت خوش شکل قدرے سن رسیدہ شخص سیاہ فیتہ میں لگی اپنی ایک چشمی عینک سے اسے گھورے جا رہا تھا ۔ لیکن وہ تو اس سے بے خبر تھی۔ وہ شخص جہاں کھڑا تھا وہاں اوپر ہوا میں شگاف تھا۔ وہ تو بس اس سے آگے ، دور کہیں دیکھے جا رہی تھی۔

چھوٹے چمچ ابھی بھی کانچ کی پلیٹوں میں رکھے تھے۔ ہینی کافی تھکا ہوا دکھائی دے رہا تھا ۔ لیکن اس (لڑکی) نے اپنے سفید دستانے پہن لیے۔ البتہ ، اس کی ہیروں کی گھڑی کے ساتھ کچھ مسلہ ہوگیا تھا ؛ وہ کہیں پھنس گئی تھی ۔ اس نے کھینچ کر اسے توڑ دینا چاہا — لیکن وہ ٹوٹی بھی نہیں ۔ آخر اسے اپنا دستانہ کھینچ کر نکالا۔ اور میں نے دیکھا کہ وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس جگہ رکنا نہیں چاہتی تھی ، اور وہ فوری اچھل کر کھڑی ہوئی ، اور پلٹ کر جانے لگی ، جب کہ میں چاے وغیرہ کے بل ادا کرنے جیسے بیہودہ کاموں میں مصروف ہوگئی۔

اور تب ہم ایک بار پھر باہر تھے۔ شام ہو چکی تھی ۔ آسمان پر تاروں کا چھڑکاؤ ہو چکا تھا ؛ بڑے لیمپس روشن ہو چکے تھے۔ جب تک ہم کار کے آنے کا انتظار کرتے رہے ، وہ پہلے کی طرح ، نظریں نیچی کیے ، ایک سیڑھی پر پیر رکھ کر گھمانے لگی ۔

ہینی نے آگے بڑھ کر کار کا دروازہ کھولا ، اور اس نے اندر داخل ہوکر خود کو ، ایک گہری سانس لیتے ہوے ، سیٹ میں دھنسا دیا ۔

“ اس سے کہو ، “ اس نے ہانپتے ہوے کہا ، “ جتنی تیزی سے وہ چلا سکتا ہے ، چلاے ۔ “

ہینی نے دانت پیستے ہوے شوفر سے کہا ، “ ایلی (Allie) جلدی چلاو! “ پھر اطمینان سے ہمارے سامنے کی چھوٹی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

سنہری پاؤڈ ر کی ڈبیہ پھر سے باہر نکلی۔ پھر سے بیچارے پف کو جھٹکا گیا ؛ پھر سے وہی تیز اور پر اسرار نظریں اس کے اور آئینہ کے درمیان ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔

اس سیاہ اور سنہرے شہر سے گزرتے ہوے ہمارے تو ٹکڑے ہورہے تھے جیسے قینچی سے کیمخواب (brocade) کو کاٹا جارہا ہو۔ ہینی کے لیے بڑا مشکل ہو رہا تھا کہ کہیں وہ کسی چیز سے لٹکتا ہوا دکھائی نہ دے رہا ہو۔

اور جب ہم جوا خانہ پہنچے ، بےشک ، مسز ریڈ ک وہاں نہیں تھیں۔ سیڑھیوں پر بھی نہیں ۔ ان کا کہیں نام و نشان تک دکھائی نہیں دے رہا تھا — کہیں نہیں۔

“ کیا تم کار میں بیٹھے رہوگے ، جب تک میں دیکھ آتی ہوں ؟ “

لیکن نہیں — وہ ایسے نہیں کریگی۔ یا خدا ، نہیں ! ہینی تو انتظار کر سکتا تھا ۔ لیکن اسے کار میں بیٹھے رہنا گوارا نہیں ہوگا۔ وہ باہر نکل کر سیڑھی پر انتظار کریگی۔

“ لیکن مجھے تمھیں اس طرح سے چھوڑ کر جانا پسند نہیں ، “ میں نے آہستہ سے کہا ۔ “ بہتر ھیکہ میں تمھیں یہاں نہ چھوڑوں ۔ “

تب ہی اس نے اپنا کوٹ پیچھے پھینکا ؛ پھر مجھے دیکھا ؛ “ یا خدا— کیوں ! میں — میں ذرا بھی پریشان نہیں ہونگی ۔ مجھے — مجھے انتظار کرنا پسند ہے۔ “ اور اچانک ہی اس کا چہرہ سرخ ہوگیا، اس کی آنکھیں گہری ہو گئیں — ایک لمحہ کے لیے تو مجھے لگا کہ وہ بس رو دیگی ۔ “ پلیز ، “ اس نے ہکلاتے ہوے گرم اور پرجوش آواز میں کہا ۔ “ مجھے پسند ہے ، مجھے بہت پسند ہے انتظار کرنا ! سچ مچ — یقین کریں میں کرسکتی ہوں! میں ہمیشہ سے انتظار کرتی رہی ہوں — ہر طرح کی جگہوں پر …… “

اس کا گہرے رنگ کا کوٹ کھل گیا، اور اس کی سفید گردن — اس کا ملائم جسم نیلے لباس میں — کسی پھول کی طرح دکھائی دے رہا تھا جو ابھی ابھی کلی سے نکلا ہو۔

Original Title : **The Young Girl**


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3877616805802157

Related Articles

One Comment

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/