منتخب غزلیں

دم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل اتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو …

دم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل
اتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو
(میرؔ)

مکمل غزل
ہر صبح شام تو پئے ایذاے میر ہو
ایسا نہ ہو کہ کام ہی اس کا اخیر ہو

ہو کوئی بادشاہ کوئی یاں وزیر ہو
اپنی بلا سے بیٹھ رہے جب فقیر ہو

جنت کی منت ان کے دماغوں سے کب اٹھے
خاکِ رہ اس کی جن کے کفن کا عبیر ہو

کیا یوں ہی آب و تاب سے ہو بیٹھیں کارِ عشق
سوکھے جگر کا خوں تو رواں جوے شیر ہو

چھاتی قفس میں داغ سے ہو کیوں نہ رشکِ باغ
جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو

یاں برگِ گُل اڑاتے ہیں پرکالۂ جگر
جا عندلیب تو نہ مری ہم صفیر ہو

اس کے خیالِ خط میں کسے یاں دماغِ حرف
کرتی ہے بے مزہ جو قلم کی صریر ہو

زنہار اپنی آنکھ میں آتا نہیں وہ صید
پھوٹا دوسار جس کے جگر میں نہ تیر ہو

ہوتے ہیں میکدے کے جواں شیخ جی برے
پھر درگذر یہ کرتے نہیں گوکہ پیر ہو

کس طرح آہ! خاکِ مذلت سے میں اٹھوں
افتادہ تر جو مجھ سے مرا دستگیر ہو

حد سے زیادہ جور و ستم خوشنما نہیں
ایسا سلوک کر کہ تدارک پذیر ہو

دم بھر نہ ٹھہرے دل میں نہ آنکھوں میں ایک پل
اتنے سے قد پہ تم بھی قیامت شریر ہو

ایسا ہی اس کے گھر کو بھی آباد دیکھیو
جس خانماں خراب کا یہ دل مشیر ہو

تسکینِ دل کے واسطے ہر کم بغل کے پاس
انصاف کریے کب تئیں مخلص حقیر ہو

یک وقت خاص حق میں مرے کچھ دعا کرو
تم بھی تو میرؔ صاحب و قبلہ فقیر ہو
(میر تقی میرؔ)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/