تپش گلزار تک پہنچی لہو دیوار تک آیا چراغ خود کلام…

چراغ خود کلامی کا دھواں بازار تک آیا
.
اختر حسین جعفری کی پیدائش
July 15, 1932
اردو کی جدید نظم کے ممتاز شاعر اختر حسین جعفری 15 اگست 1932ء کو موضع بی بی پنڈوری ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ ان کے شعری مجموعوں میں آئینہ خانہ اور جہاں دریا اترتا ہے کے نام شامل ہیں۔ وہ اردو کے جدید نظم نگاروں میں ایک اہم مقام کے حامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 2002ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا اس کے علاوہ انہوں نے اپنی تصنیف آئینہ خانہ پر آدم جی ادبی انعام بھی حاصل کیا تھا۔ 3 جون 1992ء کو اختر حسین جعفری لاہور میں وفات پاگئے اور شادمان کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے
رکھ دیا ہم نے حساب ماہ و سال اس کے لیے
اس کی خوشبو کے تعاقب میں نکلا آیا چمن
جھک گئی سوئے زمیں لمحے کی ڈال اس کے لیے
سرو تا خاک گیہ اپنی وفا کا سلسلہ
سر کشیدہ اس کی خاطر پائمال اس کے لیے
کیا مکاں خوردہ خلائق میں چلے اس کا خیال
تنگ ہائے شہر کچھ رستہ نکال اس کے لیے
شاخ تنہائی سے پھر نکلی بہار فصل ذات
اپنی صورت پر ہوئے ہم پھر بحال اس کے لیے
وصل کے بدلے میں کیا داغ ستارہ مانگنا
اس شب بے خانماں سے کر سوال اس کے لیے



