منتخب غزلیں

تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ #خوبصورت…

تمھیں بھی یاد ہے کچھ، یہ کلام کس کا تھا؟ #خوبصورت_مقطعے
……
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
……
اتنی بھی بد مزاجی ہر لحظہ میر تم کو!
الجھاؤ ہے زمیں سے ، جھگڑا ہے آسماں سے
……
ہر اک سے کہتے ہیں کیا داغ بے وفا نکلا
یہ پوچھے ان سے کوئی وہ غلام کس کا تھا؟
…..
عمر ساری تو کٹی عشقِ بتاں میں مومن
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے
…..
پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
……
اقبال لکھنؤ سے نہ دِلّی سے ہے غرَض
ہم تو اسیر ہیں خمِ زلفِ کمال کے
…..
بہت جی خوش ہوا اے ہم نشیں کل جوش سے مل کر
ابھی اگلی شرافت کے نمونے پائے جاتے ہیں
……
خودی کا نشّہ چڑھا، آپ میں رہا نہ گیا
خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا

خیالِ زلف دو تا میں نصیر پیٹا کر
گیا ہے سانپ نکل اب لکیر پیٹا کر
شاہ نصیر
…..
کر کے موزوں انہیں جرات غزل اک اور بھی پڑھ
دل میں جو تازہ مضامین ہوں ٹھہرائے ہوئے
……
جسے آپ گنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے با وفا
میں وہی ہوں مومنِ مبتلا، تمھیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
……
اُردو ہے جس کا نام، ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
…..
آپ بھُولے تو نہ ہوں گے مجھ کو
آپ کا اخترِ شیرانی ہوں
…..
عشق اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
…..
مری خاک بھی لحد میں، نہ رہی امیر باقی
انہیں مرنے ہی کا اب تک، نہیں اعتبار ہوتا
…..
یہ مسائلِ تصوّف، یہ ترا بیان غالب
تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا
…..
فیض تھی راہ سربسر منزل
ہم جہاں پہنچے کامیاب آئے
…..
میں زندگی سے نبرد آزما رہا ہوں فراز
میں جانتا تھا یہی راہ اک بچاؤ کی تھی
….
جاری ہے


Related Articles

2 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/