منتخب غزلیں
جب سے اُس حُسنِ قبا سوز نے عُریانی کی چلمنیں …

جب سے اُس حُسنِ قبا سوز نے عُریانی کی
چلمنیں تان کے بیٹھا ہوں میں حیرانی کی
چلمنیں تان کے بیٹھا ہوں میں حیرانی کی
یوں تو مشکل تھی بہت راہ غزل خوانی کی
وہ تو کہیے کہ کسی یاد نے آسانی کی
میں نے روٹھے ہوئے یاروں سے تعلق رکھا
میں نے اجڑے ہوئے باغوں کی نگہبانی کی
عشق وہ ظرف جو آپ اپنی انا سے پُر ہے
اس میں حسرت کی جگہ ہے نہ پشیمانی کی
میرے سوکھے ہوئے کوزوں کو نہ پھینکے کوئی
"اِن سے آتی ہے مجھے اب بھی مہک پانی کیۤ”*
اتنا سوچا کہ اُتر جائیں گی اُس کی یادیں
دیکھتے دیکھتے اِک موج نے طغیانی کی
ایک بار اور اُڑا دو مرا ذرّہ ذرّہ
میں نے پھر خاک سمیٹی ہے پریشانی کی
شہزاد نیّر
از:-خوابشار ۹۴/۹۵
انتخاب
سفیدپوش

