منتخب غزلیں

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے ہم …

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

کِتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو ملتا ہے تُم سا لگتا ہے

اِس بستی میں کون ہمارے آنسو پُونچھے گا
جو ملتا ہے اُس کا دامن بھیگا لگتا ہے

دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں
شام ڈھلے اِس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے

کِس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے
شیش محل میں اِک اِک چہرا اپنا لگتا ہے

قیصرؔ الجعفری

المرسل: فیصل خورشید


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/