منتخب غزلیں
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جا نکلے یہ ہم سفر مرے کتن…
بنے بنائے ہوئے راستوں پہ جا نکلے
یہ ہم سفر مرے کتنے گریز پا نکلے
یہ ہم سفر مرے کتنے گریز پا نکلے
چلے تھے اور کسی راستے کی دھن میں مگر
ہم اتفاق سے تیری گلی میں آ نکلے
غمِ فراق میں کچھ دیر رو ہی لینے دو
بخار کچھ تو دلِ بے قرار کا نکلے
نصحیتیں ہمیں کرتے ہیں ترکِ الفت کی
یہ خیر خواہ ہمارے کدھر سے آ نکلے
یہ خامشی تو رگ و پے میں رَچ گئی ناصرؔ
وہ نالہ کر کہ دلِ سنگ سے صدا نکلے
ناصر کاظمی
از:-کلیاتِ ناصر کاظمی ص ۳۴۵
انتخاب
سفیدپوش

