کیسے کہوں غم نہیں ہوتا؟ (عروش ملک) قسط نمبر 15 م…

قسط نمبر 15
موبائل دوبارہ بجا تو اس نے کال اٹھا لی۔ ” السلام و علیکم! کیا میں قنوشے وہاج سے بات کرسکتا ہوں؟” دوسری طرف سے گھمبیر آواز میں کہا گیا۔” یس مسز وہاج اسپیکینگ” اس نے کچھ الجھ کر جواب دیا۔” کیا میں آپ سے کچھ دیر بات کرسکتا ہوں؟”اس نے سوال پوچھا۔ "sorry میں نے آپکو ہہچانا نہیں۔” اس نےنے اچھنبے سے ہوچھا۔ ” حیرانی کی بات ہے اب آپکو بھی ہمیں پہچاننا پڑے گا۔” دوسری رف سے حیران آواز بھری۔ ” کیامطلب؟” ” مطلب یہ میڈم پہچانا انہیں جاتا ہے جنہیں آپ بھول چکے ہوں۔” اس نے جتانے والے انداز میں کہا تو اسکے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئ۔ وہ واقعی اسے پہچان گئ تھی۔یہ تو اسے پریشان کرنے کے طریقے تھے۔ ” اگر آپ نے یہاں سے وہاں کی بات کرنی ہے تو فون بند کررہہی ہوں میں؟کون ہیں آپ؟ اور کیوں تنگ کررہے ہیں آپ؟” وہ چہل قدمی کرتے ہوئے سفید کرسی پر بیٹھ گئ۔ پاوں درد کرنے لگے تھے لیکن دل کی تکلیف حد سے سوا تھی۔ ” sorry میم میں نے آپکو تنگ کرنے کے لیے کا نہیں کیا بلکہ آپکی ہیلپ کرنے کے لیے کال کی ہے۔ میں Mr.guide ہوں۔” اس نے معدب انداز میں کہا ۔ "جی Mr.guide آپکو کس نے کہا کہ مجھے ہیلپ کی ضرورت ہے۔”وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے بولی۔ ” دیکھیں میم اگر آپ اپنی تکلیف اپنے تک رکھیں گی تو بڑھ جائے گی۔لیکن اگر آپ شیئر کریں گی تو انشاء اللہ میں اسکا حل ضرور نکال لوں گا۔ آپ بھی اچھا فیل کریں گی۔” اس نے سنجیدہ انداز میں کہا تو انوشے نے تھک۔کر کرسی کی پڈت سے ٹیک لگا لی اور آنکھیں موند لیں۔ سورج غروب ہو چکا تھا آسمان پر اکا دکا ستارے رہ گئے تھے۔ ” تکلیفیں جب اپنے دیتے ہیں نا تو بڑھ جاتی ہیں۔” اس نے آنکھیان موندے کہا ” جو لوگ اپنے ہوتے ہیں نا وہ تکلیفیں نہیں دیتے۔” اس نے اسے لاجواب کیا۔ ” پھر غم۔کی شدت کیوں بڑھ جاتی ہے ہر بار جب وہ تکلیف دیتے ہیں” اس نے سوال کیا۔ ” کیونکہ آپ لوگوں سے امیدیں وابستہ کرلیتی ہیں لوگ کچھ نہیں دیتے۔آپ اس ذات سے تعلق قائم کریں جو لازوال ہے۔جو بن مانگے سب کچھ دے دیتا ہے۔وہ امیدیں نہیں توڑتا۔” اس نے سمجھایا۔ ” میں اس سے تعلق قائم نہیں کرسکتی۔ میں نے اسے ناراض کردیا ہے۔” اس نے بھری ہوئ آواز میں کہا۔ "کیسے؟” اس نے پوچھا۔ ” میں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے۔میں نے گالی کا جواب گالی سےدیا ہے۔ایسا نہیں ہوتا اللہ ناراض ہو جاتا ہے”اس نے اسے سمجھایا۔ ” ایسانہیں ہوتا اللہ اللہ ایسے ہی ناراض نہیں ہوتا۔جب انسان ظلم پر خاموش ہوتاہے تو ناراض ضرور ہوتا ہے۔ہر انسان کی برداشت کی ایک حد ہوتی ہے۔آپکی بھی ایک حد تھی۔جب انہوں نے اسے لبریز کیا تو وہ سب باہر آگیا۔جو اندر تھا۔” اس نے تردید کی۔ ” نہیں مجھے پھر بھی مرحا کا نام نہیں لینا چاہیے تھا۔اسکا اس سب میان کوئ قصور نہیں تھا۔میں نے تائ جان کو انکی بیٹی کے نصیب کا طعنہ کیوں دیا؟” وہ پچھتارہی تھی۔ ” کیا آپ نے انکا نام لیا تھا۔” وہ پوچھ رہا تھا۔” نہیں” وہ برحستہ بولی۔ ” تو آپ نے تو ایک جنرل بات کی تھی اور اس پر آپکو کوئ مجرم نہیں ٹھہرا سکتا ” اس نے سنجیدگی سے کہا۔ ” لیکن طنز و طعنہ دینے والے مجرم ہوتے ہیں۔بنی اسرائیل کے جو لوگ طنزو طعنہ دیتے تھے جانتے ہیں انکے ساتھ کیا ہوتا تھا؟ انہیں کنکر ما کر ہلاک کردیا جاتا تھا۔جبکہ ہمارے لیے طنز کرنا کتنا آسان کام ہے۔ہر گالی کا جواب گالی نہیں ہوتا۔”وہ ابھی بھی قائل نہیں ہوئ تھی۔ "بالکل صیحح ہر گالی کا جواب گالی نہیں ہوتا لیکن جب کوئ آپکی کردار کشی کرے یا حد پار کرے تو اسے جواب دینا ہوتا ہے” ” اگر وہ میری تربیت پر انگلی نہ اٹھاتے تو مین کبھی وہ باتیں نہ کرتی جو میں نے کیں۔میں اپنے کردار کشی برداشت کر سکتی ہوں لیکن اپنے بابا کی تربیت کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتی ہوں۔” اس نے رندھئ ہوئ آواز میں کہا ” جبکہ آپکواسی وقت بولنا چاہیے تھا جب انہوں نے آپ کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی تھی۔” وہ بولا ” نہیں ہر بات کا جواب نہیں دیا جاتا۔آپ جانتے ہییں ایک دفعہ ایک شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہہ رہا تھا۔آپ رضی اللہ عنہ برداڈت کررہے تھے اور ساتھ ہی آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم بھی تشرئف فرما تھے۔جو اطمنیان سے مسکرارہے تھے۔ چند لمحے صبر کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے گالی کا جواب دیا تو آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم۔وہاں سے تشریف لے گئے۔توصحابہ رضی اللہ و عنہ کو تعجب ہوا۔ آپ رضی اللہ وعنہ نے آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم سے دریافت کیا کہ "جب تک وہ شخص مجھے برا کہتا رہا تو آپ نے کوئ ردعمل نہ دیا ۔جیسے ہی میں نے جواب دیا تو آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم وہاں سے چلےگئے۔” تو آپ صلی اللہ وعلیہ وسلم نے جواب دیا کہ ” جب تک تم خاموش تھے اسکا جواب فرشتے دے رہیے تھے اور جب تم نے جواب دیا تو فرشتےوہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔” اس نے آرام سے واقعہ کا خلاصہ و مفہوم بیان کیا۔ ” اسی طرح جب تک میں خاموش تھی تب تک فرشتے جواب دے رہے تھے اور جب میں نے جواب دیا تو فرشتے
خاموش ہوگئے۔جبکہ فرشتوں کے جواب زیادہ بہتر تھے۔” اس نے قدرے توقف کے بعد کہا۔ دوسری طرف چند ثانیے خاموشی چھائ رہی۔ ” آج تک میں دوسروں کو تو گائیڈ کرتا رہا ہوں لیکن آج پہلی دفعہ کسی ایسے انسان سے بات کی ہے جس نے مجھے صیحح گائیڈ کیا ہے ” وہ چند لمحوں خاموشی کے بعد گہرا سانس لے کر بولا۔وہ مسکرادی۔ ” آئندہ جب مجھے گائیڈنس کی ضرورت ہو گی تو میں آپکو کال کروں گی۔” اس نے کہا تو وہ ہنس دیا۔ ” ضرور” اس نے مسکرا کر کہا۔ ” تھینکس اچھا لگا آپ سے بات کرکے” اس نے شکریہ ادا کیا تو وہ کھل کر مسکرا دیا۔ ” یوویلکم مائ ڈئیر! لیکن اب جلدی سے لان سے چلی جائیں باہر کافی ٹھنڈ ہے ایسا نہ ہو کہ یہ میری آپ سے آخری بات ہو۔” اس نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا تو وہ کھل کر ہنس دی۔
مرحا کو اپنی ماں کی گل فشانی کا علم بھی انہی کی زبانی ہوگیا تھا۔اور وہ بےحد پریشان تھی۔انوشے سے سامنا کرنے کی جرئات نہ تھی اور نہی عون سے۔اسکا دل چاہا کہ وہ اس دنیا سے غائب ہو جایے۔اسے اتنی ذلت محسوس ہو رہی تھی تو انوشے کو کتنی پوئ ہو گی۔اسکے سسرال میں اسکے شوہر کےسامنے مرحا کی ماں نے کیا نہیں کہا تھا وہ سوچتی تو پریشان ہو جاتی۔
اگلے روز وہاج کے حددرجہ اصرار کے باوجود وہ نہیں گئ تھی۔اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ سب کا سامنا کرسکے۔ لیکن وجاہت صاحب کے بلاوے پر وہ دل اکڑا کر ڈائننگ روم کیطرف آہی گئ۔نظریں جھکاتی وہ سب کو سلام کرتی وہاج کیساتھ والی کرسی پر بیٹھ گئ۔ ” ہمیں سب سے کوئ بات کرنی ہے اسلیے سب کو اکٹھا کیا ہے ایک ساتھ کھانے پر۔” وجاہت صاحب نے کھانا شروع ہونے کے بعد تمہید باندھی۔ ” جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ عون کے لیے مرحا کا پرپوزل زیر غور ہے تو اس میں آپ سب کی رائے لینا چاہتا ہوں۔”انہوں نے بات کا آغاز کیا اور وہ نظریں جھکائے ٹیبل کو گھورتی رہی۔وہاج نے اسکے سامنے پلیٹ رکھی اور اس میں بریانی ڈالنے لگا۔ انوشے کو شرمندگی کا سامنا ہوا لیکن سب نے ایسے ردعمل دیا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ وہ اسکی جانب جھکا۔” اب جود کھاو گی یا میں اپنے ہاتھوں سے یہ فرض انجام دوں۔”اس نے سرگوشی سے سوال کیا جس سے سب کی سماعتیں فیض یاب ہوئیں۔سب اپنی مسکراہٹ چھپا گئے۔انوشے اسکی کلاس لینے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے چمچ اٹھا کر اس میں بریانی بھرنے لگی۔ابھی اسکے منہ تک ہی گیا تھا کہ وجاہت صاحب بول پڑے۔ ” آپکا کیا خیال ہے انوشے؟” وہ اب اس سے پوچھ رہے تھے۔ اسنے چمچ واپس پلیٹ میں رکھ دیا۔ ” مرحا بہت اچھی لڑکی ہے۔عون کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ تھوڑی careless ہے لیکن دل کی اچھی اور سچی لڑکی ہے۔اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔” اور اسکی فیملی؟” انہوں نے دانستہ اسکی ماں نہیں کہا تھا وہاں بیٹھے سب نے نوٹس کیا تھا۔ "وہ بھی اچھی ہے۔اگر آپ تائ جان کے رویے سے پریشان ہیں تو زیادہ مت ہوں انہیں طس مجھ سے تھوڑیproblemہے اور کچھ نہیں۔لیکن مرحا میں انکی فطرت کا %5۔0 بھی شامل نہیں ہے۔ ” اور یہ میں ہرگز اسلیے نہیں کہہ رہی ہوں کہ وہ میری کزن ہے۔وہ میری بہن ہے تو عوان میرا بھائ۔میں اسکی برائ نہیں چاہوں گی۔میں مرحا کو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔”اس نے مسکراتے ہوئے وجاہت صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ جبکہ باقی سب تو اسکی اعلی ظرفی پر حیران تھے۔ وہ سب انوشے کی صبر،تحمل اور شفقت سے آگاہ تھے۔لیکن اعلی ظرفی سے اب آگاہ ہوئے تھے۔”ٹھیک ہے پھر رشتہ کرنے میں دیر نہیں کریں۔نیلوفر بیگم آپ آج ہی انہیں بتادیں۔ کہ انکی بیٹی ہماری امانت ہے جبکہ میز پہ موجود تمام نفوس خوشی سے نہال ہوگئے تھے۔ ” اور وہ کل جو اپنے بیٹے سے تمہارے رشتےکے حوالے سے بات کررہی تھیں؟” نیلوفر بیگم نے براہ راست انوشے کو مخاطب کیا۔ اسکی مسکراہٹ پل میں غائب ہوگئ سر واپس جھک گیا تھا۔سب کی مسکراہٹ پل میں ہی روٹھ گئ تھی۔ ” وہ سچ تھا” اس نے جھکے سر سے کہا۔ ” یعنی جو اسکے بعد کہا وہ سب بھی۔۔۔۔۔۔”انہوں نے حیرانی کا اظہار کیا۔”نہیں وہ سب نہیں” انوشے نے پریشانی سے سر اٹھایا۔ ” تو تم نے ہم سب پہلے یہ سب کیوں چھپایا؟” وہ برہم ہوئیں۔ وہ خاموش تھی۔ ” مجھے سب پتہ تھا ۔میرے نزدیک یہ کوئ اتنی اہم بات نہیں تھی۔منگنی تھی ٹوٹ گی۔” وہاج نے نارمل انداز میں کہا تو انوشے حیران ہوئ۔ اسے بھلا کب سب معلوم تھا۔۔۔۔۔۔ وجاہت صاحب دھیما سا مسکرائے۔ ” تم جھوٹ مت بولو۔” انہوں نے اسکا جھوٹ پکڑ لیا۔ "کم آن ممی میں جھوٹ کیوں بولوں گا یہ سچ ہے۔چھوڑیں یہ سب باتیں اور ناشتہ کریں۔”اس نے انکی طرف جوس کا گلاس تھمایا تو وہ خاموش ہو گئیں۔ کچھ دیر میں سب اٹھ کر چلے گئے۔صرف وہاج اور انوشے کھانے کی میز پر رہ گئے تھے۔انوشے اسی پوزیشن میں بیٹھی تھی۔ اسے محسوس ہوا کہ وہ رورہی پے۔وہ واقعی رو رہی تھی۔ "یااللہ یہ تم لڑکیاں آنکھیں بھر بھر آنسو کہاں سےلاتی ہو؟” اس نے سر پر یاتھ مارتے ہوئے کہا۔ ” کیاں ہیں آنسو؟” اس نے دوسری طرف رخ موڑ کر آنسو صاف کیے تو وہ مسکرا دیا۔ "پہلے تھے اب صاف کردیے
تم نے ۔” اس نے مزے سے کہا۔ ” پہلے بھی نہیں تھے۔” تمہاری آنکھیں خراب ہیں۔” اس نے چڑ کر کہا۔ اس نے ایک چمچ اسکے منہ کے قریب کیا وہ حیرانی سے اسےدیکھنے لگی۔ "تم منہ کھول کو یار اتنا ٹائم رونے مین تو نہیں لگاتی جتنا منہ کھولنے میں لگا رہی پو۔” اس نے تنگ آکر کہا۔ اس نے کچھ کہنے کےلیے لب وا کیے۔لیکن اس نے پھرتی سے وہ بریانی بھرا چمچ اسکے منہ میں بھر دیا۔اس نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا۔ ” اچھا سنو! مجھے آدس جانا ہے یہ بریانی ختم کرلینا۔میں لیٹ ہو رہا ہوں ورنہ میں خود تمہیں اپنے ہاتھوں سے کچھ کھلاتا۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ اس نے اسے گلاس اٹھا کر اسے مارنے کی غرض سے ہوا میں لہرایا لیکن وہ مہارت سے دروازے کی اوٹ میں ہو گیا۔ ” گلاس مت مارنا ۔ورنہ میرا سر پھٹے نہ پھٹے گلاس ضرور شہید ہو جائے گا۔” دروازے کے پیچھے سے اسکی آواز ابھری تو اس نے گلاس کو ایک نظر دیکھ کر واپس اسکی جگہ پر رکھ دیا۔وہ مسکراتا ہوا باہر چلا گیا۔جبکہ وہ بریانی کی پلیٹ کو کچھ دیر گھورتی رہی پھر کھانا شروع کردیا۔اسے عجیب سا ذائقی منہ میں گھلتا محسوس ہوا۔
اگلے دنوں میں مرحا اور عون کی شاپنگ شروع ہو گئ تھی۔سب نے ایک ساتھ شاپنگ کرنے کا پلان بنایا۔وہاج نے انوشے،ھبہ اور اسد کو انکے گھر سے لیا۔اور شاپنگ مال کی طرف چل دیا۔جبکہ مائرہ اور اسد کو لانے کی ذمہ داری عون کی تھی۔وہاج وغیرہ مال کی پارکنگ لاٹ میں انکا ان کا انتظار کررے تھے۔انکے ساتھ ہی عون نے گاڑی پارک کی تھی۔اسد اور ھبہ سلام کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ ” لڑکوں سے ہاتھ نہیں ملاتے مائرہ یہ پاکستان ہے یو کے نہیں۔” وہاج نے آگے بڑھتے ہوئے مائرہ کے کان میسن سرگوشی کی تھی جو انوشے نے سن لی تھی۔ اس نے ایک چپت اپنے ساتھ چلنے والے اسد کو لگائ تھی۔ "کیا یار آپی؟”اس نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہویے کہا۔” لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملاتے۔” اس نے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔” میں نے کونسی لڑکی سے ہاتھ ملایا ہے؟” وہ حیران ہوا۔” مائرہ کا شمار بھی لڑکیوں میں ہی ہوتا ہے۔میرا خیال ہے۔” اس نے گھور کر کہا ۔” اوہ وہ تو بڑی ہییں مجھ سے” اس نے چڑ کر کہا۔ ” اس سے اسکی لڑکی ہونے پر کوئ شبہ نہیں ہوتا نا”اس نے طنز کیا۔اسد نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ہم صرف لڑکیوں کی تربیت میں رہتے ہیں۔اور لڑکوں کی تربیت کو فراموش کردیتے ہیں۔جبکہ سب سے زیادہ انہیں ہی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم یہ کہہ کر لڑکوں کی خامیوان لر پردہ ڈال۔دیتے ہیں۔کہ وہ لڑکا ہے۔لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ غلط لڑکے ایسے نہیں ہوتے تربیت کی کمی ہی انہیں اہسا بنادیتی ہے۔جیسا انہیں بننا نہیں تھا۔ہم جب تک اپنی خامیاں پوائنٹ آوٹ نہیں کریں گےانکی درستی نہیں ہو گی۔تو معاشرے کا بگاڑ بھی ختم نہیں ہوگا۔وہ لوگ آگے بڑھ کر ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے۔عون ،مرحا اور مائرہ ساتھ تھے۔جبکہ وہ چاروں ساتھ تھے۔ ” تم اپنی شاپنگ نہیں کررہی۔” وہاج نے انوشے سے پوچھا۔جو اسد اور ھبہ لے لیے شاپنگ کررہی تھی۔ "نہیں ابھی تو بہت کپڑے ہیں میرے پاس وہی پہن لوں گی۔”اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔”آپی آپ شادی کے بعد بھی نہیں بدلیں۔ویسےہی کنجوس ہیں۔” اسد نے پیچھے سے آکر اچانک سے کہا تو وہ دونوں چونکے۔انوشے نے خفگی سےاسے گھورا ۔ ” کنجوسی نہیں کررہی ہوں میں۔۔۔۔۔۔”اسد نے درمیان میں اسکی بات کاٹی "میانہ روی کررہی ہوں میں۔” وہ ہمیشہ سے ایسے ہی کہتی تھی انوشے نے اسے مارنے کےلیے ہاتھ اٹھایا تو وہ وہاج کے پیچھے چھپ گیا۔جو اپنی مسکراہٹ چھپانے کی سعی کررہا تھا
جبکہ انوشے نے رخ موڑ لیا۔ یہ ناراضی کا اظہار تھا۔ "میری آپئ آپکو کنجوسی کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ وہاج بھائ ہیں نا آپکو اب لینے کےلیے۔کونسا اب آپکے اپنے پیسے لگ رہے ہیں ” ھبہ نے اسد کے کندھےپر ہاتھ مارا تو وہ کراہا۔ ” تم دونوں بہت بولنے لگے ہو۔شاپنگ کرنی ہے تو کرو ورنہ گھر واپس چلو۔”انوشے نے سنخیدگی سے کہا تو وہ دونوں اپنی اپنی شاپنگ میں مصروف ہوگئے۔انوشے بھی ڈریسز دیکھ رہی تھی لیکن وہ پراےس ٹیگ دیکھ کر چھوڑ رہی تھی۔” اگر تمہیں کوئ ڈریسز پسند آرہے ہیں تو دیکھ لو۔” وہاج نے جھک سے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی۔ "میں صرف دیکھ رہی ہوں۔فکر مت کرو پسند آئے گا ےتو لے لوں گی۔کنجوسی نہیں کروں گی۔”اس نے تسلی دی تو وہ مسکرایا۔ھبہ باہر اکیلی کھڑی تھی۔وہاج اور انوشے کو ان دونوں نے جان بوجھ کر پرائیویسی دی تھی۔اور اب اسد خود کہیں چلا گیا تھا۔اسکے دوست کی کال آئ تھی۔ھبہ بے زار کھڑی ادھرادھر دیکھ رہی تھی۔اچانک ایک آدمی اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔اس نے دیکھے بغیر سائیڈ پر ہونے کی کوشش کی۔”ایکسکیوز می۔۔۔اس نے اسے پکارا تو ھبہ نے سر اٹھا کراسے دیکھا۔ وہ 25-30 سال کا لگتا تھا۔سنہری آنکھیں اور کلین شیو چہرے کو نکھاررہی تھی۔ نیوی بلیو تھری پیس سوٹ اسکی شخصیت کو مزید دلکش بنا رہا تھا۔وہ مسکراہٹ ہونٹوں پر جمائے ھبہ سے مخاطب تھا۔وہ واقعی ایسی شخصیت کا حامل تھا کہ مقابل دمبخود رہ جاتا۔ نجانے کتنی لڑکیوں نے اسے مڑ مڑ کر دیکھا تھا۔ ” کیا آپ مجھے edenrobe کی direction بتاسکتی ہیں؟”سنہری آنکھیں چمکیں گلابی ہونٹ وا ہوے۔ کراچی کی روشنیاں ان دونوں کی آنکھوں میں سما گئیں۔ خوبصورت کلون کی مہک چارسو
پھیلی تھی۔ ھبہ مبہوت کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ اس نے اپنا سوال دہرایا وہ چونکی۔ ” تین دوکانیں چھوڑ کر اگلی edenrobe کی ہے۔اس نے انگریزی میں بتایا۔ھبہ کا طلسم ٹوٹا ہوا تھا۔اس نے اردگرد دیکھنا شروع کیا۔وہ دو آنکھیں بلاشبہ مسحور کرنا جانتی تھیں۔ ” تھینکس ویسے میرا نام زبیر آفندی ہے”۔اس نے مصافحہ کرنے کےلیے ہاتھ بڑھایا۔ ” آپ نے ہاییر سٹڈیز کہاں سے کی ہیں؟ ” ھبہ نے ہاتھ کو نظرانداز کرتے ہوئےسینے پر بازو لپیٹے۔ اس نے ہاتھ ہٹایا۔ "لندن سے آکسفورڈ یونیورسٹی سے۔”اس نے تفاخر سے بتایا۔ "آپکی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ لندن نہیں ہے اور پاکستان میں لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملایا جاتا۔یہاں کے طوراطورار سیکھ لیں تو بہتر ہو گا۔” اس نے دوٹوک لہجے میں کہا۔ اسنے کچھ کہنے کےلیے لب واہی کیے تھے کہ اسد موبائل جیب میں رکھتے ان دونوں کے پاس آگیا۔ "جی بھائ صاحب کیا چاہیے آپکو؟” اس نے سنخیدگی سے کہا۔””وہ میں edenrobe کی ڈائریکشن پوچھ رہا تھا۔” اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا۔اس نے ہاتھ7 کو نظراندالےنز کرلتے ہہوئے اطراف مین نظریں بئشے
۔ ” آپکو یہاںگب کتنے لوگ نظر آرہے ہیں؟ اول تو آپکآس لیخود ہی گھوم کر ڈھونڈ لینی چاہیے تھی۔دوم یہ کہ اگر پوچھنا ہی تھا تو کسی مرد سے پوچھ لیتے۔یا edeنnrگجobeکی مسے پوچھ لیتے تو میں آپکو فون پر بات کرتے دوھپان ہی بتادیتا۔” اسد کے ٹو پر اب سخت تاثرات تھہے۔ ” آئ ایم سوری آپکو برا لگا میں تو بس۔۔۔جبکہ ۔”اسد نے درشتی سے اسکی بات کاٹ دی۔ ” ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر بعد میں شرمندگی ہو۔خیراب آپ نے پو چھ ہی لیا ہے تو آپ جا سکتے ہیں۔کیونکہ شریف لوگ ایسے راہ چلتے کسی سے منہ اٹھا کر بات نہیں کرتے۔” اسکے سختی سے کہنے پر وہ ایک ظر دونوں پر ڈال کر چلا گیا۔ "کون تھا یہ؟” وہ اب اس سے بازپرسی کررہا تھا۔ "مجھے کیا پتہ تھا کہ کون ہے یہ” اس نے گڑ بڑا کر جوابدیا۔ ” کیا کہہ رہا تھا؟” "پتہ نہیں میں فضول لوگوں کی باتیں نہیں سنتی۔” "تم کہاں دفعہ ہو گئے تھے”وہ الٹا اس پر الٹ پڑی۔ "کیا یار ایک کال کرنے گیا تھا۔مجھے کیا پتہ تھا کہ یہاں بھی گل کے کئ مہذب شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ "اس نے سر کھجاتے ہوئے کہا تو وہ بس گھور کررہ گئ۔اسی لمحے وہاج اور انوشے ساتھ آئے تو وہ ساتھ ہی چلنے لگے۔
اگلے دنوں میں مرحا اور عون کی شاپنگ شروع ہو گئ تھی۔سب نے ایک ساتھ شاپنگ کرنے کا پلان بنایا۔وہاج نے انوشے،ھبہ اور اسد کو انکے گھر سے لیا۔اور شاپنگ مال کی طرف چل دیا۔جبکہ مائرہ اور اسد کو لانے کی ذمہ داری عون کی تھی۔وہاج وغیرہ مال کی پارکنگ لاٹ میں انکا ان کا انتظار کررے تھے۔انکے ساتھ ہی عون نے گاڑی پارک کی تھی۔اسد اور ھبہ سلام کرنے کے لیے آگے بڑھے۔ ” لڑکوں سے ہاتھ نہیں ملاتے مائرہ یہ پاکستان ہے یو کے نہیں۔” وہاج نے آگے بڑھتے ہوئے مائرہ کے کان میسن سرگوشی کی تھی جو انوشے نے سن لی تھی۔ اس نے ایک چپت اپنے ساتھ چلنے والے اسد کو لگائ تھی۔ "کیا یار آپی؟”اس نے سر پر ہاتھ پھیرتے ہویے کہا۔” لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملاتے۔” اس نے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔” میں نے کونسی لڑکی سے ہاتھ ملایا ہے؟” وہ حیران ہوا۔” مائرہ کا شمار بھی لڑکیوں میں ہی ہوتا ہے۔میرا خیال ہے۔” اس نے گھور کر کہا ۔” اوہ وہ تو بڑی ہییں مجھ سے” اس نے چڑ کر کہا۔ ” اس سے اسکی لڑکی ہونے پر کوئ شبہ نہیں ہوتا نا”اس نے طنز کیا۔اسد نے اثبات میں سر ہلادیا۔ ہم صرف لڑکیوں کی تربیت میں رہتے ہیں۔اور لڑکوں کی تربیت کو فراموش کردیتے ہیں۔جبکہ سب سے زیادہ انہیں ہی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم یہ کہہ کر لڑکوں کی خامیوان لر پردہ ڈال۔دیتے ہیں۔کہ وہ لڑکا ہے۔لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ غلط لڑکے ایسے نہیں ہوتے تربیت کی کمی ہی انہیں اہسا بنادیتی ہے۔جیسا انہیں بننا نہیں تھا۔ہم جب تک اپنی خامیاں پوائنٹ آوٹ نہیں کریں گےانکی درستی نہیں ہو گی۔تو معاشرے کا بگاڑ بھی ختم نہیں ہوگا۔وہ لوگ آگے بڑھ کر ٹولیوں میں تقسیم ہوگئے۔عون ،مرحا اور مائرہ ساتھ تھے۔جبکہ وہ چاروں ساتھ تھے۔ ” تم اپنی شاپنگ نہیں کررہی۔” وہاج نے انوشے سے پوچھا۔جو اسد اور ھبہ لے لیے شاپنگ کررہی تھی۔ "نہیں ابھی تو بہت کپڑے ہیں میرے پاس وہی پہن لوں گی۔”اس نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔”آپی آپ شادی کے بعد بھی نہیں بدلیں۔ویسےہی کنجوس ہیں۔” اسد نے پیچھے سے آکر اچانک سے کہا تو وہ دونوں چونکے۔انوشے نے خفگی سےاسے گھورا ۔ ” کنجوسی نہیں کررہی ہوں میں۔۔۔۔۔۔”اسد نے درمیان میں اسکی بات کاٹی "میانہ روی کررہی ہوں میں۔” وہ ہمیشہ سے ایسے ہی کہتی تھی انوشے نے اسے مارنے کےلیے ہاتھ اٹھایا تو وہ وہاج کے پیچھے چھپ گیا۔جو اپنی مسکراہٹ چھپانے کی سعی کررہا تھا
جبکہ انوشے نے رخ موڑ لیا۔ یہ ناراضی کا اظہار تھا۔ "میری آپئ آپکو کنجوسی کرنے کی کیا ضرورت ہے جبکہ وہاج بھائ ہیں نا آپکو اب لینے کےلیے۔کونسا اب آپکے اپنے پیسے لگ رہے ہیں ” ھبہ نے اسد کے کندھےپر ہاتھ مارا تو وہ کراہا۔ ” تم دونوں بہت بولنے لگے ہو۔شاپنگ کرنی ہے تو کرو ورنہ گھر واپس چلو۔”انوشے نے سنخیدگی سے کہا تو وہ دونوں اپنی اپنی شاپنگ میں مصروف ہوگئے۔انوشے بھی ڈریسز دیکھ رہی تھی لیکن وہ پراےس ٹیگ دیکھ کر چھوڑ رہی تھی۔” اگر تمہیں کوئ ڈریسز پسند آرہے ہیں تو دیکھ لو۔” وہاج نے جھک سے اسکے کان میں سرگوشی کی تھی۔ "میں صرف دیکھ رہی ہوں۔فکر مت کرو پسند آئے گا ےتو لے لوں گی۔کنجوسی نہیں کروں گی۔”اس نے تسلی دی تو وہ مسکرایا۔ھبہ باہر اکیلی کھڑی تھی۔وہاج اور انوشے کو ان دونوں نے جان بوجھ کر پرائیویسی دی تھی۔اور اب اسد خود کہیں چلا گیا تھا۔اسکے دوست کی کال آئ تھی۔ھبہ بے زار کھڑی ادھرادھر دیکھ رہی تھی۔اچانک ایک آدمی اس کے سامنے آکر کھڑا ہو گیا۔اس نے دیکھے بغیر سائیڈ پر ہونے کی کوشش کی۔”ایکسکیوز می۔۔۔اس نے اسے پکارا تو ھبہ نے سر اٹھا کراسے دیکھا۔ وہ 25-30 سال کا لگتا تھا۔سنہری آنکھیں اور کلین شیو چہرے کو نکھاررہی تھی۔ نیوی بلیو تھری پیس سوٹ اسکی شخصیت کو مزید دلکش بنا رہا تھا۔وہ مسکراہٹ ہونٹوں پر جمائے ھبہ سے مخاطب تھا۔وہ واقعی ایسی شخصیت کا حامل تھا کہ مقابل دمبخود رہ جاتا۔ نجانے کتنی لڑکیوں نے اسے مڑ مڑ کر دیکھا تھا۔ ” کیا آپ مجھے edenrobe کی direction بتاسکتی ہیں؟”سنہری آنکھیں چمکیں گلابی ہونٹ وا ہوے۔ کراچی کی روشنیاں ان دونوں کی آنکھوں میں سما گئیں۔ خوبصورت کلون کی مہک چارسو
پھیلی تھی۔ ھبہ مبہوت کھڑی اسے دیکھتی رہی۔ اس نے اپنا سوال دہرایا وہ چونکی۔ ” تین دوکانیں چھوڑ کر اگلی edenrobe کی ہے۔اس نے انگریزی میں بتایا۔ھبہ کا طلسم ٹوٹا ہوا تھا۔اس نے اردگرد دیکھنا شروع کیا۔وہ دو آنکھیں بلاشبہ مسحور کرنا جانتی تھیں۔ ” تھینکس ویسے میرا نام زبیر آفندی ہے”۔اس نے مصافحہ کرنے کےلیے ہاتھ بڑھایا۔ ” آپ نے ہاییر سٹڈیز کہاں سے کی ہیں؟ ” ھبہ نے ہاتھ کو نظرانداز کرتے ہوئےسینے پر بازو لپیٹے۔ اس نے ہاتھ ہٹایا۔ "لندن سے آکسفورڈ یونیورسٹی سے۔”اس نے تفاخر سے بتایا۔ "آپکی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ لندن نہیں ہے اور پاکستان میں لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملایا جاتا۔یہاں کے طوراطورار سیکھ لیں تو بہتر ہو گا۔” اس نے دوٹوک لہجے میں کہا۔ اسنے کچھ کہنے کےلیے لب واہی کیے تھے کہ اسد موبائل جیب میں رکھتے ان دونوں کے پاس آگیا۔ "جی بھائ صاحب کیا چاہیے آپکو؟” اس نے سنخیدگی سے کہا۔””وہ میں edenrobe کی ڈائریکشن پوچھ رہا تھا۔” اس نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا۔اس نے ہاتھ7 کو نظراندالےنز کرلتے ہہوئے اطراف مین نظریں بئشے
۔ ” آپکو یہاںگب کتنے لوگ نظر آرہے ہیں؟ اول تو آپکآس لیخود ہی گھوم کر ڈھونڈ لینی چاہیے تھی۔دوم یہ کہ اگر پوچھنا ہی تھا تو کسی مرد سے پوچھ لیتے۔یا edeنnrگجobeکی مسے پوچھ لیتے تو میں آپکو فون پر بات کرتے دوھپان ہی بتادیتا۔” اسد کے ٹو پر اب سخت تاثرات تھہے۔ ” آئ ایم سوری آپکو برا لگا میں تو بس۔۔۔جبکہ ۔”اسد نے درشتی سے اسکی بات کاٹ دی۔ ” ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس پر بعد میں شرمندگی ہو۔خیراب آپ نے پو چھ ہی لیا ہے تو آپ جا سکتے ہیں۔کیونکہ شریف لوگ ایسے راہ چلتے کسی سے منہ اٹھا کر بات نہیں کرتے۔” اسکے سختی سے کہنے پر وہ ایک ظر دونوں پر ڈال کر چلا گیا۔ "کون تھا یہ؟” وہ اب اس سے بازپرسی کررہا تھا۔ "مجھے کیا پتہ تھا کہ کون ہے یہ” اس نے گڑ بڑا کر جوابدیا۔ ” کیا کہہ رہا تھا؟” "پتہ نہیں میں فضول لوگوں کی باتیں نہیں سنتی۔” "تم کہاں دفعہ ہو گئے تھے”وہ الٹا اس پر الٹ پڑی۔ "کیا یار ایک کال کرنے گیا تھا۔مجھے کیا پتہ تھا کہ یہاں بھی گل کے کئ مہذب شکل میں موجود ہوتے ہیں۔ "اس نے سر کھجاتے ہوئے کہا تو وہ بس گھور کررہ گئ۔اسی لمحے وہاج اور انوشے ساتھ آئے تو وہ ساتھ ہی چلنے لگے۔
گھر میں عون اور مرحا کی شادی کی تیاری زوروشور سے جاری تھیں۔ کئ دنوں بعد مائرہ آور انوشے کو فراغت کے لمحات نصیب ہویے تھے۔لہزا اب وہ دونوںساتھ ہی لاونج میں موجود تھیں۔ "تو پھر مائرہ تم نے کوشش کی؟” انوشے اس سے معلوم۔کررہی تھی۔”میں نہیں کرسکتی یہ مشکل ہے میں نے کوشش کی تھی۔” اس نے بے بسی سے کہا۔ ” کیوں نہیں ہوسکا؟”وہ پرسکون انداز میں پوچھ رہی تھی۔ ” پتہ نہیں کیوں؟ لیکن اب نہیں ہو گا میں جانتی ہوں۔ میں نہ تو نماز باقاعدگی سے پڑھتی ہوں اور نہ گناہ چھوڑنے کی کوششیں کامیاب ہوتی ہوں۔جبکہ میں نے کتنی کوشش کی۔” وہ سکت دل گرفتی سے کہہ رہی تھی۔ ” کوشش کرتی رہو۔”اس نے نفی میں سر ہلایا۔تواس نے گہری سانس لی۔ "جانتی ہو سورت حدید میں اللہ تعالی کیا فرماتا ہے۔اللہ تعالی سورت حدید میں ایک منظر بیان کیا ہے۔جس میں کچھ ایسے لوگوں کا حال۔بتاتا ہے جو جنت کی طرف روانہ تھے۔اچانک انکے آگے ایک دیوار آگرتی ہے۔مومنین دیوار کی دوسری طرف ہوتے ہیں۔جبکہ کچھ لوگ دیوار میں پھنس جاتے ہیں۔اور آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں وہ مومنین کو پکار تے ہیں اور کہتے ہیں۔کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ ہم تو تم کوگوں کیساتھ تھے۔جس سے وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ تم لوگ ہمارے ساتھ تھے۔مگر ایسا اس لیے ہوا کہ تم لوگ فتنے میں مبتلا تھے۔ تم کہتے تھے کہ میں خود کو بدل۔لوں گا۔حرام چھوڑ دوں گا۔مگر تم ایسا نہیں کرتے تھے تم ملتوی کیے جاتے تھے۔ کہ کل کروں گا۔۔اس کام۔کے بعد کروں گا۔لیکن تم نہیں کرتے تھے۔تم۔نیک لوگوں کے درمیان تو تھے۔لیکن تم دین اسلام کو سیرئیس نہیں لیتے تھے۔تم ضروری احکام کو اگنور کردیتے تھے۔اسے ملتوی کرتے جاتے تھے۔لگتا تھا کہ جو تھوڑی بہت عبادت اور دعا تم کرتے تھے اسکے بدلے تمہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ تمہیں تمہاری سوچ نے گمراہ کیا۔یعنی کہ اللہ کا حکم آگیا۔تمہیں تو پکا یقین تھا کہ تمہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔مگر آج دیکھو کہ کیا ہو گیا ہے؟” وہ سانس لینے کورکی۔ ” ہم وہ لوگ کیسے نہیں کہ جنہیں سوچ گمراہ نہ کرے؟ہمیں کیسے معلوم۔ہوگا کہ ہم سب سیدھی راہ پر ہیں؟ ہمیں کیسے پتہ لگے گا کہ ہم دیوار کے پیچھے ہوں گے یا آگے؟۔کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہماری قبولیت کے قابل توبہ ہے بھی کہ نہیں” وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنی محو تھیں کہ انہیں وہاں وہاج کے آنے کا علم ہی نہ ہوسکا۔علماء کا کہنا ہے کہ توبہ کے متعلق ہر شے سورت زمر میں بیان کردی گئ ہے۔ میں چند آیت تمہارے سامنے رکھوں گی جو ہر کسی کے لیے امید کا ذریعہ ہئں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں۔
” (اے پیغمبر میرے طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔”
"کہو ان سے کہ جنہوان نے اپنی جان پر زیادتی کی ہے”
عربی میں اسراف حد پار کرنے کو کہتے ہیں حد پار کرنا یعنی اپنے آپ پر زیادتی کرنا۔
یعنی ایسا کام جو نہیں کرنا چاہیے تھا کسی بھی طرح کا کام۔یہاں پر اللہ اسراف کی جگہ گناہ بھی کہہ سکتے تھے ہیں نا؟ مگر اسراف کہا گیا ہے۔اسراف تب ہوتا ہے جب انسان اپنے فائدے کےلیے کوئ کام کرتا ہے۔ آیت میں بتایا جاریا ہے کہ اپنا کر تم لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہو۔تمہیں لگ رہا ہے کہ اس سے تم اپنا فائدہ وصول کرتے ہو۔لیکن اس سے تمہیں نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔ مثلا حرام کمائ لے لو۔انسان سمجھتا ہے کہ حرام کما کر رہ پیسے بنارہا ہے۔امیر ہو رہا ہے۔وہ امیر ہونے کےلیے پیسے حرام میں کماتا ہے۔لیکن بتاو وہ کیا کررہا ہوتا ہے۔ وہ رزق حلال کا انتخاب نقصان سمجھ کر نہین کرتا۔جبکہ حرام ہی نقصان پہنچاتا ہے اسے۔اس سے ذہنی کوفت میں مبتلا رہتا ہے۔سکون قلب کو ترستا ہے۔راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔اگر بچے ہوں تو وہ نافرمان بن جاتے ہیں۔اسکے لیے بڑی آزمائش بم جاتے ہییں۔
اگر ہم اس بات کا اقرار کر لیتے ہیں کہ ہم نے حد پار کی تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔” ہم اس سے کیا سیکھتے ہیں۔گناہ برے اعمال ہمیں پریشان کردیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گااور اس سوچ کے باعث ہم استغفار کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ جسطرح کے کام میں ہم مبتلا ہیں اسکے بعد معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہم۔سوچتے ہیں کہ ہم گناہ سے نکل ہی نہیں سکتے تو پھر معافی کیسے مانگیں؟ اللہ تعالی فرماتاہے "میری رحمت سے مایوس مت ہو” اللہ نے تم سے محبت کرنا تم پہ رحم کرنا نہیں چھوڑا ہے۔اللہ ہمیں سزا نہیں دینا چاہتا ہہ ہماری وجہ سے ہمیں لگتا ہے کہ اللہ بس ہمیں سزا دینا چاہتا ہے۔ خاص طور پر تم یہ بات بہت سوچتی ہو۔” اس نے اسے کہا تو وہ شرمندگی سے مسکرا دی ۔اور پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوئ کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ "اللہ تعالی نے ہم سب کےلیے ہر ایک کےلیے جنت میں گھر بنا کر رکھا پے۔ وہ گھر ہمارا منتظر ہے۔ہمارا خاندان وہاں ہہ ہمارا منتظر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمین جنت کی گارنٹی دیے رکھی ہے۔ بس ہم میں سے کچھ کوگ وہاں جانا نہیں جاہتے۔اسلیے وہاں یہ اتنے گھر خالی تہ جائیں گے۔ کیونکہ کچھ کوگ وہاں جانا ہی نہیں چاہتے وہ امید کھو دیتے ہیں۔اور وہ خالی گھر وراثت میں دے دیے جائیں گے۔” ا نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے پوچھا۔ ” کچھ سمجھی” تو اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔ انوشے نے گردن گھما کر دیکھا تو سامنے ہی وہاج نظر آرہا تھا۔وہ اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئ۔تو وہ بھی سر جھٹکتا مائرہ کیساتھ صوفے پر بیٹھ گیا..
اگلے چند دن نہایت ہی مصروف گزرے۔مرحا وغیرہ کیساتھ شاپنگ کرنے اور جاب سے اسے گرصت ہی نصیب نہیں ہوئ۔بلآخر مرحا اور عون کی شادی کا دن آن پہنچا۔ انوشے ڈریسنگ ٹیبل۔کےسامنے کھڑی بال بنا رہی تھی جب وہاج کمرے میں داخل۔ہوا۔اس نے نظر اٹھا کر دیکھا جو اپنی آستین موڑے کمرے میں داخل ہورہا تھا۔ اسے سامنے دیکھ کر رک گیا۔وہ آج وائٹ شلوار قمیض میں بے حد سنجیدہ لگ رہا تھا۔ کلین شیو اس نے آج صبح ہی کی تھی۔پاوں میں کھسا پہنے وہ اسکے دل۔کے تار چھیڑ گیا تھا۔ وہ یک ٹک اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔اسکے بال پیچھے کی جانب سلیقے سے سیٹ کیے گئے تھے۔اسکی بھوری آنکھوں کی چمک اسکو خیرا کررہی تھی۔اسکے گلابی ہونٹوں پر چمکنے والی مسکراہٹ نے اسکا ارتکاز توڑا وہ آگے بڑھا اور اسکے پیچھے آئینے میں کھڑا ہوگیا۔انوشے انگوری رنگ کے ڈریس میںملبوس تھی جو مرحا نے ضد کر کے لیا تھا۔اور وہ اسے نہ پہنتی یہ ممکن ہی نہیں تھا۔گلے پر بھاری کام تھا اور گھیرے پر سفید نگوں کا کام۔بےحد خوبصورت لگ رہا تھا۔ وہاج نے بغور اسکے ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک دیکھی۔ وہ عام۔دنوں میں بھی وہی رنگ یوز کرتی تھی شاید اسے تیز رنگ پسند نہیں تھے۔ آنکھوں پر لائنر اور مسکارا اسکی ہرنی جیسئ آنکھوں کو مزین کررہے تھے۔ گالوں لر ہلکا سا بلش آن اور یارتھوں میں ڈھیر سارئ جوڑیاں جس سے وہ اب کانوں میں جھمکے ڈال رہی تھی۔اسکی موجودگی کی وجہ سے کمبخت ہاتھ بھی لرز رہے تھے۔ ” کیا مسئلہ ہے کیا چاہیے؟” وہ بلآخر زچ ہو کر بولی تو وہ مسکراتے ہوئے جھک کر ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی گھڑی اٹھانے لگا۔ اور ہھر اسکو اٹھاتے بیڈ لر بیٹھ گیا۔اسکا جو خیال تھا کہ وہ گھڑی اٹھا کر چلا جایے گا اسے بیٹھتا دیکھ کر اسے مزید غصہ آیا۔” کیا چاہیے اب؟” اس نے چڑ کر بولا۔” خوبصورت بیوی۔”وہ برخستہ بولا۔پہلے تو وہ کتنی دیر حیرانی میں کھڑی رہی پھر طنزیہ بولی۔ "تو جاو لے آو۔تیسری خوبصورت بیوی تمہیں تو ویسے بھی شادیوں کا شوق ہے۔” اس کے طنز کو اس نے شہد کا گھونٹ سمجھ کر پیا تھا۔ ” سوچ کو باہر اتنی خوبصورت لڑکیاں آئ ہوی ہیں۔ موقع بھی ہے دستور بھی۔کہیں واقعی کوئ ایک اڑا نہ لوں۔” اسنے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔ "ارت دیر کس بات کی ہے۔آو نا ساتھ چلتے ہیں۔جس لڑکی پہ ہاتھ رکھو گے اس سے نکاح پڑھوا دوں گی۔آج تو نکاح خواں بھی آرہے ہیں۔مسئلہ ہی کوئ نہیں ہے۔” وہ ڈریسنگ ٹیبل سے ہٹ کر اسکے سامنے کھڑی اطمنیان سے کہہ رہی تھی۔ ” استغفراللہ کیسے دن آگئے ہیں۔بیوی ہی شوہر کی شادی کے لیے اتنی بے تاب ہورہی ہے۔ قیامت کی نشانی ہے۔”اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ ” ہاں اور دوسری بیوی کے سامنے تیسری بیوی کی بات کرنا بھی قیامت کی نشانی نہیں ہے۔” اس نے طنز کا تیر پھینکا اور خود اپنے مخملی پاوں میں جوتا پہننے لگی۔ "تم جیلس ہو رہی ہو؟” اس نے مزے سے کہا۔”کس سے تمہاری تصوراتی تیسری بیوی سے؟” اس نے مزاق اڑانے والے انداز میں کہا۔ ” ارے تصوارتی کیوں لیزا ہے نا مما کی پسندیدہ لڑکی بھی ہے۔اور خوبصورت بھی پے۔” اس نے اسی انداز میں کہا لیکن انوشے کے پاوں لو سست ہوتے ہاتھ اسے خاموش ہونے پر مجبور کرگئے۔اسے یکلخت احساس ہوا تھا کہ اس سے سنگین غلطی ہوگئ تھی۔وہ دوبارہ خاموشی سے جوتے پہننے لگی تھی۔اسکا دوپٹہ زمیں کو چھو رہا تھا۔ جسے اٹھانے کے اس نے جتنے جتن کیے بےکار گئے۔ وہاج اٹھ کر اسکے پاس آگیا اور سامنے سے کرسی کھینچتے ہویے اسکے مخملی پاوں پکڑ لیے اور اس میں جوتے پہنانے لگا۔ "وہاج میں۔۔۔۔” اس مے کہنے کےلیے لب کھولے۔جب اس نے مسکرا کر اپنی بات کاٹی۔” تم کیوں مشرقی بیویوں کی طرح مجھے اپنے پاوں پر ہاتھ رکھنے میرا مطلب ہے جوتا پہنانے سے روک رہی ہو جبکہ ہمارے درمیان ایسا کوئ رشتہ ہی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے اچھا لگا کہ تم نے مجھے اپنی دوسری بیوی ہی سہی بیوی تو کہا”وہ مسکراتے ہوئے اب اسکے دوسرے پاوں میں جوتا پہنا رہا ےتھا۔اس نے اسکے پاوں زمین پر رکھے تو وہ کھڑی ہو گئ۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئ تو وہاج بیڈ کے قریب چلا گیا۔مائرہ نے اندر جھانکا۔ "بھائ بھابھی کو لے کر ہال آجائیں۔سب جارہے ہیں” وہ دونوں اسکے پیغام پر اسی کے پیچھے چل دیے۔
ہال ہر طرف روشنیوں میں نہایا ہوا تھا ۔مکسڈ گیدرنگ کی وجہ سےانوشے نے نقاب کیا ہوا تھا جبکہ مرحا نے گھونگھٹ نکالا ہوا تھا۔ وہاج اسے چھوڑ کر ناجانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔اتنے بڑے ہال میں اسے امی اور ھبہ بھی نظر نہیں آرہی تھیں اور مرحا کیساتھ نیلوفر بیگم اور شاید انہی کی چند دوستیں موجود تصویریں بنوارہی تھیں۔لہزا وہ وہاں جاکر بھی عزت افزائ نہیں کرواسکتی تھی۔ وہ پریشان کھڑی چاروں طرف نظریں گھما رہی تھی جب ساتھ والی ٹیبل سے کچھ عوروں کی سماعت اسکے کانوں سے ٹکرای۔ ” یہ لڑکی ہی وہاج کی بیوی ہے نا۔”پہلی عورت نے دریافت کیا۔ ” ہاں ہاں یہی ہے۔دیکھو کیسے شریف او ر پارسا بنے ہوئے نواب اوڑھے ہویے ہے۔ لیکن وہاج نے اسی کی خاطر بچاری مزیشہ کو قتل کیا تھا۔وہ اسے شاہد شادی کرنے سے منع کررہی تھی۔” دوسرئ عورت نے اطلاع باہم پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔”ایسئ ہی چالاک ہوتی ہیں یہ مڈل کلاس لڑکیاں۔اسی نے ہی وہاج کو پھنسایا ہو گا” ہہلی عورت نے اپنے خیالات گوش گزارے۔ انوشے کا دل کیا لہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ایسا نہیں تھا کہ اسکے پاس جوابوں کی کمی تھی۔لیکن وہ تماشا نہیں کرنا چاہتی تھی۔یہاں میڈیا سے تعلق رکھنے والوں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہاں کوئ کہنے کا مطلب انہیں بریکنگ نیوز دینا تھا جو وہ اگلے دن مرچ مصالحے کیساتھ پیش کرتے ” آنٹی جی مڈل کلاس کے لوگ تو ہوتے ہی ایسے ہیں لیکن آپ تو ایک ایلیٹ اور بو ثرو کلاس سے بلانگ کرتے ہیں نا پھر اتنی سطحی سوچ آپ لوگوں کی کیسے؟ ھبہ نجانے کب وہاں آئ۔اسے خیالوں میں خبر ہی نہ ہوئ۔ ان میں سے ایک عورت نے بولنے کی کوشش کی لیکن ھبہ نے ہاتھ روک اٹھا کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ ” "میری بہن کو چیپ حرکتیں کرنے کی کوئ ضرورے نہیں تھی اسکے لیے ایک سے ایک بڑھ کر رشتہ موجود تھا۔” ابھی وہ کچھ اور کہتی ان میں سے ایک عورت بول پڑی۔” ہاں ہاں جانتے ہیں کتنےرشتے آئے تھے ایک منگیتر نے تو اسکی چال چلن دیکھ کر ہی منگنی توڑ دی تھی۔یہ تو وہاج کی سادگی تھی کہ اس نے اس جیسی بدکردار سے شادی کی تھی۔ورنہ کون کرتا ۔ ” وہ عورت نجانے کیا بول رہی تھی ۔انوشے ساکت وجامد کھڑی رہی۔اس عورت کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ آس پاس کی ٹیبلز والوں نے نظریں اٹھا کر انکی جانب دیکھا تھا۔اب کی بار ھبہ بھی شروع ہو چکی تھی۔ ” ھبہ پلیز خاموش ہو جاو۔”اب کی بار وہ اسے خاموش کرانے کے جتن میں تھی۔ لیکن وہ تھی کہ خاموش نہیں ہورہی تھی۔”تمہیں ابو کا واسطہ ھبہ” اس نے بلآخر تنگ آکر کہا تو وہ بے یقینی سے انکی جانب دیکھنے لگی وہ جو خود انکو ابو کا واسطہ دینے سے منع کررہی تھی۔آج خود دت رہی تھی۔وہ بھی اپنے ابو کا۔۔۔۔ ھبہ تو خاموش ہوگئ لیکن اس وقت اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لانے لگی لیکن وہ تو اسی وقت بے حس وحرکت ہوگئ تھی جب اپنے پیچھے موجود ساکت وہاج کو دیکھا۔ھبہ اس پر ایک نظر ڈالتی اسے باہر گھسیٹ لائ۔ اور اس اکی نظر میں وہاج نے بہت کچھ محسوس کیا تھا۔ غصہ،شکوہ،تاسف اور ملامت وہ بھی انکے پیچھے ہولیا۔ھبہ نے پٹخنے والے اندازمیں انوشے کو اپنی گاڑی پر پھینکا تھا۔ اور پھر اسد کو فون ملانے لگی۔”امی کو لے کر پانچ منٹ میں گاڑی میں پہچو۔مزید کوئ بحث نہیں”یہ کہہ کر اسنے فون بند کردیا۔ ” آپ اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے زہر لگتی ہیں پوری دنیا میں ظلم کیخلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ اور اپنی باری پر چپ سادھ لیتی پیں انہیں منہ توڑ جواب دیتں تو پتہ چلتا لوگوں کو پتہ نہیں کہ دوسروں کی لڑکیوں کی زندگی میں زیر گھول کر انہیں کیا ملتا ہے وہ شدید غصے کی حالت میں اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔جبکہ وہ پہلی بار اسکے سامنے آنسو بہارہی تھی۔” آپ بولتی کیوں کچھ نہیں الٹا میں کچھ کہہ رہی تھی تو مجھے روک دیا۔” وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے کہہ رہی تھی۔” کیا بولوں؟ کیا کرتی بتاو۔ مرحا کی شادی کا فنکشن خراب کردیتی۔پہلے ہی تمہیسن نیلوفر آنٹی کا پتہ ہے اب دیکھنا کتنے طعنے دیں گی۔ان کے بیٹے کی بیٹے کی خوشی برداشت نہیں ہوئ۔تماشا لگا دیا۔ وہ تو میرے کردار پر ھو کیچڑ اچھال رہی تھیں سو اچھال۔رہی تھیں صبح جب تمہیں تمہاری بہن کی کردار کشی مزے لے لےکر اینکرز سناتی ہوئ ملیں گی نا تو تم بھی خوب انجوائے کرنا ۔سب نے تماشا ہی تو بنا کر رکھ دیا ہے میرا کبھی تای جان یہ باتیں سناتی ہہیں تو کبھی یہ عورتیں ۔کس کس کو جواب دوں ۔صفائیاں دوں اور کیوں دوں میں جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں پے ۔میں تھک گئ ہوں ھبہ میں بہت تھک گی ہوں۔ وہ ہزیانی انداز میں چلاتے ہوئے آخر میں ھبہ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونےلگی۔تو ھبہ لی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ اس نے وہاج کو کھڑے دیکھا تو انوشے کی آنکھیں صاف کرتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی۔ "اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت ) سے جو انہوں نے کیا ہی نہ ہو ایزا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔”
وہاج انکی طرف بڑھا۔” آو انوشے گھر چلیں۔” اس نے انوشے کو مخاطب کیا۔ ” آپی آپ کیساتھ نہیں جائیں گی وہ ہمارے ساتھ جائیں گی۔”ھبی نے سپاٹ چہرے سے جواب دیا تو وہ حیران ہوا۔ ” کیوں؟” ” کیوں کا جواب خود سے پوچھیں تو بہتر ہے۔” اس نے اسی انداز میں کہا۔ ” ھبہہ۔۔۔۔۔۔۔” انوشےنے کچھ کہنے کی کوشش کی تو اسنے خاموش کروادیا۔:”آپی پلیز آپ کچھ مت کہیں اور وہاج بھائ مجھے آپ سےیہ امید نہیں تھی۔وہ دونوں عورتیں آپی کو اتنا برا بھلا کہہ رہی تھیں اور آپ دم سادھے کھڑے تھے۔ آپ نے انہیں جواب دینے کی کوئ ضرورت نہیں پیش کی۔” وہ شکوہ کررہی تھی۔اسد اور فرح پیچھے ہی کھڑے ہو گیے تھے۔ وہ بے حد شاکڈ تھا۔ ” ھبہ میں وہ سب سن کر اتنا شاکڈ تھا کہ کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کروں۔” وہ اپنی صفائ پیش کررہا تھا۔جوابا اس نےمنہ موڑ لیا تھا۔” لیکن پھر بھی میری غلطی تھی ۔آئ ایم سوری۔” اس نے سر جھکا کر کہا۔” نہیں بیٹا آپکی کوی غلطی نہئں تھی۔شادی بیاہوں میں تو ایسئ باتیں ہو جایا کرتی ہیں۔” انہوں نے آگے بڑھ کر بات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ ھبہ نے کوی ردعمل نہ دیا۔ اس نے ایک بار پھر کوشش کی۔ ” اچھا ایک کام کرتے ہیں۔ہم۔سب آئسکریم کھانے چلتے ہیں ابھی۔۔۔! اس نے مسکرا کر کہا لیکن ان سب کے بجھے چہرے دیکھ کر اسکا بھی موڈ آف ہو گیا۔ "ھبہ بھائ کہہ رہے ہیں تو مان جاو نا۔” اسد نے آگے بڑھ کر اسے سمجھانے کی کوشش کی۔
گھر میں عون اور مرحا کی شادی کی تیاری زوروشور سے جاری تھیں۔ کئ دنوں بعد مائرہ آور انوشے کو فراغت کے لمحات نصیب ہویے تھے۔لہزا اب وہ دونوںساتھ ہی لاونج میں موجود تھیں۔ "تو پھر مائرہ تم نے کوشش کی؟” انوشے اس سے معلوم۔کررہی تھی۔”میں نہیں کرسکتی یہ مشکل ہے میں نے کوشش کی تھی۔” اس نے بے بسی سے کہا۔ ” کیوں نہیں ہوسکا؟”وہ پرسکون انداز میں پوچھ رہی تھی۔ ” پتہ نہیں کیوں؟ لیکن اب نہیں ہو گا میں جانتی ہوں۔ میں نہ تو نماز باقاعدگی سے پڑھتی ہوں اور نہ گناہ چھوڑنے کی کوششیں کامیاب ہوتی ہوں۔جبکہ میں نے کتنی کوشش کی۔” وہ سکت دل گرفتی سے کہہ رہی تھی۔ ” کوشش کرتی رہو۔”اس نے نفی میں سر ہلایا۔تواس نے گہری سانس لی۔ "جانتی ہو سورت حدید میں اللہ تعالی کیا فرماتا ہے۔اللہ تعالی سورت حدید میں ایک منظر بیان کیا ہے۔جس میں کچھ ایسے لوگوں کا حال۔بتاتا ہے جو جنت کی طرف روانہ تھے۔اچانک انکے آگے ایک دیوار آگرتی ہے۔مومنین دیوار کی دوسری طرف ہوتے ہیں۔جبکہ کچھ لوگ دیوار میں پھنس جاتے ہیں۔اور آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں وہ مومنین کو پکار تے ہیں اور کہتے ہیں۔کہ ایسا کیوں ہوا ہے۔ ہم تو تم کوگوں کیساتھ تھے۔جس سے وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ تم لوگ ہمارے ساتھ تھے۔مگر ایسا اس لیے ہوا کہ تم لوگ فتنے میں مبتلا تھے۔ تم کہتے تھے کہ میں خود کو بدل۔لوں گا۔حرام چھوڑ دوں گا۔مگر تم ایسا نہیں کرتے تھے تم ملتوی کیے جاتے تھے۔ کہ کل کروں گا۔۔اس کام۔کے بعد کروں گا۔لیکن تم نہیں کرتے تھے۔تم۔نیک لوگوں کے درمیان تو تھے۔لیکن تم دین اسلام کو سیرئیس نہیں لیتے تھے۔تم ضروری احکام کو اگنور کردیتے تھے۔اسے ملتوی کرتے جاتے تھے۔لگتا تھا کہ جو تھوڑی بہت عبادت اور دعا تم کرتے تھے اسکے بدلے تمہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ تمہیں تمہاری سوچ نے گمراہ کیا۔یعنی کہ اللہ کا حکم آگیا۔تمہیں تو پکا یقین تھا کہ تمہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا۔مگر آج دیکھو کہ کیا ہو گیا ہے؟” وہ سانس لینے کورکی۔ ” ہم وہ لوگ کیسے نہیں کہ جنہیں سوچ گمراہ نہ کرے؟ہمیں کیسے معلوم۔ہوگا کہ ہم سب سیدھی راہ پر ہیں؟ ہمیں کیسے پتہ لگے گا کہ ہم دیوار کے پیچھے ہوں گے یا آگے؟۔کیا ہمیں معلوم ہے کہ ہماری قبولیت کے قابل توبہ ہے بھی کہ نہیں” وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنی محو تھیں کہ انہیں وہاں وہاج کے آنے کا علم ہی نہ ہوسکا۔علماء کا کہنا ہے کہ توبہ کے متعلق ہر شے سورت زمر میں بیان کردی گئ ہے۔ میں چند آیت تمہارے سامنے رکھوں گی جو ہر کسی کے لیے امید کا ذریعہ ہئں۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں۔
” (اے پیغمبر میرے طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا۔خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔اور وہ بخشنے والا مہربان ہے۔”
"کہو ان سے کہ جنہوان نے اپنی جان پر زیادتی کی ہے”
عربی میں اسراف حد پار کرنے کو کہتے ہیں حد پار کرنا یعنی اپنے آپ پر زیادتی کرنا۔
یعنی ایسا کام جو نہیں کرنا چاہیے تھا کسی بھی طرح کا کام۔یہاں پر اللہ اسراف کی جگہ گناہ بھی کہہ سکتے تھے ہیں نا؟ مگر اسراف کہا گیا ہے۔اسراف تب ہوتا ہے جب انسان اپنے فائدے کےلیے کوئ کام کرتا ہے۔ آیت میں بتایا جاریا ہے کہ اپنا کر تم لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہو۔تمہیں لگ رہا ہے کہ اس سے تم اپنا فائدہ وصول کرتے ہو۔لیکن اس سے تمہیں نقصان ہو رہا ہوتا ہے۔ مثلا حرام کمائ لے لو۔انسان سمجھتا ہے کہ حرام کما کر رہ پیسے بنارہا ہے۔امیر ہو رہا ہے۔وہ امیر ہونے کےلیے پیسے حرام میں کماتا ہے۔لیکن بتاو وہ کیا کررہا ہوتا ہے۔ وہ رزق حلال کا انتخاب نقصان سمجھ کر نہین کرتا۔جبکہ حرام ہی نقصان پہنچاتا ہے اسے۔اس سے ذہنی کوفت میں مبتلا رہتا ہے۔سکون قلب کو ترستا ہے۔راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے۔اگر بچے ہوں تو وہ نافرمان بن جاتے ہیں۔اسکے لیے بڑی آزمائش بم جاتے ہییں۔
اگر ہم اس بات کا اقرار کر لیتے ہیں کہ ہم نے حد پار کی تو اللہ تعالی فرماتا ہے کہ”اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔” ہم اس سے کیا سیکھتے ہیں۔گناہ برے اعمال ہمیں پریشان کردیتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالی ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گااور اس سوچ کے باعث ہم استغفار کو بالکل چھوڑ دیتے ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ جسطرح کے کام میں ہم مبتلا ہیں اسکے بعد معافی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہم۔سوچتے ہیں کہ ہم گناہ سے نکل ہی نہیں سکتے تو پھر معافی کیسے مانگیں؟ اللہ تعالی فرماتاہے "میری رحمت سے مایوس مت ہو” اللہ نے تم سے محبت کرنا تم پہ رحم کرنا نہیں چھوڑا ہے۔اللہ ہمیں سزا نہیں دینا چاہتا ہہ ہماری وجہ سے ہمیں لگتا ہے کہ اللہ بس ہمیں سزا دینا چاہتا ہے۔ خاص طور پر تم یہ بات بہت سوچتی ہو۔” اس نے اسے کہا تو وہ شرمندگی سے مسکرا دی ۔اور پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوئ کہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ "اللہ تعالی نے ہم سب کےلیے ہر ایک کےلیے جنت میں گھر بنا کر رکھا پے۔ وہ گھر ہمارا منتظر ہے۔ہمارا خاندان وہاں ہہ ہمارا منتظر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمین جنت کی گارنٹی دیے رکھی ہے۔ بس ہم میں سے کچھ کوگ وہاں جانا نہیں جاہتے۔اسلیے وہاں یہ اتنے گھر خالی تہ جائیں گے۔ کیونکہ کچھ کوگ وہاں جانا ہی نہیں چاہتے وہ امید کھو دیتے ہیں۔اور وہ خالی گھر وراثت میں دے دیے جائیں گے۔” ا نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے پوچھا۔ ” کچھ سمجھی” تو اس نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔ انوشے نے گردن گھما کر دیکھا تو سامنے ہی وہاج نظر آرہا تھا۔وہ اٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گئ۔تو وہ بھی سر جھٹکتا مائرہ کیساتھ صوفے پر بیٹھ گیا.
اگلے چند دن نہایت ہی مصروف گزرے۔مرحا وغیرہ کیساتھ شاپنگ کرنے اور جاب سے اسے گرصت ہی نصیب نہیں ہوئ۔بلآخر مرحا اور عون کی شادی کا دن آن پہنچا۔ انوشے ڈریسنگ ٹیبل۔کےسامنے کھڑی بال بنا رہی تھی جب وہاج کمرے میں داخل۔ہوا۔اس نے نظر اٹھا کر دیکھا جو اپنی آستین موڑے کمرے میں داخل ہورہا تھا۔ اسے سامنے دیکھ کر رک گیا۔وہ آج وائٹ شلوار قمیض میں بے حد سنجیدہ لگ رہا تھا۔ کلین شیو اس نے آج صبح ہی کی تھی۔پاوں میں کھسا پہنے وہ اسکے دل۔کے تار چھیڑ گیا تھا۔ وہ یک ٹک اسکی جانب دیکھ رہا تھا۔اسکے بال پیچھے کی جانب سلیقے سے سیٹ کیے گئے تھے۔اسکی بھوری آنکھوں کی چمک اسکو خیرا کررہی تھی۔اسکے گلابی ہونٹوں پر چمکنے والی مسکراہٹ نے اسکا ارتکاز توڑا وہ آگے بڑھا اور اسکے پیچھے آئینے میں کھڑا ہوگیا۔انوشے انگوری رنگ کے ڈریس میںملبوس تھی جو مرحا نے ضد کر کے لیا تھا۔اور وہ اسے نہ پہنتی یہ ممکن ہی نہیں تھا۔گلے پر بھاری کام تھا اور گھیرے پر سفید نگوں کا کام۔بےحد خوبصورت لگ رہا تھا۔ وہاج نے بغور اسکے ہونٹوں پر گلابی لپ اسٹک دیکھی۔ وہ عام۔دنوں میں بھی وہی رنگ یوز کرتی تھی شاید اسے تیز رنگ پسند نہیں تھے۔ آنکھوں پر لائنر اور مسکارا اسکی ہرنی جیسئ آنکھوں کو مزین کررہے تھے۔ گالوں لر ہلکا سا بلش آن اور یارتھوں میں ڈھیر سارئ جوڑیاں جس سے وہ اب کانوں میں جھمکے ڈال رہی تھی۔اسکی موجودگی کی وجہ سے کمبخت ہاتھ بھی لرز رہے تھے۔ ” کیا مسئلہ ہے کیا چاہیے؟” وہ بلآخر زچ ہو کر بولی تو وہ مسکراتے ہوئے جھک کر ڈریسنگ ٹیبل سے اپنی گھڑی اٹھانے لگا۔ اور ہھر اسکو اٹھاتے بیڈ لر بیٹھ گیا۔اسکا جو خیال تھا کہ وہ گھڑی اٹھا کر چلا جایے گا اسے بیٹھتا دیکھ کر اسے مزید غصہ آیا۔” کیا چاہیے اب؟” اس نے چڑ کر بولا۔” خوبصورت بیوی۔”وہ برخستہ بولا۔پہلے تو وہ کتنی دیر حیرانی میں کھڑی رہی پھر طنزیہ بولی۔ "تو جاو لے آو۔تیسری خوبصورت بیوی تمہیں تو ویسے بھی شادیوں کا شوق ہے۔” اس کے طنز کو اس نے شہد کا گھونٹ سمجھ کر پیا تھا۔ ” سوچ کو باہر اتنی خوبصورت لڑکیاں آئ ہوی ہیں۔ موقع بھی ہے دستور بھی۔کہیں واقعی کوئ ایک اڑا نہ لوں۔” اسنے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔ "ارت دیر کس بات کی ہے۔آو نا ساتھ چلتے ہیں۔جس لڑکی پہ ہاتھ رکھو گے اس سے نکاح پڑھوا دوں گی۔آج تو نکاح خواں بھی آرہے ہیں۔مسئلہ ہی کوئ نہیں ہے۔” وہ ڈریسنگ ٹیبل سے ہٹ کر اسکے سامنے کھڑی اطمنیان سے کہہ رہی تھی۔ ” استغفراللہ کیسے دن آگئے ہیں۔بیوی ہی شوہر کی شادی کے لیے اتنی بے تاب ہورہی ہے۔ قیامت کی نشانی ہے۔”اس نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ ” ہاں اور دوسری بیوی کے سامنے تیسری بیوی کی بات کرنا بھی قیامت کی نشانی نہیں ہے۔” اس نے طنز کا تیر پھینکا اور خود اپنے مخملی پاوں میں جوتا پہننے لگی۔ "تم جیلس ہو رہی ہو؟” اس نے مزے سے کہا۔”کس سے تمہاری تصوراتی تیسری بیوی سے؟” اس نے مزاق اڑانے والے انداز میں کہا۔ ” ارے تصوارتی کیوں لیزا ہے نا مما کی پسندیدہ لڑکی بھی ہے۔اور خوبصورت بھی پے۔” اس نے اسی انداز میں کہا لیکن انوشے کے پاوں لو سست ہوتے ہاتھ اسے خاموش ہونے پر مجبور کرگئے۔اسے یکلخت احساس ہوا تھا کہ اس سے سنگین غلطی ہوگئ تھی۔وہ دوبارہ خاموشی سے جوتے پہننے لگی تھی۔اسکا دوپٹہ زمیں کو چھو رہا تھا۔ جسے اٹھانے کے اس نے جتنے جتن کیے بےکار گئے۔ وہاج اٹھ کر اسکے پاس آگیا اور سامنے سے کرسی کھینچتے ہویے اسکے مخملی پاوں پکڑ لیے اور اس میں جوتے پہنانے لگا۔ "وہاج میں۔۔۔۔” اس مے کہنے کےلیے لب کھولے۔جب اس نے مسکرا کر اپنی بات کاٹی۔” تم کیوں مشرقی بیویوں کی طرح مجھے اپنے پاوں پر ہاتھ رکھنے میرا مطلب ہے جوتا پہنانے سے روک رہی ہو جبکہ ہمارے درمیان ایسا کوئ رشتہ ہی نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی مجھے اچھا لگا کہ تم نے مجھے اپنی دوسری بیوی ہی سہی بیوی تو کہا”وہ مسکراتے ہوئے اب اسکے دوسرے پاوں میں جوتا پہنا رہا ےتھا۔اس نے اسکے پاوں زمین پر رکھے تو وہ کھڑی ہو گئ۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئ تو وہاج بیڈ کے قریب چلا گیا۔مائرہ نے اندر جھانکا۔ "بھائ بھابھی کو لے کر ہال آجائیں۔سب جارہے ہیں” وہ دونوں اسکے پیغام پر اسی کے پیچھے چل دیے۔
ہال ہر طرف روشنیوں میں نہایا ہوا تھا ۔مکسڈ گیدرنگ کی وجہ سےانوشے نے نقاب کیا ہوا تھا جبکہ مرحا نے گھونگھٹ نکالا ہوا تھا۔ وہاج اسے چھوڑ کر ناجانے کہاں غائب ہو گیا تھا۔اتنے بڑے ہال میں اسے امی اور ھبہ بھی نظر نہیں آرہی تھیں اور مرحا کیساتھ نیلوفر بیگم اور شاید انہی کی چند دوستیں موجود تصویریں بنوارہی تھیں۔لہزا وہ وہاں جاکر بھی عزت افزائ نہیں کرواسکتی تھی۔ وہ پریشان کھڑی چاروں طرف نظریں گھما رہی تھی جب ساتھ والی ٹیبل سے کچھ عوروں کی سماعت اسکے کانوں سے ٹکرای۔ ” یہ لڑکی ہی وہاج کی بیوی ہے نا۔”پہلی عورت نے دریافت کیا۔ ” ہاں ہاں یہی ہے۔دیکھو کیسے شریف او ر پارسا بنے ہوئے نواب اوڑھے ہویے ہے۔ لیکن وہاج نے اسی کی خاطر بچاری مزیشہ کو قتل کیا تھا۔وہ اسے شاہد شادی کرنے سے منع کررہی تھی۔” دوسرئ عورت نے اطلاع باہم پہنچانا اپنا فرض سمجھا۔”ایسئ ہی چالاک ہوتی ہیں یہ مڈل کلاس لڑکیاں۔اسی نے ہی وہاج کو پھنسایا ہو گا” ہہلی عورت نے اپنے خیالات گوش گزارے۔ انوشے کا دل کیا لہ زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔ایسا نہیں تھا کہ اسکے پاس جوابوں کی کمی تھی۔لیکن وہ تماشا نہیں کرنا چاہتی تھی۔یہاں میڈیا سے تعلق رکھنے والوں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یہاں کوئ کہنے کا مطلب انہیں بریکنگ نیوز دینا تھا جو وہ اگلے دن مرچ مصالحے کیساتھ پیش کرتے ” آنٹی جی مڈل کلاس کے لوگ تو ہوتے ہی ایسے ہیں لیکن آپ تو ایک ایلیٹ اور بو ثرو کلاس سے بلانگ کرتے ہیں نا پھر اتنی سطحی سوچ آپ لوگوں کی کیسے؟ ھبہ نجانے کب وہاں آئ۔اسے خیالوں میں خبر ہی نہ ہوئ۔ ان میں سے ایک عورت نے بولنے کی کوشش کی لیکن ھبہ نے ہاتھ روک اٹھا کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ ” "میری بہن کو چیپ حرکتیں کرنے کی کوئ ضرورے نہیں تھی اسکے لیے ایک سے ایک بڑھ کر رشتہ موجود تھا۔” ابھی وہ کچھ اور کہتی ان میں سے ایک عورت بول پڑی۔” ہاں ہاں جانتے ہیں کتنےرشتے آئے تھے ایک منگیتر نے تو اسکی چال چلن دیکھ کر ہی منگنی توڑ دی تھی۔یہ تو وہاج کی سادگی تھی کہ اس نے اس جیسی بدکردار سے شادی کی تھی۔ورنہ کون کرتا ۔ ” وہ عورت نجانے کیا بول رہی تھی ۔انوشے ساکت وجامد کھڑی رہی۔اس عورت کی آواز اتنی اونچی ضرور تھی کہ آس پاس کی ٹیبلز والوں نے نظریں اٹھا کر انکی جانب دیکھا تھا۔اب کی بار ھبہ بھی شروع ہو چکی تھی۔ ” ھبہ پلیز خاموش ہو جاو۔”اب کی بار وہ اسے خاموش کرانے کے جتن میں تھی۔ لیکن وہ تھی کہ خاموش نہیں ہورہی تھی۔”تمہیں ابو کا واسطہ ھبہ” اس نے بلآخر تنگ آکر کہا تو وہ بے یقینی سے انکی جانب دیکھنے لگی وہ جو خود انکو ابو کا واسطہ دینے سے منع کررہی تھی۔آج خود دت رہی تھی۔وہ بھی اپنے ابو کا۔۔۔۔ ھبہ تو خاموش ہوگئ لیکن اس وقت اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لانے لگی لیکن وہ تو اسی وقت بے حس وحرکت ہوگئ تھی جب اپنے پیچھے موجود ساکت وہاج کو دیکھا۔ھبہ اس پر ایک نظر ڈالتی اسے باہر گھسیٹ لائ۔ اور اس اکی نظر میں وہاج نے بہت کچھ محسوس کیا تھا۔ غصہ،شکوہ،تاسف اور ملامت وہ بھی انکے پیچھے ہولیا۔ھبہ نے پٹخنے والے اندازمیں انوشے کو اپنی گاڑی پر پھینکا تھا۔ اور پھر اسد کو فون ملانے لگی۔”امی کو لے کر پانچ منٹ میں گاڑی میں پہچو۔مزید کوئ بحث نہیں”یہ کہہ کر اسنے فون بند کردیا۔ ” آپ اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے زہر لگتی ہیں پوری دنیا میں ظلم کیخلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ اور اپنی باری پر چپ سادھ لیتی پیں انہیں منہ توڑ جواب دیتں تو پتہ چلتا لوگوں کو پتہ نہیں کہ دوسروں کی لڑکیوں کی زندگی میں زیر گھول کر انہیں کیا ملتا ہے وہ شدید غصے کی حالت میں اسے جھنجھوڑ رہی تھی۔جبکہ وہ پہلی بار اسکے سامنے آنسو بہارہی تھی۔” آپ بولتی کیوں کچھ نہیں الٹا میں کچھ کہہ رہی تھی تو مجھے روک دیا۔” وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے کہہ رہی تھی۔” کیا بولوں؟ کیا کرتی بتاو۔ مرحا کی شادی کا فنکشن خراب کردیتی۔پہلے ہی تمہیسن نیلوفر آنٹی کا پتہ ہے اب دیکھنا کتنے طعنے دیں گی۔ان کے بیٹے کی بیٹے کی خوشی برداشت نہیں ہوئ۔تماشا لگا دیا۔ وہ تو میرے کردار پر ھو کیچڑ اچھال رہی تھیں سو اچھال۔رہی تھیں صبح جب تمہیں تمہاری بہن کی کردار کشی مزے لے لےکر اینکرز سناتی ہوئ ملیں گی نا تو تم بھی خوب انجوائے کرنا ۔سب نے تماشا ہی تو بنا کر رکھ دیا ہے میرا کبھی تای جان یہ باتیں سناتی ہہیں تو کبھی یہ عورتیں ۔کس کس کو جواب دوں ۔صفائیاں دوں اور کیوں دوں میں جب میں نے کچھ کیا ہی نہیں پے ۔میں تھک گئ ہوں ھبہ میں بہت تھک گی ہوں۔ وہ ہزیانی انداز میں چلاتے ہوئے آخر میں ھبہ کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونےلگی۔تو ھبہ لی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔ اس نے وہاج کو کھڑے دیکھا تو انوشے کی آنکھیں صاف کرتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی۔ "اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت ) سے جو انہوں نے کیا ہی نہ ہو ایزا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔”
وہاج انکی طرف بڑھا۔” آو انوشے گھر چلیں۔” اس نے انوشے کو مخاطب کیا۔ ” آپی آپ کیساتھ نہیں جائیں گی وہ ہمارے ساتھ جائیں گی۔”ھبی نے سپاٹ چہرے سے جواب دیا تو وہ حیران ہوا۔ ” کیوں؟” ” کیوں کا جواب خود سے پوچھیں تو بہتر ہے۔” اس نے اسی انداز میں کہا۔ ” ھبہہ۔۔۔۔۔۔۔” انوشےنے کچھ کہنے کی کوشش کی تو اسنے خاموش کروادیا۔:”آپی پلیز آپ کچھ مت کہیں اور وہاج بھائ مجھے آپ سےیہ امید نہیں تھی۔وہ دونوں عورتیں آپی کو اتنا برا بھلا کہہ رہی تھیں اور آپ دم سادھے کھڑے تھے۔ آپ نے انہیں جواب دینے کی کوئ ضرورت نہیں پیش کی۔” وہ شکوہ کررہی تھی۔اسد اور فر. ح پیچھے ہی کھڑے ہو گیے تھے۔ وہ بے حد شاکڈ تھا۔ ” ھبہ میں وہ سب سن کر اتنا شاکڈ تھا کہ کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کروں۔” وہ اپنی صفائ پیش کررہا تھا۔جوابا اس نےمنہ موڑ لیا تھا۔” لیکن پھر بھی میری غلطی تھی ۔آئ ایم سوری۔” اس نے سر جھکا کر کہا۔” نہیں بیٹا آپکی کوی غلطی نہئں تھی۔شادی بیاہوں میں تو ایسئ باتیں ہو جایا کرتی ہیں۔” انہوں نے آگے بڑھ کر بات کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ ھبہ نے کوی ردعمل نہ دیا۔ اس نے ایک بار پھر کوشش کی۔ ” اچھا ایک کام کرتے ہیں۔ہم۔سب آئسکریم کھانے چلتے ہیں ابھی۔۔۔! اس نے مسکرا کر کہا لیکن ان سب کے بجھے چہرے دیکھ کر اسکا بھی موڈ آف ہو گیا۔ "ھبہ بھائ کہہ رہے ہیں تو مان جاو نا۔” اسد نے آگے بڑھ کر اسے سمجھانے کی.
جاری ہے….


