سردار شیر بہادر خاں قیصرانی کی پیدائش December 13,…

December 13, 1930
وفات
June 21, 2010
رشید قیصرانی سات شعری مجموعوں کے خالق تھے تاہم اس ادبی تجارت اور بے بصر عہد کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے بہت عرصہ سے گوشہ نشینی کا شکار تھے-
انہوں نے پاکستان کی فضائیہ میں بھی خدمات سر انجام دیں اور اسی عشرے کے اوائل میں اپنے اسلام آباد کے قیام میں راولپنڈی اسلام آباد کے بڑے بڑے مشاعروں میں شرکت کی جہاں انکے ہمعصروں میں جمیل ملک، احمد شمیم، احمد ظفر،سید فیضی اور ایسے ہی مستند شعراء شامل تھے-
انہوں نے کچھ عرصے تک نیشنل کونسل آف دی آرٹس میں بھی خدمات سر انجام دیں-
ان کا یہ شعر آج بھی اہل ادب کے لیئے انکی پہچان کی حیثیت رکھتا ہے:-
؎
پڑھتا رہا نماز سمجھ کر _______ اسے رشید
پھر یوں ہوا کہ مجھ سے، قضا ہو گیا وہ شخص
آپ ٢١ جون کو ملتان میں انتقال فرما گئے-
نمونہ اشعار
…..
کون کہتا ہے ترے دِل میں اُتر جاؤں گا
میں تو لمحہ ہوں تجھے چُھو کے گذر جاؤں گا
===
سَر اپنا جُھکایا نہیں اُس مُوج نے تب سے
لَوٹی ہے ترا نقشِ قدم چُوم کے جب سے
===
کہیں تھم نہ جائیں یہ بارشیں کہیں چھٹ نہ جائے یہ امر بھی
میری چشم ِ تر کے حفیظ اب میرے آنسوؤں کا حساب کر
===
مُدت ہوئی ہے یوں تو کہانی سُنا چکے
اٹکا ہوا ہے لب پہ مگر لفظ آخری
===
وہ تو پھر غیر تھا، غیروں سے شکایت کیا ہو
نبض اپنی بھی مِرے ہاتھ نہ آئی پہروں
===
تُو چُپ ہے آسمان پہ اے دیدۂ بصیر
میں قید ہوں زمین کے اندھے خداؤں میں
رشید قیصرانی

