#لذتِ_عشق #از_سنیا_چوہدری #قسط_نمبر_10 اگلےدن…

#از_سنیا_چوہدری
#قسط_نمبر_10
اگلےدن صبح حرم کا آف تھا کیوں کے اسکے اور وفا کے سبجیکٹ محتلف تھےحرم تو مزے سے سو رہی تھی جب کےوفا اٹھی ت ہوئی تھی لیکن اسکا جانے کا کوئی ارادہ نا تھااسلئے وہ لیٹی رہی لیکن یہ مزہ بھی کچھ ہی پل کا تھا کچھ دیر بعد ملازمہ وفا کو بلانے آئ لیکن اسنےبول دیا کے اسنے نہیں جانا اور خود منہ تک کمبل لپیٹ لیاکچھ ہی منٹ گزرے ہوں گے کے دروازے پے نوک ہوا مگر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی بےحس بن کے لیٹی رہی کچھ ہی پل گزرے کے وفا نے کمبل منہ سےہٹایااور دروا زےکی طرف دیکھا اور شکر کا سانس لیا پڑوہ سانس سینے میں ہی اٹک گیا کیوں کے آریان بلکل اسکے سر پڑ کھڑا تھا اور اسے ہی بغور دیکھ رہا تھااسکے اس طرح دیکھنےپڑ ایک جاندارمسکراہٹ نےاسکے لبوں پڑ احاطہ کر لیا
"تیار کیوں نہیں ہوئی ابھی تک لیٹ ہو گئی تو میں کوئی فیور نہیں کروں گا” (آریان نے مسکرا تے ہوے کہا
"میں نے بھی آپ سے بول دیا تھا کے میں نہیں جاؤں گی”
"کیوں نہیں جاؤ گی کیا اپنی پڑھائی آدھے میں ہی چھوڑ دو گی دیکھو مجھے تو کوئی اعترض نہیں ہوگاتمہارے نا پڑھنے پڑ لیکن بعد میں تمہیں ہی فیل ہوگاکے کہاں میں پی ایچ ڈی اور کہاں تم ” (آریان کا لہجہ ہنوز شرارتی تھا
"میں نے نہیں پڑھنا ہے کہ دیا نا ایک دفع کیوں مجھے تنگ کر رہے ہیں” (وفا نے غصےسے کہا
"تو پھر ٹھیک ہے بابا سے کہتا ہوں کے رخصتی ابھی کر دیں کیوں کے میں تو تمہاری پڑھائی کی وجہ سے منع کررہا تھا ” (آریان نےبغور اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوے کہا
وفااس کے اسطرح کہنے پڑ سٹپٹاگئی اور جلدی سے گھبرا کر اٹھ گئی
"نیچے انتظار کر رہا ہوں 5 منٹ کے اندر تیار ہو کے نیچے پوھنچو”(وہ کہتا ہوا چلا گیا جب کےوفا غصے سے واشروم کی طرف بڑھی اور اگلے 10 منٹ بعد وہ تیارہو کر نیچے آئ احسن آفندی اور آریان دونوں ناشتہ کر رہے تھے وفا نےاحسن صاحب کو سلام کیا
"السلام عليكم بابا” (احسن صاھب کے کہنے پڑ ہی وفا انکو بابا بولتی تھی
"وعلیکم السلام خوش رہو ہمیشہ” (انہوں نے اسکے سر پے پیار کرتے ہوے کہا
"آؤ بیٹھو نا ناشتہ کرو "(احسن آفندی نے کہا
"نہیں بابا بھوک نہیں ہے ابھی کالج میں کچھ کھا لوں گی”
آریان نے وفاکو دیکھا اور دودھ کا گلاس آگے کیا
"جلدی پیو پھر چلتے ہیں پہلے ہی لیٹ ہو چکے ہیں” (آریان نے سنجیدگی سے کہا
وفا نے ایک نظر احسن آفندی کو دیکھا اور دودھ کا گلاس پکڑ لیا
جب کے آریان کو کوئی کال آ گئی تھی جو وہ سنتے ہوے باہر چلا گیا
وفا نے دودھ کا گلاس حتم کیا اور بابا کو اللہ حافظ بولتی باہر آ گئی آگے آریان گا ڑی میں بیٹھا ہوا تھا وفاپچھلے دروازے کی طرف بڑھنے لگی کے آریان ن فرنٹ ڈور کھول دیا وہ غصہ ضبط کرتی آگے بیٹھی اور دروازہ زور سے بند کیا
پورے راستےدونوں کے بیچ خاموشی رہی آریان خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا اور وفاپتا نہیں کن نوٹس میں سر دیے بیٹھی تھی گاڑ ی رکی تو وفا اترنے لگی جب آریان بولا "چھٹی ٹائم میسج کروں گا آجانا اور اگر کوئی پرابلم ہوئی تو مجھے کال کر لینا ”
وہ خاموشی سے اتر کے چلی گئی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کالج آ کے گیلری میں کھڑے ہو کر وہ خوب روئی کچھ ہی دنوں میں اسکی زندگی کیا ہو گئی تھی سب کچھ بدل گیا تھا اب وہ ہر بات میں کسی کی محتاج تھی اسکی زندگی کے فیصلوں کا احتیار ہی اسکے پاس نہیں رہا تھا اور بھائی کو بھی ابھی تک نہیں پتا تھا اگر انھیں پتا چل گیا تو کیا ہوگایہ الگ ٹینشن تھی ابھی وہ انہی سوچوں میں تھی کے اسے اپنے کندھے پڑ کسی کا ہاتھ محسوس ہوا پیچھے مر کر دیکھا تو سارا تھی
"کیا ہوا یہاں کیوں کھڑی ہو کلاس میں نہیں جانا کیا "(سارا نے وفا سے پوچھا
"نہیں کچھ نہیں چلو ”
وہ دونوں کلاس میں آئیں تو لیکچر سٹارٹ تھا سر سے پوچھ کے وہ جا کے سیٹ پے بیٹھ گئیں
دو لیکچر گزر چکے تھے اور وفا کا تو دل کر رہا تھا کے بھاگ جائے کہیں کیوں کے سارے کالج میں اسکے نکاح کی حبر پھیل چکی تھی اور ہر کوئی اسے مبارک باد دے رہا تھا
"چلو یار میتھ کا لیکچر ہونے والا ہے لیٹ پوھنچے تو سر نے کلاس میں نہیں جانےدینا”
سارا کی بات پے وفا حیران ہوئی
"پہلے تو سر نے کبھی لیٹ آنے پے باہر کھڑا کیا تو اب کیوں ؟”
"بیل ہو گئی یار جلدی چلو خود دیکھ لینا” (سارا نے کہا وہ دونوں تیز تیز چلتے ہوے کلاس میں پہنچیں اور جلدی جلدی جا کے سیٹ پے بیٹھ گئیں کچھ ہی پل میں کلاس میں ہل چل مچ گئی سارے جلدی جلدی اپنی سیٹوں پڑ بیٹھ رہے تھے اور کوئی اپنے فارمولا رٹنے میں مگن تھا وفا حیرانگی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی
اور پھر جب سر کلاس میں داحل ہوے وفا تو صحیح معنوں میں چکرا کر رہ گئی
"یہ ادھر کیا کر رہے ہیں” (وفا نے سارا کے کان میں سرگو شی
"یہی میتھ کا لیکچر لے رہے ہیں تین دن سےاور آگے بھی یہی لیں گے”
آریان نے اٹینڈینس لگانی شرو ع کی
"رول نمبر 16” کلاس میں آواز گونجی
لیکن جس کا رول نمبر تھا وہ تو پتا نہیں کون سہ فارمولا ڈھونڈ رہی تھی بک میں
"رول نمبر 16″ (ایک دفع پھر آواز گونجی
سارا نے وفا کو کہنی ماری
ی یس سر” (وفا یک دم ہوش کی دنیا میں آئ
"اسٹینڈ اپ رول نمبر 16” (سخت لہجے میں کہا گیا
وفا خاموشی سے کھڑی ہو گئی کیوں کے اسے پتا تھا کے اب یہ اچھی خاصی کلاس لے کے چھوڑے گا
"آپ کا ذہن کدھر ہے مجھے سخت نا پسند ہیں اس طرح کے سٹوڈینٹ جو فیزیکلی تو پریزنٹ ہوتے ہیں لیکن مینٹلی نہیں” (وہ بہت غصے سے بول رہا تھا
"سوری سر” (وفا نے آہستگی سے کہا
"آیندہ نا ہو اس طرح سٹ ڈاؤن”
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
Apni ray ka izhar zroor kren
جاری ہے


