ملکی خوشحالی

کونپل حنیف رطبِ فکر آج ایک عزیز کی عیادت کے لیے سرکاری ہسپتال جانا ہوا۔وہاں جو ماجرا دیکھنے کو ملا اس فضا میں سر گھومتا محسوس ہوا پھر اس بات سے ذہن نے تسلی قبول کی انھیں بھی تو دیکھیں جو ایک بیڈ پر دو مریضوں کو لٹایا گیا ۔ ایک زندگی اور موت سے لڑ رہا تو دوسرا درد سے چیخ رہا۔ یوں محسوس ہوا کہ درد والے کی آدھی سانس دوسرے کے ساتھ ہی چلی جائے گی ۔ایک کی بگڑتی حالت دوسرے کو مسلسل خوف میں مبتلا کر رہی تھی یا یوں کہا جائے کہ بیماریوں کی خوب ادلہ بدلی ہو رہی ہے۔ ٹیلی ویژن پر ویسے تو ہمیں بھی بہت آگاہی دیکھنے کو ملتی رہتی ہے جراثیم سے حفاظتی اقدامات کیسے کیے جائیں ۔مگر پتا نہیں یہ آگاہی کب ملے کہ صحت کے ٹھکیداروں اور سیاست کے جراثیموں سے حفاظتی اقدامات کیسے کیے جائیں ۔ارے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔یہ سب اقدامات ملک کی خوشحالی کے لیے ہی تو ہیں۔ پہلے ناقص غذا کی فراہمی ۔بیمار ہو کر ہسپتال پہنچو اور پھر مہنگی ادویات خریدو ۔ آخرمیں دنیا کو الوداع کہہ دیں۔ یہ سب اقدامات کیے گئےہیں آبادی کو کم کرنے کے لیے ۔ جب آبادی کم تو مسائل بھی کم اور پھر آئے گی ملک میں خوشحالی ۔ کوئی دہشت گردی کی زد میں مرا تو کسی کو مہنگائی سے مارو۔ باقی کا مشن سرکاری ہسپتال میں پورا کرنے کا ارادہ لگتا ہے۔ مفت علاج مہنگی ادویات ۔ جہاں نرسیں دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر ادویات سے کاغز یوں بھرتے جیسے میڈیسن کمپنی سے تحفے میں ملی قلمیں ایک ہی دن ختم کرنے کا ارادہ ہو ۔ یہ جانے بغیر اگر اتنی سکت ہو تو وہ سیدھا نجی ہسپتال ہی جائے۔کچھ تو خرید لیتے اور کچھ بنا علاج کروائے موت کا انتظار کرنے لگ جائے۔ سائنس تو ابھی بھی آبادی کے کنٹرول کے لیے کوشش میں ہے مگر جراثیموں نےمکمل اقدامات کر لیے ہیں آبادی کنٹرول اور ملکی خوشحالی کے۔ہر جراثیم بڑی ذمہ داری سے اپنی سیٹ سنبھالے ہوئے اس مشن پر کام میں مصروف ہے ۔ آبادی گھٹاٶ اور ملک کو خوشحال بناٶ۔ ای میل : konpelhanif@gmail.com