منتخب غزلیں

رقصِ شب تاب رات ہنس دیتی ہے با دیدۂ پُرنم ساقی ب…

رقصِ شب تاب

رات ہنس دیتی ہے با دیدۂ پُرنم ساقی
بتّیاں خونِ رگِ تاک کی جب جلتی ہیں
جگمگا اُٹھتی ہے تاریکئ عالم ساقی
جب پیالوں میں چراغوں کی لویں ڈھلتی ہیں

پھول گرتے ہیں سرِ فرش برابر ساقی
ساز کی آنچ پہ رقصندہ شراروں کا گماں
گرمئ رقص سے دمکے ہوئے پیکر ساقی
وہ پسینے کی جھلک دیتی ہوئی کاہکشاں

رقصِ شب تاب سے ہر عضو درخشاں ساقی
برقِ سیّال لچکتی ہوئی شریانوں میں
جیسے ہو جائے سرِ شام چراغاں ساقی
جسمِ رنگیں کے لہکتے شفق سانوں میں

روپ سے پھوٹتا ہے نُور کا تڑکا ساقی
کنول اُن نازنیں ہاتھوں کے لُٹائے ہوئے جَس
جیسے دو چاندوں سے امرت کی ہو برکھا ساقی
ناچتے وقت چھلک جاتا ہے یوں جوبن رس

یہ شب افروز نواؤں کی لپک اے ساقی
زندگی اپنی جوانی پہ خود اِترائی ہوئی
نشّۂ رقص میں چہروں کی دمک اے ساقی
جیسے آئینہ در آئینہ بہار آئی ہوئی

موہنی روپ کی سنگیت کا جادو ساقی
آئینہ زیر و بم رقص کا ہر عضوِ بدن
دلِ بیتاب بدلتے ہوئے پہلو ساقی
دیکھیے پڑتی ہے کس پر نگہِ صاعقہ زن

(فراقؔ گورکھپوری)

المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/