منتخب غزلیں

یہ کیف کیف- محبت ہے کوئی کیا جانے چھلک رہے ہیں نگا…

یہ کیف کیف- محبت ہے کوئی کیا جانے
چھلک رہے ہیں نگاہوں میں دل کے پیمانے

کہانیوں ہی پہ بنیاد ہے حقیقت کی
حقیقتوں ہی سے پیدا ہوئے ہیں افسانے

نہ اب وہ آتش- نمرود ہے نہ شعلہء طور
تری نگاہ کو کیا ہو گیا خدا جانے

ہزار تیری محبت نے رہ نمائی کی
گزر سکے نہ مقام- جنوں سے دیوانے

انہی کو حاصل- یک شہر- آرزو کہئے
مری نگاہ میں آباد ہیں جو ویرانے

تجھے خبر بھی ہے اس دور- خستہ حالی میں
خود اہل- دل ہیں مذاق- وفا سے بیگانے

جنوں فریب- خرد ہے، خرد فریب- نظر
مجھے کہیں کا نہ رکھا مری تمنا نے

(حسیب اشعر دہلوی)
المرسل:-: ابوالحسن علی ندوی(بھٹکلی)

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/