افسانے

ایک بار حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ کہی جارہے تھ…

ایک بار حضرت سری سقطی رحمتہ اللہ علیہ کہی جارہے تھے سخت گرمی تھی اور وقت بھی دوپہر کا تھا ۔ آپ نے سوچا کسی درخت کے نیچے لیٹ کر قیلولہ کیا جاے جب آپ سو گئے تو آپکی آنکھ کسی کی آواز سے کھلی آپ نے چاروں طرف دیکھا لیکن آواز کی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کہاں سے آرہی تھی کچھ وقت مزید جب غور کیا تو پتہ چلا کہ آواز اس درخت سے آرہی ہے جس کے نیچے آپ لیٹے تھے درخت کہہ رہا تھا
” یا سقطی کن مثلی اے سقطی میری طرح ہوجا ”
آپ بڑے حیران ہوے کہ درخت کیسے بول سکتا ہے آپ نے فرمایا ” کیف اکون مثلک میں تیری طرح کیسے بن سکتا ہوں ”
درخت نے کہا "ان الذین یرموننی بالا حجار فارمیھم بالا ثمار اے سری جو لوگ مجھ پہ پتھر پھینکتے ہیں میں انکی طرف اپنے پھل پھینکتا ہوں ”
آپ نے بات سنی تو سوچا کہ اگر یہ درخت اتنے ہی اچھے ہیں تو اللہ پاک نے انکی لکڑی کو دوزح کی غذا کیون بنایا ہے لہذا آپ نے پوچھا
” فکیف مصیرک الی النار اگر تو اتنا ہی اچھا ہے تو تم جہنم کی غذا کیوں ہو؟
درخت نے جب یہ سنا تو کہا اے سری مجھ میں ہزاروں اچھائی ہے لیکن مجھ میں ایک بھت بڑی برائی و خامی ہے جس نے میری تمام اچھائیوں پہ پانی پھیر دیا اللہ تعالی کو میری وہ خامی اتنی ناپسند ہے کہ مجھے جہنم کی غذا بنا دیا۔
میری خامی ہے کہ فاملیت بالھوا ھکذا جدھر ہوا کا رح ہوتا ہے میں اس طرف موڑ جاتی ہوں مجھ میں استقامت نہیں ہے ،
جبکہ قرآن میں اللہ نے فرمایا ہے إن الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا جو لوگ ایمان لاے اور کہا کہ انکا رب اللہ ہے تو وہ اس بات پہ جم گئے۔
استقامت کی اسلام میں بے حد بڑا مقام ہے کئ کئ بار نبی کریم کو اللہ پاک نے بلکل کھل کر کہا کہ آپ جم جاے
فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ
آپ ڈٹ جاے اس بات پہ جس کا آپکو اللہ نے حکم دیا ہے
اللہ ہم سب کو استقامت کی زندگی نصیب فرماے آمین

Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/