منتخب غزلیں

شفیق خلش غزل . مُمکن ہے اِلتجا میں ہماری اثر نہ ہو ایسا نہیں کہ اُس کو ہماری خ…

شفیق خلش
غزل
.
مُمکن ہے اِلتجا میں ہماری اثر نہ ہو
ایسا نہیں کہ اُس کو ہماری خبر نہ ہو

خاک ایسی زندگی پہ کہ جس میں وہ بُت، مِرے
خواب و خیال میں بھی اگر جلوہ گر نہ ہو

وہ حُسن ہے سوار کُچھ ایسا حواس پر!
خود سے توکیا، اب اوروں سے ذکرِ دِگر نہ ہو

ہو پیش رفت خاک، مُلاقات پر ہی جب!
کھٹکا رہے یہ دِل میں کہ بیدادگر نہ ہو

دِل کی ہر اِک تمنّا کی بربادی پرہَمَیں
تشوِیش کم رہے یہ کہ حسرت نگر نہ ہو

ہم سے کہیں کہ، زہر ہے بِسیار گوئی بھی
یہ بات ناگوارِ طبیعت اگر نہ ہو

لے جائے کوشِشوں کی مُقابِل جو پِھر سے پاس !
ڈر ہے رہِ گُریز بھی، وہ رہگُزر نہ ہو

شامِل خشُوع و عِجز بھی کرلیں ذرا حضُور
تکلیف کیا دُعا کی وہ جس میں اثر نہ ہو

کرنے کو زندگی بھی ہو کیا زندگی خلشؔ
پانے کی آرزُو اُنھیں دِل میں اگر نہ ہو

شفیق خلشؔ


Related Articles

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/