منتخب غزلیں
نادیہ عنبر لودھی کا یومِ پیدائش 23 جولائی 1980 ……

نادیہ عنبر لودھی کا یومِ پیدائش
23 جولائی 1980
…
پا بہ جولاں تو ہر اک شخص یہاں ہے عنبرؔ
تری زنجیر ہی کیوں شور بپا کرتی ہے
…
حسین رفعتیں تقسیم کرتا ہے اب بھی
یزید آج بھی رسوائیاں سمیٹتا ہے
….
زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہے
کہاں کی بات کو یہ دل کہاں سمیٹتا ہے
حسین رفعتیں تقسیم کرتا ہے اب بھی
یزید آج بھی رسوائیاں سمیٹتا ہے
وہیں پہ گردشیں رک سکتی ہیں زمانے کی
وہ جست بھرتا ہے اور پر جہاں سمیٹتا ہے
اسے بتانا کہ تم جب کہیں بھی ٹوٹتے ہو
تمہاری کرچیاں کوئی یہاں سمیٹتا ہے
کسی میں نادیہؔ جز عشق اتنا ظرف کہاں
ہے کون بکھرے دلوں کو جو یاں سمیٹتا ہے
……………..
23 جولائی 1980
…
پا بہ جولاں تو ہر اک شخص یہاں ہے عنبرؔ
تری زنجیر ہی کیوں شور بپا کرتی ہے
…
حسین رفعتیں تقسیم کرتا ہے اب بھی
یزید آج بھی رسوائیاں سمیٹتا ہے
….
زمیں لپیٹتا ہے آسماں سمیٹتا ہے
کہاں کی بات کو یہ دل کہاں سمیٹتا ہے
حسین رفعتیں تقسیم کرتا ہے اب بھی
یزید آج بھی رسوائیاں سمیٹتا ہے
وہیں پہ گردشیں رک سکتی ہیں زمانے کی
وہ جست بھرتا ہے اور پر جہاں سمیٹتا ہے
اسے بتانا کہ تم جب کہیں بھی ٹوٹتے ہو
تمہاری کرچیاں کوئی یہاں سمیٹتا ہے
کسی میں نادیہؔ جز عشق اتنا ظرف کہاں
ہے کون بکھرے دلوں کو جو یاں سمیٹتا ہے
……………..



